تعلیمی اداروں کو منہدم کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں:مسلم لیگ

تعلیمی اداروں کو منہدم کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں:مسلم لیگ

تعلیمی اداروں کو منہدم کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں:مسلم لیگ
انتظامیہ فیصلہ واپس لے اور قانونی و آئینی راستہ اختیار کرے: مولانا نثار احمد نقشبندی
آئی یو ایم ایل دہلی پردیش کی تعزیتی نشست میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو مسمار کرنے کے نوٹس کی شدید مذمت

نئی دہلی: انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) دہلی پردیش کی ایک ہنگامی و تعزیتی نشست آج قائد ملت سینٹر، دریا گنج میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں پارٹی کے دہلی پردیش کے خزانچی عبدالحمید انصاری کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
اجلاس میں انڈین یونین مسلم لیگ کے قومی سکریٹری خرم انیس عمر مہمانِ خصوصی تھے، جبکہ صدارت دہلی پردیش کے صدر مولانا نثار احمد نقشبندی نے کی۔ اس موقع پر محمد زاہد انصاری، نور شمس، معین الدین انصاری، آصف انصاری، شیخ فیصل حسن، اتیب احمد اور دیگر کارکنان بھی موجود تھے۔
تعزیتی نشست کے دوران مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور کو مسمار کرنے کے جاری نوٹس کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، جس پر شرکاء نے شدید تشویش اور احتجاج کا اظہار کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا نثار احمد نقشبندی نے کہا کہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو مسمار کرنے کا نوٹس محض نقشہ منظور نہ ہونے کا مسئلہ نہیں بلکہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو کمزور کرنے اور اقلیتوں کی بااثر شخصیات کو نشانہ بنانے کی ایک منظم سازش معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نقشہ منظور نہ ہونا ہی مسماری کی بنیاد ہے تو ملک میں بے شمار عمارتیں، کالج اور جامعات ایسی ہیں جن کی تعمیر مختلف مراحل میں مکمل ہوئی ہے اور جن کے تمام نقشے ابتدا ہی میں منظور نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے ایک دن میں قائم نہیں ہوتے بلکہ ایک کمرے، ایک مکتب یا ایک چھوٹے اسکول سے آغاز ہوتا ہے اور عوامی تعاون، چندے اور برسوں کی محنت سے وہ کالج اور پھر یونیورسٹی کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ ایسے اداروں کو مسمار کرنا تعلیم دشمنی کے مترادف ہے۔
مولانا نقشبندی نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کرے۔ اگر کوئی تکنیکی یا قانونی خامی ہے تو اس کا حل آئینی اور قانونی طریقے سے نکالا جائے، جرمانہ یا دیگر قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں، لیکن ایک تعلیمی ادارے کو منہدم کرنا کسی بھی مہذب، جمہوری اور انصاف پسند حکومت کے شایانِ شان نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ تعلیمی اداروں کو تباہ کرنا ہمیشہ جابر اور ظالم حکمرانوں کا شیوہ رہا ہے، جو کسی قوم کو علم، شعور اور ترقی سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں حکومت اور انتظامیہ کو ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے تعلیم اور تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچے۔
اجلاس کے اختتام پر مرحوم عبدالحمید انصاری کی دینی، سماجی اور تنظیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی، مغفرت اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے