مرکزی حج کمیٹی کی تشکیل میں مزید تاخیر ناقابلِ فہم، عازمینِ حج کے مفاد میں فوری اقدام کیا جائے: مولانا محمد عارف عمری
ممبئی، 29 جولائی: جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے نائب صدر مولانا محمد عارف عمری نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل میں جاری غیر معمولی تاخیر کا فوری نوٹس لیتے ہوئے نئی حج کمیٹی تشکیل دی جائے، تاکہ عازمینِ حج کو درپیش مسائل کے حل اور حج انتظامات کی نگرانی کا مؤثر نظام قائم ہو سکے۔
انہوں نے اپنے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ حج کمیٹی آف انڈیا ایک اہم قانونی اور انتظامی ادارہ ہے، جس پر ملک بھر کے لاکھوں عازمینِ حج کے مفادات کے تحفظ اور بہتر انتظامات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس اہم ادارے کی تشکیل میں مسلسل تاخیر نہ صرف تشویش ناک ہے بلکہ اس سے حج انتظامات کی شفافیت اور جوابدہی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
مولانا عمری نے کہا کہ مرحوم حافظ نوشاد اعظمی، جو حج کمیٹی آف انڈیا کے فعال رکن تھے، ہمیشہ عازمینِ حج کے مسائل کو اجاگر کرتے اور انتظامی خامیوں کی نشاندہی کرتے تھے۔ ضرورت پیش آنے پر وہ قانونی چارہ جوئی کے ذریعے بھی عازمین کے حقوق کا دفاع کرتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حج انتظامات کا مؤثر احتساب کرنے والی مضبوط آواز موجود نہیں رہی، جس کی وجہ سے کئی اہم مسائل توجہ کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حج کمیٹی آف انڈیا عازمین سے سفر سے کئی ماہ قبل انتظامات کے نام پر بڑی رقم وصول کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود متعدد انتظامی شکایات سامنے آتی ہیں۔ حج کی ادائیگی کے بعد عازمین سے اضافی رقم کا مطالبہ بھی سوالیہ نشان ہے، جس کی شفاف وضاحت ضروری ہے۔
مولانا عمری نے مکہ مکرمہ میں حجاج کی رہائش گاہوں پر مطبخ کی سہولت ختم کیے جانے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں حجاج کو روزانہ کھانے کے حصول کے لیے باہر جانا اور طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے خصوصاً بزرگ، خواتین اور بیمار عازمین کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہ پابندی سعودی حکومت کی ہدایات کے تحت نافذ کی گئی ہے تو نجی حج ٹور آپریٹروں کے لیے اس سے استثنا کی وجوہات بھی واضح کی جانی چاہئیں۔ بصورت دیگر حج کمیٹی کو متبادل کیٹرنگ سسٹم نافذ کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، جیسا کہ منیٰ میں کامیابی سے اس پر عمل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی مسلمان ہمیشہ حج کمیٹی سے بہتر، شفاف اور باوقار خدمات کی توقع رکھتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مرکزی حج کمیٹی کی جلد از جلد تشکیل عمل میں لائی جائے، اس میں باصلاحیت، تجربہ کار اور عوامی مسائل سے واقف افراد کو نمائندگی دی جائے اور حج انتظامات کو مزید مؤثر، منظم اور جوابدہ بنایا جائے۔
آخر میں مولانا محمد عارف عمری نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ عازمینِ حج کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے مرکزی حج کمیٹی کی فوری تشکیل کا اعلان کیا جائے اور حج سے متعلق تمام انتظامات کو مزید بہتر اور شفاف بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔