مودی نامہ: اخبار سے انسٹاگرام تک
( رہیں اب ایسی جگہ چل کر…)
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
———
انسان جب سے اس کرۂ ارض پر وارد ہوا ہے، اس کے اندر دو جبلتیں بالکل ساتھ ساتھ پروان چڑھی ہیں: ایک اپنے لیے غذا کی تلاش اور دوسری اپنے وجود کا ناقابلِ علاج اشتہار۔ قدماء نے اگر غاروں کی تاریک اور نمناک دیواروں پر اپنے ہاتھ کے بھدے نقش ثبت کیے تھے تو ان کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ آنے والی نسلیں ان کی مصوری پر داد دیں، بلکہ وہ دراصل اس زمانے کا ’انسٹاگرام‘ ہی بنا رہے تھے ؛ گویا وہ اپنے عہد کا پہلا سوشل میڈیا انفلوئنسر تھا، جو ہر آنے جانے والے کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ اس خطے کا اصل مالک، ہیرو اور توجہ کا مرکز وہی ہے۔
زمانے نے بتدریج ترقی کی؛ سنگ تراشی سے شروع ہونے والا یہ کاوش طلب سفر طباعت کے راستے سے ہوتا ہوا ڈیجیٹل آلات تک جا پہنچا، مگر حکمرانوں کی وہ قدیم جبلت آج بھی اتنی ہی ترو تازہ ہے جتنی پتھر کے زمانے میں تھی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اب اشتہار اور اقتدار میں وہی لازمی تعلق قائم ہو چکا ہے جو غالب کی تحریر میں نفاست اور چائے میں پتی کا ہوتا ہے۔ اگر عہدِ حاضر کے عظیم سیاسی جادوگروں کو دن میں 4 بار اپنے چہرے کی نمائش کا موقع نہ ملے، تو شاید انہیں ملک کا انتظام چلانے سے زیادہ اپنے وجود کے باقی رہنے پر شک ہونے لگے۔
ہماری اپنی قومی اور سماجی تاریخ دراصل مسلسل ‘ترکِ تعلقات’ کی وہ المناک مگر دلکش داستان ہے جس میں ہم نے جس چیز کو بھی سکون اور ذہنی یکسوئی کی خاطر اپنایا، ہمارے رہنماؤں نے اس پر اپنا ایسا سایہ ڈال دیا کہ ہمیں مجبوراً وہ جگہ چھوڑ کر آگے بڑھنا پڑا۔ مرزا غالب نے تو دلی کی تباہی پر صرف ایک بار دل برداشتہ ہو کر شہر چھوڑا تھا، مگر ہم نے جناب نریندر مودی کی پرخلوص اور لامتناہی تشہیری عنایات کے ڈر سے پورے کے پورے ذرائع ابلاغ اور مواصلاتی ذرائع ترک کر دیے ہیں۔
ابتدا اخبارات سے ہوئی تھی، جو ایک زمانے میں شرافت، متانت اور صحافتی وقار کی آخری علامت سمجھے جاتے تھے۔ وہ بھی کیا مبارک دور تھا جب صبح کی تازہ چائے کی پیالی کے ساتھ اخبار کا مطالعہ ایک روحانی، تہذیبی اور فکری تجربہ ہوا کرتا تھا۔ اخبار کے صفحات پر کالم نگاروں کے سنجیدہ تجزیے، بین الاقوامی مباحثے اور خبروں کی وہ معصومیت ہوتی تھی جو انسان کو دنیا سے باخبر رکھتی تھی۔ مگر پھر اچانک سیاست دانوں کو احساس ہوا کہ اخبار خبریں شائع کرنے کے لیے نہیں بلکہ ان کی تصویروں کو مستقل طور پر محفوظ کرنے کا ایک کاغذ ہے۔
پھر وہ وقت آیا کہ ہم نے جب بھی صبح اخبار اٹھایا، اس کے پہلے، دوسرے اور بسا اوقات آخری صفحے پر مودی جی کا ایک دیو قامت، مسکراتا ہوا چہرہ اس طرح براجمان پایا جیسے کسی تاریخی قلعے کی قدیم اور بوسیدہ دیوار پر اچانک کسی ملٹی نیشنل کمپنی کا چمکتا ہوا نیا فلیکس بورڈ نصب کر دیا گیا ہو۔ حالت یہ ہو گئی کہ خبر ڈھونڈنے کے لیے تصویر کی داڑھی کے بالوں کے درمیان سے خورد بین لگا کر دیکھنا پڑتا تھا کہ آیا کہیں کوئی چھوٹی موٹی ملکی خبر بھی چھپی ہے یا نہیں۔ ہم نے جب یہ دیکھا کہ چائے کی پیالی میں سیاست کی کڑواہٹ اس قدر گھل چکی ہے کہ ذائقے کے بجائے صرف حبِ وطن کا درس ہی گھونٹ گھونٹ پینا پڑتا ہے، تو ہم نے شرافت کے ساتھ اخبار ہی کو خیرباد کہہ دیا اور پہلا محاذ بغیر کسی جنگ کے خالی کر دیا۔
اخبار ہاتھ سے چھوٹا تو ہم نے سوچا کہ اب ٹیلی ویژن کے پردے پر چلتے پھرتے انسانوں کو دیکھا جائے، شاید وہاں کوئی عقل و دانش کی بات سننے کو مل جائے اور خبروں کے سچ کا اندازہ ہو سکے۔ لیکن وہاں جو طوفانِ بدتمیزی برپا تھا، اس نے ثابت کیا کہ جدید میڈیا پر اب خبریں یا حقائق نہیں دکھائے جاتے بلکہ وہاں اقتدار کا ایک لامتناہی اور مسلسل ’افریکی ناچ‘ پیش کیا جاتا ہے۔ صحافی، جو کبھی معاشرے کی آنکھ سمجھے جاتے تھے، اب اس انداز میں نقیب بن چکے ہیں جیسے شاہی محل کے باہر کھڑے ہو کر نوبت بجا رہے ہوں۔
جس اینکر کو بھی دیکھیے، وہ ایسی طمطراق بھری آواز، خطیبانہ جوش اور جذباتی بانکپن کے ساتھ مائیک پر ٹوٹ پڑتا ہے، گویا اگر اس نے عالی جناب نریندر مودی جی کی تعریف میں ایک بھی لفظ کم بول دیا تو اگلے ہی لمحے اسٹوڈیو کی چھت اس پر آ گرے گی، یا کم از کم اس کی ملازمت ضرور۔ اس بے پناہ عقیدت اور حقائق سے والہانہ پرہیز نے الیکٹرانک میڈیا کو ایسا ‘گودی’ بنایا کہ وہاں عقل، حیا اور غیرت تینوں نے اجتماعی استعفیٰ دے کر حاضری رجسٹر سے اپنے نام بھی کٹوا لیے، جبکہ خوشامد کو مستقل تقرری کا پروانہ مل گیا۔ جہاں سچائی کو مسخرے پن کے چمکدار لباس میں ملبوس کر کے فروخت کیا جا رہا ہو، وہاں تماشائی بن کر بیٹھنا بھی گناہِ کبیرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ چنانچہ ہم نے اپنے ٹی وی کے ریموٹ کو آخری حسرت بھری نگاہ سے دیکھا، اسے الماری کے تاریک ترین گوشے میں دفن کیا اور اس دوسرے محاذ سے بھی اپنی عزت بچاتے ہوئے باوقار پسپائی اختیار کر لی۔
ریڈیو ہماری آخری پناہ گاہوں میں سے تھا، جہاں پرانے اور دلکش نغمے، ماضی کی مدھر یادیں اور شفیق آوازیں انسان کو زمانے کے سیاسی مصائب اور الیکشن کے شور سے کچھ دیر کے لیے بالکل آزاد کر دیتی تھیں۔ لیکن سیاست دان کی نظر سے شاید انسان کا سکون بھی برداشت نہیں ہوتا۔ فوراً ‘من کی بات’ کا غلغلہ بلند ہوا۔ مودی جی نے ریڈیو اور ایف ایم جیسے بے ضرر اور شریف آلے کو اپنے جذباتی، یکطرفہ اور لامتناہی ڈرامے کا ایسا مسکن بنایا کہ ہم جیسے یکسوئی کے طالبین کے لیے ریڈیو کا نوب گھمانا بھی کسی خطرناک مہم جوئی سے کم نہ رہا۔
آپ گاڑی میں سکون سے لتا منگیشکر اور محمد رفیع کے مدھر نغمے سن رہے ہوں کہ اچانک اسپیکر سے ایک مانوس سی للکار گونجے: "متروں…!” پھر ایک گرجدار، خطیبانہ آواز پوری سنجیدگی سے آپ کو یہ باور کرانے لگے کہ نالے کی گیس سے چائے بنانا بھی ممکن ہے اور امتحان میں زیادہ محنت سے بہتر خوداعتمادی کام آتی ہے۔ ایسے میں انسان کا ایمان متزلزل ہو یا نہ ہو، ڈرائیونگ کا توازن اور دماغ کا سکون ضرور ڈانواں ڈول ہو جاتا ہے۔
ریڈیو پر جب سے ہر چند دن بعد ایک ہی آواز کی لاتعداد آرزوئیں، نصیحتیں اور خودستائیاں ہمارے سکون پر یلغار کرنے لگیں، ہم نے اس قدیم، شریف اور بے زبان آلۂ صوت سے بھی ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی۔ آخر وہ ریڈیو، جو کبھی غزل، گیت اور خبروں کا امین تھا، کب تک ایک ہی کردار کا ذاتی اسٹیج بنا رہتا؟ سو ہم نے بھی خاموشی اختیار کر لی اور دل کو یہ تسلی دی کہ شاید اب انسان کی اپنی تنہائی ہی واحد ذریعۂ ابلاغ رہ گئی ہے، جس پر ابھی تک کسی حکومتی تقریر نے قبضہ نہیں کیا۔
جب روایتی میڈیا کے تمام راستے ہم پر بند کر دیے گئے، تو ہم نے مجبوراً ڈیجیٹل دنیا کی طرف ہجرت کی اور فیس بک کے سرسبز میدان میں اپنا چھوٹا سا خیمہ گاڑ لیا۔ لیکن ہمارے رہنماؤں کی تشہیری بھوک کا پیٹ اتنا وسیع ہے کہ وہاں بھی ہماری بے دخلی میں زیادہ دن نہ لگے۔ فیس بک پر حکمران جماعت کے الگورتھم نے وہ اژدھام مچایا کہ ہر دوسری پوسٹ میں ملک کی تاریخی کامیابیوں اور اپوزیشن کی ناقابلِ معافی ‘غداریوں’ کا سنسنی خیز اشتہار ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا۔ یوں لگتا تھا جیسے مارک زکربرگ نے یہ پورا سوشل نیٹ ورک صرف اسی عظیم مقصد کے لیے ایجاد کیا تھا تاکہ وشو گرو نریندر مودی کی مختلف زاویوں، مختلف لباسوں اور مختلف تاثرات کے ساتھ لی گئی دلکش تصاویر کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا جا سکے۔ ہم نے وہاں بھی اپنی شکست تسلیم کر لی اور دوستوں کے پیغامات پڑھنے کے بجائے صرف ‘لائیک’ کا بٹن دبا کر خاموشی سے نکل آئے۔ یوں فیس بک کا شاداب چمن بھی ہمارے لیے ایک سیاسی لشکر گاہ بن کر رہ گیا۔
ہماری آخری پناہ گاہ اب صرف انسٹاگرام رہ گئی تھی، جو ‘جین زی’ یعنی نئی نسل کا وہ بے فکر اور رنگین جزیرہ تھا جہاں لوگ اپنی زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں، کھانے کی خوبصورت تصاویر اور بے معنی ڈانس ریلز شیئر کر کے اپنا دل بہلاتے تھے۔ ہم نے معصومیت سے سوچا کہ یہاں کم از کم کوئی الیکشن مہم نہیں ہوگی، نہ کوئی طویل سیاسی خطبہ ہوگا اور نہ ہی کسی جی ڈی پی کی جعلی شرح کا ڈھنڈورا پیٹا جائے گا۔ مگر افسوس! ہماری یہ خوش فہمی بھی ساحل پر بنے ریت کے محل کی طرح ڈھے گئی۔ جنتر منتر پر نوجوانوں اور طلبہ کے حالیہ احتجاج اور مظاہروں کے بعد جب مودی جی کو یہ خدشہ محسوس ہوا کہ نئی نسل ان کے پرانے سحر اور تقریروں سے باہر نکل رہی ہے، تو انہوں نے بغیر کسی تاخیر کے انسٹاگرام پر بھی باضابطہ چڑھائی کر دی۔
اب حالت یہ ہے کہ جیسے ہی انسٹاگرام کھولو، کہیں مودی جی کسی غیر ملکی سربراہ کو زبردستی گلے لگا رہے ہیں، کہیں کسی برفیلی پہاڑ کی چوٹی پر تنہا، ڈرامائی اور مفکرانہ انداز میں چہل قدمی کر رہے ہیں، اور کہیں ان کی ‘ٹرینڈنگ ریلز’ کے پس منظر میں وہ جدید سائیڈ میوزک بج رہا ہوتا ہے جو کل تک محلے کے بے روزگار لونڈے اپنی موٹر سائیکلوں پر بجایا کرتے تھے۔ گویا میر تقی میر کی غزل پر ڈی جے کا ریمکس لگا دیا گیا ہو۔ یہ حیرت انگیز منظر دیکھ کر دل کے نہاں خانے سے بس ایک ہی آہ اور التجا نکلتی ہے: "ارے مہاراج! اسے تو چھوڑ دیتے!”
زندگی میں ہر پلیٹ فارم پر قبضہ کرنا، ہر الیکٹرانک اسکرین پر اپنا چہرہ چپکانا اور دنیا کے ہر ڈیجیٹل کونے میں اپنی اجارہ داری قائم کرنا آخر کون سی سیاسی ضرورت یا نفسیاتی مجبوری ہے؟ جب حکمرانوں کی تشہیری ہوس اس حد تک بڑھ جائے کہ وہ انسٹاگرام کے خوبصورت فلٹرز اور ملک کی تلخ حقیقتوں کے فرق کو بھول جائیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ جمہوریت اب صرف 15 سیکنڈ کی ایک ‘ریل’ بن چکی ہے جسے دیکھا، تھوڑا سا مسکرائے اور پھر اسکرول کر کے آگے بڑھا دیا گیا۔
غالب کے اس شعر کو اس اختتامی پیراگراف میں شامل کرنا بہت اچھا خیال ہے۔ البتہ شعر کو محض آخر میں چسپاں کرنے کے بجائے اگر اسے مضمون کے طنزیہ بہاؤ کا حصہ بنا دیا جائے تو اختتام زیادہ یادگار بنے گا۔
اب جب کہ انسٹاگرام بھی مودی جی کی تشہیری مہم کا مستقل دفتر بن چکا ہے، تو سوال یہ نہیں رہا کہ ہم کیا دیکھیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کہاں چھپیں؟ اندیشہ تو یہ ہے کہ اگر کل کو ناسا کسی نئی کہکشاں میں زندگی دریافت کر لے، تو پہلے ہی دن وہاں ایک سرکاری فوٹوگرافر مودی جی کی مسکراتی ہوئی تصویر اتارتا دکھائی دے، اور نیچے کیپشن جگمگا رہا ہو: "یہ تاریخی کامیابی بھی ہماری دور اندیش قیادت کا ثمر ہے۔” ایسے میں بے اختیار غالب یاد آ جاتے ہیں:
رہیں اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو
فرق صرف اتنا ہے کہ غالب کو اپنے زمانے کے لوگوں سے شکایت تھی، اور ہمیں اپنے زمانےکے خود ساختہ وشو گرو سے۔