جنتر  منتر	!

جنتر منتر !

ازقلم:دستگیر نواز حیدرآباد (دکن)

ایک عرصہ بعد نہایت ہی بہترین انداز میں منعقد کردہ احتجاج دیکھنے میں آیا جو کہ (NEET PAPER LEAK) کی بدنظمی پر اور اسکے بعد ہونے والے لاکھوںs Studentکے مستقبل کا سوال تھا جو آج بھی تادم تحریر سوال ہی ہے،ظاہر سی بات ہے وہ جو محاو رہ ہے نہ’’ جس پے گزری وہی جانے‘‘ لگتا ہے یہ صرف ایک محاو رہ نہیں بلکہ حقیقت ہے جو گزرے وقت کے بزرگ اپنے تجربہ کو محاو رہ کی شکل میں بیاں کر گئے ہیں۔
ہاں تذکرہ ہورہا تھا امتحان نیٹ کے معاملہ میں ہوئی بدنظمی اور اسکے بعد ہونے والے طلباء اور انکے سرپرستوں کے انگنت مسائل کے متعلق،یہ سلسلہ یوں تو کئی سالوں سے چل رہا تھا لیکن اس بار برداشت کرتے ہوئے طلباء کے صبر کا باندھ ٹوٹتے توٹتے رہے گیا تھا کہ اچانک ملک کی عدالتِ عظمیٰ کے ایک جسٹس نے کچھ ایسا کہہ دیا ان طلباء کے مطابق بس پھر کیا تھا کہ انکی زبان سے نکلے ہوئے ایک فقرے نے راتوں رات ہندوستان کے بے حساب طلباء کو اُسی فقرے کے عنوان تلے ایک جاہ کر دیادیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں کی تعداد میں یہ لوگ ایک دوسرے سے جڑتے گئے نا ہی کسی مذہب کا نام لیا گیا نہ ہی اپنی سیاسی دوکان چمکانے کے لئے اللہ اور رسول ؐ کے نام کا واسطہ دیا گیا ، نا ہی کسی اور مذہب کے مقدس ناموں کا بے جا استعمال کیا گیا پھر بھی عدالتِ عظمیٰ کے ایک جسٹس کے ایک فقرے نے ہندوستان کی جواں پیڑی جسے کئی دنوں سے عالمی طور پر Gen-Z کے خطاب سے نوازدیا گیا تھا وہ تمام اس صدی کی طلسماتی دنیا جسے سارا عالم Social Media کے نام سے جانتا ہے کے تحت کسی ایک شخص کی آواز پر اپنے آپ کوفخریا طورپر یہ کہنے لگے(I am cockroach) اور اس طرح سیاسی میدان میں ایک نئی پارٹی کا وجود راتوں رات عمل میں آگیا اب دنیا بھر میں یہ پی وہ پی سے زیادہ CJP کے چرچے ہونے لگے اور یہ ہونے والا ہی تھا ہم جانتے تھے کیوں کہ کئی اور جماعتیں اسی Social Media کو اپنا ہتھیار بنا کر Technology کا سہارا لیکر جو چاہے کر گزر جانے کا حسین خواب سجائے اپنے آپ کو ناجانے کیا کیا سمجھ بیٹھی تھی اور اقتدار کے نشہ میں کچھ اس قدر بدمست ہو چلی تھی کے لوگ جوگ در جوگ مایوسی کی طرف بڑھنے لگئے تھے۔
لیکن اسCJP کے احتجاج کے اعلان نے مایوسی کی طرف بڑھتی ہوئی عوام میں سے جند مٹھی بھر لوگوں کے دل دماغ میں اُمید کی ہلکی سی کرن پیدا کی تو دوسری طرف انگنت لوگوں کے دل، دماغ میں انگنت سوال اور بے حساب خدشات کو بھی جگایا ،خیر ہوا یوں کہ جو اپنے آپ کو ماہر سمجھنے لگتا ہے،بہتر سمجھنے لگتا ہے کسی کھیل کو کھیلنا اپنے بائں ہاتھ کا کھیل سمجھنے لگتا ہے تو قدرت پھر اُسکو اُسی کھیل سے ایسا ہراتی ہے وہ پھرمیدان چھوڑکر بھاگنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور چاروں خانے چیت ہوجاتا ہے۔
اب عوام ملک کی عدالتِ عظمیٰ کے اُس جسٹس کے کہے گئے فقرے پر اپنی اپنی رائے رکھ رہے ہیں کوئی کہہ رہا ایسا نہیں کہنا تھا، ویسا نہیں کہنا تھا ،کوئی کہہ رہا ایسا بھی کوئی کہتا ہے کیا وغیرہ وغیرہ۔

ہم اگر ایمانداری سے اپنی کہے تو ہم تو ــ ’’ جسٹس صاحب‘‘ کا دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کے جس نسل کو جن زی کا عنوان دیکر دنیا کیا کیا نہیں کہہ رہی تھی اُس نسلِ نو کو انکے فقرے نے اپنی ذمہ داری کا بھر پور احساس دلا دیا اور وہ ہماری اور ہمارے آباواجداد کی قربانیوں کا بھرم رکھنے کے لئے سربکفن میدان عمل میں نمودار ہوگئے اور قلم کی طا قت کو اپنا ہتھیار بناکر اپنا ایک مطالبہ لئے تاریخی جنتر منتر سے ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے لئے حکومت سے سوال کر بیٹھے بس پھر کیا تھا ! یہ سوال نہیں رہا سوالات کی جھڑی لگ گئی، ایک مطالبہ نے اتنے مطالبات کو پیدا کیا کے ،وقت کے نام نہاد تانے شاہوں کے پیروں تلے زمیں کسکتی نظر آئی ،انگنت سوالات اور بے حساب مطالبات کا حساب کتاب تادم تحریر باقی ہی ہے۔
جد و جہد ابھی جاری ہی ہے کئی دنوں سے یہ احتجاج نہایت ہی مہذبانا انداز میں اپنا سفر طعے کرہاتھا کہ بھوک ہرتال پر بیٹھے ہوئے ایک فرد کو زبردستی اس مقام سے ہٹادیا گیا جب کہ ہونا یہ چاہے تھا کے کوئی نمائندہ ہی صحیح احتجاج کے مقام پر پہنچتا اور ملک کا مستقبل کہلانے والوں سے انکے دکھ درد دریافت کرتا، انکے سوالات سنتا،انکا مطالبہ پوچھتا، ایسا کچھ ہوا نہیں یہ نظر انداز کیا جانے والا عمل ان کے لئے باعث فکر بنا جو پہلے ہی سے اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند تھے،اسی دوران اس احتجاج میں لوگ جڑتے گئے آہستہ آہستہ ہی کیوں نہ ہو ۔
بس دیکھتے دیکھتے وقت کے نام نہاد تانے شاہوں کے ذریعہ مسلسل Social Media اور Multimedia کی مدد سے جو ذہر نفرت کا گھولا گیا تھا وہ بھی اپنا اثر اس احتجاج میں کھو بیٹھا تھا اب کیا تھا بس چاروں بھائی جسکو ہندوستان کی پہچان مانا جاتا ہے ایک مقام پر آں ملے تھے یہ بات بھی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکے گی جب جب بھائی چارہ اور اتحاد کا تذکرہ آے گا تو اس نفرت کو محبت میں تبدیل کرنے کی خاطر ہزارا میل کا پیدل سفر کرنے والے ،اپنے آپ کو وقف کردینے والے شخص کا نام بھی سنہری حرفوں میں لکھا جاے گا۔

اب شروع ہوتا ہے سفر آمنے سامنے کا ،یعنی اس نسلِ نو اور حکومت کا ،جن زی نے فیصلہ کیا کے آپ آے نہ آپ کا کوئی نمائندہ تو کیا ہوا چلو نا ہم ہی چلتے ہیں اور مل بیٹھ کر بات کرتے ہیں ، مستقبل کے سہانے خواب سجاے اپنے آپ میں مگن چل پڑے اس طرف جہاں بیٹھ کر اقتدار کے نشہ میں مست عوامی نمائندے اس نسلِ نو کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام شہریوں پر اپنے فیصلے صادر کرتے رہے ہیں پچھلے دس بارہ سال میں من مرضی فیصلے سہتے سہتے ملک کی عوام اتنی زچ ہوچکی تھی بس اس کے صبر و ضبط کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا بس کسی بھی دم جھلک سکتا اس سے قبل کے یہ جھلکتا اس احتجاج نے بھید بھاو،ذات پات ،مذہب و ملت کی دوریوں کو یوں پاٹا کہ ماضی کے ہندوستانی عوام اور فرنگیوں کے آمنے سامنے والے واقعات جو ہم نے تاریخ کی کتابوں میں پڑھے اور اپنے بزرگوں سے سنے تھے سب کے سب اپنے آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
نسلِ نو اپنے سوالات اور مطالبات کو لئے پر امن انداز میں وطن کی سرزمین پر اپنے قدموں کے چھاپ چھوڑتی ہوئی بھر پر اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی کہ وہ سب ہوا جسکی امید کی جا رہی تھی اور یہ کوئی نئی بات نہیں تھی پہچلے 12 سالوں سے جو ہوتے آرہا تھا یعنی ہر ہر احتجاج کو طاقت کا بے جاہ استعمال کرتے ہوئے ظلم و زیادتی کے ساتھ کچل دیا جاتا رہا ہے۔
جس وقت پہچلے 12 سالوں میں ملک کی دوسری سب سے بڑی آبادی کی جان و مال ،عزت و آبرو کو سرے بازارتماشاء بنایا جاتا رہا اور انکے دکانوں و مکانوں کو بلاوجہ ہی کوئی نا کوئی وجہ بناکر نست و نابد کیا جارہا تھا تب اقتدار کے نشہ میں مست حکمرا نوں کی زیادتیوں اور ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے کی کسی میں ہمت نہیں جاگی اور اگر کسی نے ہمت جٹاکر آواز اٹھائی تو اسکے ساتھ ایسا برتاو کیا گیا کہ دوبارا کوئی اُٹھے نا،کسی چاہ بھی تو! چاہتے ہوئے بھی چپی سی سادھ لی ہوگی،ہر کوئی اپنے اور اپنے بچوں کے بارے میںسوچ کر خاموش رہنے کو ترجیح دی ہوگی ایک تو ڈر و خوف کا ماحول برپا کیا ہوا تھا تو دوسری طرف Social Media اور Multimedia کی مدد سے نفرت کا ذہر فضاء میں بکھراہوا تھا ۔
اسی دوران کئی منصوبے ایک کے بعد دیگرے اسی مخصوص عمارت کے اندر سے ملک کی عوام پر صادر کرتے جاتے رہے کبھی یہ دکھاو،وہ دکھاو،کبھی یہ بناو،کبھی وہ بناو ،یہ نا پہنو،وہ نا کھاو،یہ خریدو و نا خریدو کچھ ایسے بھی فیصلے سامنے آے جو جیب پر اتنے بھاری پڑے کے عوام گھر گھرستی،چولھاہنڈی،گھوڑا گاڑی ،اسکول دفتر کے تقاضے پورے کرنے میں اتنا الجھی کہ بس خدا ہی خیر کرے۔
اُسی مخصوص عمارت کے طرف بڑھتا ہوا جن زی کے سیلاب کو دیکھ کر اقتدار کے نشہ میں مست حکمرا نوں کے منصوبے اور خواب چکنا چور ہوتے ہوئے نظر آنے لگے پھر کیا تھاجن زیوں کے اُپر بربریت برپا کی گئی اور یہی بربریت سارے عالم کے سامنے ہندوستان کا وہ روپ پیش کیا جس کو دیکھ کر ہوسکتا ہے فرنگیوں نے بھی شرمندگی محسوس کی ہوگی۔
بس پھر کیا تھا برسرے اقتداردو طرفا
شکنجہ میں آگئے مخصوص عمارت کے اندر مخالف پارٹیاں تو باہر ساری پارٹیوں کو اقتدار پر لانے اور ہٹانے والے یعنی عوام جو اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے کی جستجو میں ہر ستم برداشت کرتی آئی تھیں اپنے بچوں کا حال دیکھ کر تلملا اُٹھی تھیںاب معاملہ کسی وزیر کے استعفیٰ کا نہیں بلکہ وزیرداخلہ اور وزیر آعظم کے استعفیٰ تک پہنچ گیا تھا۔
جنتر منتر پر عوام کا ہجوم امڈ پڑاتھا ملک کے کونے کونے سے آنے والے ہر چھوٹے بڑے فرد کا ایک ہی مطالبہ اور ایک ہی آواز، یہی آواز آنے لگی تھی بچوں کے اپر ڈھاے گئے ظلم کا حساب ہوگا تادم تحریر ( صرف مرکزی وزیر تعلیم کا استعفیٰ عمل میں آگیا تھا) اور کوئی چوکانے دینے والی کوئی خبر تو آئی نہیں،لیکن ایک بات تو سمجھ آگئی کہ ہندوستانی عوام ہر ہر ظلم و ستم،زور و زبردستی، اقتدار کے نشہ میںغرق حکمرانوں کی مستی بھی برداشت کرسکتی ہے لیکن چاروں بھایوں کو جو جدا کرنا چاہے وہ ہستی برداشت نہیں کرسکتی۔
جنتر منتر کے اس احتجاج نے عوام کے اندر سے ڈر و خوف اور نفرت کے ماحول کو کردیا چہو منتر!
ٌٌٌٌٌ٭٭٭٭٭٭٭

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے