نیپال کی صورتِ حال اور مسلمانانِ نیپال

نیپال کی صورتِ حال اور مسلمانانِ نیپال

نیپال کی صورتِ حال اور مسلمانانِ نیپال

ازقلم:افتخاراحمدقادری

پوربی نیپال کے بعض علاقوں، خصوصاً سنسری ضلع کے حوالے سے گزشتہ چند روز سے ایسی اطلاعات سامنے آرہی ہیں جنہوں نے ہر حساس دل کو بے چین کردیا ہے۔ مقامی ذرائع اور مختلف افراد کی جانب سے یہ دعوے کیے جارہے ہیں کہ وہاں فرقہ وارانہ کشیدگی نے ایک سنگین صورت اختیار کرلی ہے اور متعدد مقامات پر ہندو مسلم تصادم کے باعث حالات نہایت خراب ہوگئے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یقیناً یہ نہ صرف وہاں کے مسلمانوں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں مسلمانوں کی آبادی نسبتاً کم ہے جبکہ غیر مسلموں کی تعداد زیادہ ہے۔ اسی پس منظر میں یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران مسلمان خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں اور ان میں شدید خوف و اضطراب پایا جارہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ کئی خاندان اپنے گھروں میں محصور ہیں اور لوگ غیر یقینی کیفیت کے ساتھ ہر آنے والے لمحے کو دیکھ رہے ہیں۔ بعض مقامی ذرائع کے مطابق اب تک ایک درجن سے زیادہ مسلم گھروں کو نذرِ آتش کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اگر یہ اطلاعات حقیقت پر مبنی ہیں تو یہ ایک انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت صورتِ حال ہے۔ کسی بھی انسان کا گھر صرف اینٹ اور پتھر کا ڈھانچہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں اس کی زندگی کی کمائی، اس کی یادیں، اس کے بچوں کا مستقبل اور اس کے خاندان کا سکون پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب کوئی گھر جلتا ہے تو صرف دیواریں نہیں گرتیں بلکہ کئی خواب بھی راکھ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ متعدد مسلمان زخمی ہوئے ہیں اور کئی افراد کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگرچہ ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق مختلف ذرائع سے ہونا ابھی باقی ہے لیکن ان خبروں نے مسلمانوں میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ ہر وہ خبر جس میں کسی بے گناہ انسان پر ظلم کی بات ہو، انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ اطلاعات میں یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ بعض مساجد اور مدارس کو نشانہ بنایا گیا ہے اور چند مساجد میں آگ لگائے جانے کے دعوے کیے گئے ہیں۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ نہایت افسوس ناک امر ہے۔ عبادت گاہیں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے لیے احترام کا مقام ہوتی ہیں۔ ان پر حملہ صرف ایک عمارت پر حملہ نہیں بلکہ مذہبی آزادی اور باہمی احترام کے اصولوں کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان کے علاقوں میں اس وقت شدید خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ کئی مقامات پر نوجوان اپنے محلوں اور آبادیوں کی نگرانی کے لیے رات بھر جاگ رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے یا ناخوشگوار واقعے کی صورت میں اپنے اہلِ خانہ کی حفاظت کرسکیں۔ یہ صورتِ حال خود اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عوام اپنے مستقبل کے بارے میں کس قدر فکرمند ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نیپال آرمی اور دیگر سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری مختلف علاقوں میں تعینات کی گئی ہے اور متعدد مقامات پر کرفیو نافذ کیا گیا ہے تاکہ حالات کو قابو میں لایا جاسکے۔ تاہم بعض مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جہاں تشدد کے واقعات پیش آئے وہاں بعض شرپسند عناصر نے کرفیو کی بھی پروا نہیں کی۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ انتظامی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ فوج اپنی جان پر کھیل کر حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ مزید خون خرابہ نہ ہو اور عام شہری محفوظ رہ سکیں۔ ایسے مواقع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہایت اہم ہو جاتی ہے کہ وہ مذہب، ذات یا برادری سے بالاتر ہوکر ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں۔ سنسری ضلع کے حوالے سے گردش کرنے والی اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مسلمان خود کو شدید عدم تحفظ کا شکار محسوس کررہے ہیں اور بہت سے خاندان اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کررہے ہیں۔ اگر واقعی صورتِ حال ایسی ہے تو اس کا فوری اور منصفانہ حل نکالنا متعلقہ حکام کی اولین ذمہ داری ہے تاکہ عام شہری دو بارہ معمول کی زندگی گزار سکیں۔
فرقہ وارانہ کشیدگی کبھی بھی کسی ایک طبقے یا ایک علاقے کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ نفرت کی آگ جب بھڑکتی ہے تو وہ صرف ایک فریق کو نہیں جلاتی بلکہ انسانیت، بھائی چارے اور امن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہر قسم کے تشدد اور انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی کی جائے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ یاد رکھیں کہ یہ وقت افواہوں کو پھیلانے کا نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ معلومات کو آگے بڑھانے کا ہے۔ اگر کسی واقعے کی مصدقہ اطلاع موجود ہو تو اسے ذمہ داری کے ساتھ پیش کیا جائے اور اگر کوئی خبر ابھی تصدیق طلب ہو تو اسے دعوے یا اطلاع کے طور پر ہی بیان کیا جائے۔ صحافت کا بنیادی تقاضا بھی یہی ہے کہ خبر اور دعوے کے درمیان فرق برقرار رکھا جائے۔ لہذا! اس موقع پر پوری امتِ مسلمہ سے دردمندانہ گزارش ہے کہ مسلمانانِ نیپال کو اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ الله تعالیٰ سے دعا کریں کہ اگر وہاں واقعی مظلوم لوگ آزمائش سے گزر رہے ہیں تو الله رب العزت ان کی حفاظت فرمائے، زخمیوں کو شفا عطا فرمائے، بے گھر افراد کو دو بارہ امن و سکون نصیب فرمائے، عبادت گاہوں کو محفوظ رکھے اور ہر قسم کے ظلم و فساد کا خاتمہ فرمائے۔ اسی کے ساتھ یہ دعا بھی کی جانی چاہیے کہ نیپال میں امن و امان جلد بحال ہو، تمام شہری بلاامتیاز مذہب و ملت محفوظ رہیں، قانون کی بالادستی قائم ہو اور کسی بھی بے گناہ انسان کو نفرت اور تشدد کا نشانہ نہ بننا پڑے۔ ظلم خواہ کسی کے خلاف ہو، وہ قابلِ مذمت ہے، اور امن خواہ جس کے لیے ہو، وہ پوری انسانیت کی ضرورت ہے۔ الله سبحانہ وتعالیٰ مسلمانانِ نیپال سمیت تمام مظلوم انسانوں کی حفاظت فرمائے، ان کے خوف کو امن میں، ان کی بے بسی کو قوت میں اور ان کی آزمائش کو آسانی میں تبدیل فرمائے۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے