جو حضرات آج کل 786 روپئے حق مہر طے کرتے ہیں وہ اس مضمون کو ضرور پڑھیں ۔اسلامی شریعت میں حق مہر عورت کا ایک بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے، جو نکاح کے ساتھ ہی اس پر واجب ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس کی زیادہ سے زیادہ کوئی حد مقرر نہیں، تاہم نبی کریم ﷺ کی سیرت اور اہلِ بیت کے طرزِ عمل سے ایک ایسی مقدار سامنے آتی ہے جسے آج تک مسلمان معاشرے سنتِ نبویؐ کے طور پر اپناتے آئے ہیں، اسے مہرِ فاطمی کہا جاتا ہے۔
اس مسئلے کی بنیادی دلیل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی وہ روایت ہے جس میں وہ اپنے نکاح کا احوال بیان کرتے ہیں۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے سیدہ فاطمہؓ سے شادی کی تو نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ آیا وہ اپنا گھوڑا فروخت کریں یا اپنی زرہ؟ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اپنی زرہ فروخت کر دیں۔یعنی اُنکے پاس کوئی نقد رقم نہیں تھی اور اُنہوں نے اُدھار مہر پر شادی نہیں کی اگر اُنکے پاس ذیادہ رقم ہوتی تو وہ اور زیادہ ادا کرتے چنانچہ حضرت علیؓ نے وہ زرہ بارہ اوقیہ چاندی، تقریباً 1469 گرام چاندی، جو آج کے حساب سے تقریباً 3 لاکھ 45 ہزار روپے بنتی ہے، کے عوض بیچی، اور یہی حضرت فاطمہؓ کا مقررہ حق مہر تھا۔ یہ روایت ابو یعلی کی مسند میں مذکور ہے، ابو یعلی، المسند، جلد 1، صفحہ 362، روایت نمبر 470، دار المامون للتراث، دمشق۔
اس کے ساتھ ایک اور روایت میں محمد بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ کی صاحبزادیوں اور ازواجِ مطہرات کا مہر پانچ سو درہم تھا، جو تقریباً 1530.9 گرام چاندی بنتا ہے اور آج کے حساب سے تقریباً 3 لاکھ 59 ہزار 762 روپے کے مساوی ہے۔ یہی روایت اس معروف مقدار کی بنیاد بنتی ہے جسے آج مہرِ فاطمی کہا جاتا ہے۔
اس موضوع پر سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اپنے فتاویٰ میں فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی عام ازواجِ مطہرات اور صاحبزادیوں کا مہر پانچ سو درہم، تقریباً 1530.9 گرام چاندی یعنی آج کے حساب سے تقریباً 3 لاکھ 59 ہزار 762 روپے، سے زائد نہیں تھا، سوائے ام المومنین ام حبیبہ بنت ابی سفیانؓ کے، جن کا مہر ایک روایت کے مطابق چار ہزار درہم، تقریباً 12,247 گرام یعنی تقریباً 12.25 کلوگرام چاندی جو آج کے حساب سے تقریباً (28 لاکھ 78 ہزار روپے) بنتی ہے، اور دوسری روایت کے مطابق چار ہزار دینار تھا۔ اور حضرت بتول زہرا رضی اللہ عنہا کا مہرِ اقدس چار سو مثقال چاندی، تقریباً 1749.6 گرام یعنی آج کے حساب سے تقریباً 4 لاکھ 11 ہزار 156 روپے، تھا، فتاویٰ رضویہ، جلد 12، صفحہ 135-136۔
فقہاء نے پانچ سو درہم کی مقدار کو موجودہ اوزان میں یوں متعین کیا ہے کہ پانچ سو درہم کا وزن، بارہ ماشے کے تولے کے حساب سے، ایک سو اکتیس تولہ تین ماشہ چاندی بنتا ہے، جو موجودہ گراموں کے حساب سے پندرہ سو تیس گرام نو سو ملی گرام، یعنی ڈیڑھ کلو تیس گرام نو سو ملی گرام چاندی، آج کے حساب سے تقریباً 3 لاکھ 59 ہزار 762 روپے کے برابر ہے، امداد الفتاویٰ، جلد 4، صفحہ 604۔ اسی طرح شرعی طور پر مہر کی کم از کم مقدار دس درہم، تقریباً 30 گرام 618 ملی گرام چاندی یعنی آج کے حساب سے تقریباً 7 ہزار 195 روپے، مقرر ہے، اور اس سے کم مہر مقرر کرنا شرعاً جائز نہیں۔
علماء کرام کے مطابق اگرچہ شرعی طور پر مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے، اور مہر کی زیادہ سے زیادہ کوئی حد مقرر نہیں، تاہم استطاعت ہونے کی صورت میں نبی کریم ﷺ کی سنت اور حضرت فاطمہؓ کی اتباع میں مہرِ فاطمی مقرر کرنا مستحب اور بہتر قرار دیا گیا ہے۔ اگر کسی کے پاس اتنی گنجائش نہ ہو تو لڑکے کی استطاعت کے مطابق مہر مقرر کیا جا سکتا ہے، کیونکہ شریعت میں ہر معاملے میں آسانی اور سہولت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مذکورہ بالا تمام رقومات 31 جولائی 2026 کو بھارت میں چاندی کی خوردہ قیمت، تقریباً 235 روپے فی گرام، کی بنیاد پر نکالی گئی ہیں۔ چونکہ چاندی کی قیمت روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی رہتی ہے اور شہر بہ شہر ٹیکس اور بنائی چارجز کی بنیاد پر فرق بھی آتا ہے، اس لیے یہ رقومات محض تخمینہ ہیں۔ علماء کا مشورہ یہی ہے کہ مہر سونے یا چاندی کے وزن میں مقرر کیا جائے، نقد رقم میں نہیں، تاکہ افراطِ زر کے باعث برسوں بعد بھی اس کی اصل قدر متاثر نہ ہو۔ اور ہمیں اس حقیقت کو بھی نہیں بھولنا چاہئے ہمارے معاشرے میں بہت ہی کم گھروں میں وراثت کی تقسیم ہو رہی ہے بہنوں بیٹیوں پھوپھیوں کو مختلف طریقوں سے اپنا حق چھوڑنے پر آمادہ کر لیا جاتا ہے جس سے معاشرہ کمزور سے کمزور ہوتا جارہا ہے ۔