ہر ملک کا ایک قومی جھنڈا ہوتا ہے ، یہ جھنڈا اس قوم کے لئے فخر و عظمت کے نشان کی حیثیت رکھتا ہے ، ہمارے ملک کا ترنگا جھنڈا موجود ہے ، اور جھنڈوں سے متعلق باضابطہ قوانین موجود ہیں ، قومی جھنڈے کی اہانت بہت بڑا جرم ہے ، اس کے لئے باضابطہ قوانین مقرر ہیں ، ہندوستان میں ہر سیاسی جماعت بلکہ بعض مذہبی جماعتوں نے اپنے لئے جھنڈوں کی وضع مقرر کی ہے ، جن سے ان کی پہچان متعلق ہے ؛ لیکن یہ جماعتیں قومی جھنڈوں کو اپنے جھنڈے کے طورپر استعمال نہیں کرسکتیں ، یہ جھنڈا پوری قوم کی نمائندگی کرتا ہے نہ کہ کسی ایک گروہ کی ، بظاہر اس میں کوئی نقصان نظر نہیں آتا کہ کوئی اور گروہ اس جھنڈے کو اپنی پہچان کے طور پر استعمال کرنے لگے ، نہ اس سے ہماری معیشت کو کوئی نقصان ہے ، نہ اس سے ہمارے دفاع کو کوئی خطرہ ہے ، نہ ہمارے سیاسی استحکام کو کوئی جوکھم ہے اور نہ دوسرے قومی مفادات کا بظاہر کوئی نقصان ہے؛ لیکن ان سب کے باوجود جھنڈوں کا غیر مجاز استعمال نہ صرف ممنوع ہے ؛ بلکہ قابل سرزنش جرم بھی ہے ۔
آخر ایسا کیوں ہے ؟ — اسی لئے ناکہ اس کی حیثیت ، علامت اور پہچان کی ہے اورجب کوئی شخص اپنی پہچان بناتا ہے تو ایک طرح وہ اس کی ملکیت ہوجاتی ہے ، اسی اُصول پر ایجادات کے رجسٹریشن کا قانون ہے ، اور ادبی حقوق کو ایک پراپرٹی کی حیثیت دی گئی ہے ، ایک کمپنی دوسرے کمپنی کا نام استعمال نہیں کرسکتی ، ایک دواساز دوسرے دوا ساز کے فارمولہ کو بعینہ نہیں لے سکتا ، ایک ناشر دوسرے ناشر کی کتاب نہیں چھاپ سکتا اور ایک صنعت کار دوسرے صنعت کار کے نمونہ پر وہی چیز بنانے کا حق نہیں رکھتا ، تجارت وصنعت میں تو یہ تحفظ معاشی مفادات کے لئے کیا جاتا ہے ؛ لیکن جو لوگ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ، ان کے نزدیک مذہب کی اہمیت معیشت سے بھی زیادہ ہوتی ہے ؛ اس لئے وہ فطری طور پر ان چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، جس سے ان کی مذہبی شناخت متعلق ہے ، جیسے کسی کا گھر گورنمنٹ منہدم کردے تو اس سے وہ اس درجہ رنجیدہ نہیں ہوتا ، جتنا اس بات سے كه اس کی مسجد ، مندر یاچرچ کو منہدم کردیا جائے ؛ کیوںکہ اس کے گھر سے صرف مالی نفع و نقصان متعلق ہوتا ہے اورعبادت گاہ سے اس کے جذبات جڑے ہوئے ہیں ۔
دیهی علاقوں اور مسلمانوں كی دین سے ناواقف آبادیوں كے سلسله میں ادھر بار بار یه بات سامنے آرهی هے كه بعض لوگ جو رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم كے ختم نبوت كے منكر هیں، مرزا غلام احمد قادیانی كو نبی مانتے هیں، یا شكیل بن حنیف كو مسیح یا مهدی موعود مانتے هیں، ان كی طرف سے غلط فهمیاں پیدا كی جارهی هیں، وه اپنے آپ كو مسلمان كهتے هیں، اور عام مسلمانوں كو دھوكه دیتے هیں كه هم بھی مسلمان هی هیں، فرق یه هے كه آپ محمدی مسلمان هیں اور هم احمدی مسلمان هیں، وه اپنی عبادت گاه كو مسجد كهتے هیں، اور اسی نام سے دیهات كو بھولے بھالے مسلمانوں كو اپنے گِرد جمع كرتے هیں، اس سے دور دراز دیهاتوں میں فتنه ارتداد پنپ رها هے، اس پس منظر میں عرض هے كه یه مسلمانوں سے ان كی شناخت چھیننے اور اس پر قبضه كرنے كی ایك قبیح كوشش هے۔
سوچئے ! اگر کچھ ہندو بھائی مندر بنائیں اور اس کا نام ’’جامع مسجد دہلی‘‘یا ’’مکہ مسجد حیدر آباد‘‘رکھ دیں یا کچھ مسلمان مسجد بنائیں اور اس کو ہندوؤں کے کسی مقدس مقام کا نام دے دیں ، کیا مسلمانوں اور ہندوؤں کے لئے یہ بات قابل قبول ہوگی ؟ — ہر گز نہیں ؛ کیوںکہ اس طرح ان کی شناخت متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، قادیانیوں کا اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنا اور کلمہ طیبہ کو اپنا کلمہ قرار دینا اسی انداز کا عمل ہے ، جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے ۔
پھر اس میں دھوکہ کا پہلو بھی ہے ، اگر کوئی شخص سور کا گوشت بیچے اور گاہکوں پر واضح کردے کہ یہ سور کا گوشت ہے تو ایك سیكولر ملك میں اس میں حرج نہیں ، یہ اس کا ذاتی فعل ہے ؛ لیکن اگر کوئی شخص خنزیر کے گوشت کو بکرے کا گوشت بتاکر فروخت کرے تو یقیناً یہ ایک زبردست دھوکہ ہے اورکسی کے لئے بھی قابل قبول نہیں ، قادیانیوں کا طرز عمل بالکل یہی ہے ، وہ مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اور اپنے آپ کو کافر ہونے کے باوجود مسلمان قرار دیتے ہیں، وہ محمد رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے ، مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مانتے ہیں؛ لیکن کلمہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھتے ہیں ، یہ واضح طور پر مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ ہے ، آج قادیانیوں کی طرف سے دیہات و قصبات اور شہر کے سلم علاقوں اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ محلوں میں ارتداد کا فتنہ پھیلایا جارہا ہے ، اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، مسجد کے نام سے اپنی عبادت گاہیں تعمیر کرتے ہیں ، کلمہ طیبہ پڑھ کر لوگوں کو مسلمان ہونے کا یقین دلاتے ہیں ، یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا رسول اور خاتم النبیین مانتے ہیں؛ حالاںکہ یہ محض دھوکہ اور دروغ گوئی ہے ، اسی سے سادہ لوح مسلمان دھوکہ کھاجاتے ہیں اوروہ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی مسلمانوں کی بہت سی جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے۔
قادیانیوں کے کلمہ طیبہ پڑھنے کی حقیقت یہ ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بعینہ محمد رسول اللہ ﷺ قرار دیتے ہیں ؛ چنانچہ خود مرزا صاحب اپنے بارے میں لکھتے ہیں :
جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علاحدہ طور پر نبوت کا دعوی کیا ؟ (ایک غلطی کا ازالہ: ۱۰)
اس طرح کی بات مرزا صاحب نے متعدد مقامات پرلکھی ہے اور قادیانیوں کے ہاں یہ تصور ایسا راسخ ہے کہ قادیانی شعراء نے کثرت سے مرزا غلام احمد کے لئے مدحیہ اشعار میں اسے دھرایا ہے ، یہاں صرف دو اشعار نقل کئے جاتے ہیں :
پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے
تجھ پر اترا ہے قرآن رسول قدنی
حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفےٰ مرزا بن کے آیا
گویا جب قادیانی حضرات کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو محمد رسول اللہ میں محمد سے مرزا غلام احمد قادیانی کو مراد لیتے ہیں ، یہ ایسی باتیں نہیں ہیں جو کسی مسلمان کی طرف سے ان پر تھوپی جارہی ہیں ؛ بلکہ خود مرزا غلام احمد قادیانی کے لڑکے اور قادیانی مذہب کے ایک خلیفہ مرزا بشیر احمد کا بیان ہے :
ہاں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے آنے سے (کلمہ کے مفہوم میں) ایک فرق ضرور پیدا ہوگیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت سے پہلے تو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گذرے ہوئے انبیاء شامل تھے ، مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت کے بعد ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی؛ لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ باللہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا ؛ بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگتا ہے ۔
غرض کہ قادیانی حضرات پڑھتے تو ہیں وہی کلمہ جو مسلمان پڑھتے ہیں ؛ لیکن ان کی مراد عام مسلمانوں سے مختلف ہوتی ہے ؛ لہٰذا یہ بات بالکل واضح ہے کہ قادیانیوں کا اپنی عبادت گاہ کو مسجد سے موسوم کرنا اور کلمہ طیبہ کو اپنا کلمہ قرار دینا کھلا ہوا دھوکہ اور مسلمانوں سے ان کی پہچان چھیننے کی کوشش ہے اور اس پر ان کا احتجاج کرنا بالکل غیر معقول اورنا منصفانہ ہے ، قادیانیوں کو چاہئے کہ وہ صاف طور پر واضح کردیں کہ ہم مسلمان نہیں ہیں اور اس دین کی پیروی نہیں کرتے، جس کو لے کر محمد رسول اللہ ﷺ آئے ؛ بلکہ ہم ایک الگ مذہب کے ماننے والے ہیں، جس کی بنیاد مرزا غلام احمد قادیانی نے رکھی ہے ، ہم قرآن کو آخری کتاب نہیں مانتے ؛ بلکہ مرزا غلام احمد کی کتابوں کو آخری الہامی کتاب مانتے ہیں ، وہ اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کا نام نہ دیں اور اپنے عقیدہ کے مطابق کلمہ طیبہ کی جگہ کوئی دوسرا کلمہ وضع کرلیں تو مسلمانوں کو ان پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا ، جیسے کسی مسلمان کو ہندو کے ہندو ہونے ، عیسائی کے عیسائی ہونے اورسکھ کے سکھ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ، اس بات کے واضح ہوجانے کے باوجود کہ قادیانیت ایک الگ مذہب ہے ، اگر کوئی شخص مرتد ہوتا ہے اور حق سے منھ پھیرکر باطل کا راستہ اختیار کرتا ہے تو مسلمانوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ؛ کیوںکہ گمراہی کے واضح ہونے کے باوجود اگر کوئی گمراہی کا راستہ اختیار کرے تو اس کی گمراہی دین حق کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی اور نہ اسلام کو ایسے گمراہوں کی کوئی حاجت ہے !
. . .