Breaking
جمعہ. جولائی 31st, 2026

ندائے جمعہ اور بندہ مؤمن کی کامیابی

ندائے جمعہ اور بندہ مؤمن کی کامیابی

ندائے جمعہ اور بندہ مؤمن کی کامیابی

ازقلم: افتخاراحمدقادری

ہفتے کے سات دنوں میں جمعہ ایک ایسا دن ہے جسے الله تعالیٰ نے اپنی خاص رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں کے لیے منتخب فرمایا۔ یہ وہ دن ہے جس کے طلوع ہوتے ہی فضاؤں میں ایک روحانی کیفیت جنم لیتی ہے، مساجد آباد ہونے لگتی ہیں، اذانوں کی دل نشین صدائیں ایمان والوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں اور بندہ مؤمن دنیا کی بے شمار مصروفیات کے باوجود اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری کو اپنی سب سے بڑی سعادت سمجھتا ہے۔ جمعہ کے دن کو اسلام نے عبادت کا دن نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی زندگی، دینی شعور، روحانی تربیت اور اخلاقی اصلاح کا عظیم ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس دن کی حقیقت یہ نہیں کہ مسلمان دو رکعت نماز ادا کر کے واپس اپنی دنیاوی مصروفیات میں مشغول ہو جائیں بلکہ اس کا اصل پیغام یہ ہے کہ انسان پورے ہفتے کی غفلتوں کا محاسبہ کرے، اپنے ایمان کو تازگی بخشے، اپنے اعمال کا جائزہ لے اور الله تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مزید مضبوط بنائے۔
قرآن کریم میں جمعہ کے لیے خصوصی حکم نازل ہوا کہ جب نمازِ جمعہ کی اذان دی جائے تو الله کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت کو چھوڑ دو۔ یہ حکم اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ دنیا کی ہر تجارت، ہر کاروبار اور ہر مشغولیت اس وقت ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے جب ربِ کائنات اپنے بندوں کو اپنے دربار میں حاضر ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ جمعہ دراصل بندگی کا وہ اعلان ہے جس میں انسان یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کی زندگی کا اصل مرکز الله تعالیٰ کی رضا ہے۔ ایک مسلمان جب کاروبار بند کرتا ہے، دکان کا شٹر گراتا ہے، دفتر سے اجازت لیتا ہے یا اپنی دوسری مصروفیات کو مؤخر کرتا ہے تو وہ عملی طور پر یہ پیغام دیتا ہے کہ دنیاوی منفعت سے بڑھ کر الله تعالیٰ کی اطاعت اس کے نزدیک زیادہ قیمتی ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ایک عام انسان کو بندہ مؤمن کے مقام تک پہنچاتا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن کو تمام دنوں کا سردار قرار دیا۔ احادیث میں اس دن کی بے شمار فضیلتیں بیان ہوئی ہیں۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن زمین پر تشریف لائے اور اسی دن قیامت بھی قائم ہوگی۔ گویا انسان کی ابتدا بھی جمعہ سے وابستہ ہے اور اس کی آخری منزل کا اعلان بھی اسی دن ہوگا۔ اس حقیقت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ صرف ایک ہفتہ وار عبادت نہیں بلکہ پوری انسانی تاریخ سے جڑا ہوا دن ہے۔ اس دن کا خوب صورت پہلو مسلمانوں کا اجتماعی اجتماع ہے۔ اسلام نے رنگ، نسل، زبان، دولت اور منصب کی تمام تفریقیں مٹا کر ایک ہی صف میں کھڑا ہونے کا درس دیا۔ مسجد کی صفوں میں نہ کوئی امیر اپنی دولت پر فخر کر سکتا ہے اور نہ کوئی غریب اپنی تنگ دستی پر شرمندہ ہوتا ہے۔ نہ کسی منصب دار کی کرسی باقی رہتی ہے اور نہ کسی مزدور کی مشقت اس کے مقام کو کم کرتی ہے۔ سب ایک ہی رب کے سامنے جھکتے ہیں، ایک ہی امام کی اقتدا کرتے ہیں اور ایک ہی قبلے کی طرف رخ کر کے اپنی بندگی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہی منظر اسلامی مساوات کی سب سے روشن تصویر ہے۔
بدقسمتی سے آج بہت سے مسلمانوں کے نزدیک جمعہ صرف ایک رسمی عبادت بنتا جا رہا ہے۔ لوگ آخری لمحے میں مسجد پہنچتے ہیں، خطبہ جمعہ کو سننے کے بجائے آپس میں گفتگو کرتے رہتے ہیں، موبائل فون استعمال کرتے ہیں یا مسجد کے باہر وقت گزارتے ہیں۔ حالانکہ خطبہ جمعہ محض چند رسمی جملوں کا نام نہیں بلکہ امت کی فکری اور اخلاقی تربیت کا عظیم ذریعہ ہے۔ خطیب جب قرآن و سنت کی روشنی میں معاشرے کے مسائل پر گفتگو کرتا ہے تو دراصل وہ لوگوں کی اصلاح، بیداری اور دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہا ہوتا ہے۔ اگر مسلمان توجہ سے خطبہ سننے کی عادت اپنا لیں تو یقیناً ان کی فکری زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے اور اس دن صفائی، طہارت اور حسنِ ظاہر کا بھی دن ہے۔ اسلام نے اس دن غسل کرنے، بہترین لباس پہننے، خوشبو لگانے اور پاکیزگی کا اہتمام کرنے کی تعلیم دی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف باطن کی اصلاح پر زور نہیں دیتا بلکہ ظاہر کی پاکیزگی کو بھی عبادت کا حصہ قرار دیتا ہے۔ جب ایک مسلمان صاف ستھرے لباس میں، خوشبو سے معطر ہو کر مسجد کی طرف جاتا ہے تو وہ دراصل اپنے رب کے حضور ادب و احترام کے ساتھ حاضری دیتا ہے۔ اس دن درودِ پاک کی کثرت، تلاوتِ قرآن، ذکر و دعا اور استغفار کی خصوصی ترغیب دی گئی ہے۔ جمعہ کی ساعتِ قبولیت ایسی عظیم نعمت ہے جس میں بندہ مومن اپنے رب کے حضور جو جائز دعا کرتا ہے الله تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔ اہلِ ایمان اس دن کو محض ایک تعطیل یا آرام کا دن نہیں سمجھتے بلکہ اسے اپنی روحانی ترقی کا بہترین موقع تصور کرتے ہیں۔
آج کے مادّہ پرستانہ ماحول میں جمعہ کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ انسان مشین بنتا جا رہا ہے، تعلقات کمزور ہو رہے ہیں، عبادت سے غفلت بڑھ رہی ہے اور دنیا کی دوڑ نے دلوں کو بے سکون کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں جمعہ ہر ہفتے انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کا اصل سرمایہ بینک بیلنس نہیں بلکہ ایمان ہے، اس کی اصل کامیابی دنیا کی شہرت نہیں بلکہ الله تعالیٰ کی رضا ہے اور اس کی اصل منزل عارضی دنیا نہیں بلکہ آخرت کی دائمی زندگی ہے۔ جمعہ کی اذان جب فضا میں گونجتی ہے تو حقیقت میں یہ صرف نماز کی دعوت نہیں ہوتی بلکہ غفلت سے بیداری، گناہوں سے توبہ، نفرت سے محبت، خود غرضی سے ایثار اور دنیا پرستی سے خدا پرستی کی دعوت ہوتی ہے۔ جو شخص اس پکار کو دل کی گہرائی سے قبول کرتا ہے، وہ اپنے کردار میں بھی تبدیلی محسوس کرتا ہے، اپنے اخلاق میں بھی نرمی پیدا کرتا ہے اور اپنی زندگی کو بھی شریعت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو بندہ مؤمن کی حقیقی کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔ در اصل یہ دن اس حقیقت کا اعلان کرتا ہے کہ مسلمان ایک ایسی امت ہے جس کی بنیاد صرف عقیدے پر نہیں بلکہ اجتماعیت، اخوت اور باہمی خیر خواہی پر قائم ہے۔ ہفتے میں ایک مرتبہ ایک ہی شہر، ایک ہی محلے اور ایک ہی بستی کے لوگ ایک ہی مسجد میں جمع ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے ہیں، اپنے معاشرے کی صورتِ حال سے آگاہ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کا جذبہ تازہ کرتے ہیں۔ اگر اس اسلامی نظام کی روح کو سمجھ لیا جائے تو معاشرے میں تنہائی، بے حسی اور باہمی نفرت کی جگہ محبت، تعاون اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔
افسوس! کہ آج بہت سے مسلمان جمعہ کی روح سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض لوگ اسے صرف ایک رسمی فریضہ سمجھتے ہیں، بعض کے لیے یہ محض ہفتہ وار تعطیل کا آغاز ہے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو کاروبار اور دنیاوی مفادات کو نماز پر ترجیح دیتے ہیں۔ حالانکہ ایک سچا مؤمن جانتا ہے کہ رزق کے دروازے اللہ تعالیٰ کھولتے ہیں، کاروبار میں برکت بھی اسی کے اختیار میں ہے اور عزت و کامیابی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جو بندہ الله تعالیٰ کے حکم کو مقدم رکھتا ہے تو الله تعالیٰ اس کے لیے ایسی راہیں پیدا فرما دیتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یاد رکھیں کہ جمعہ کی برکت صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات انسان کی پوری زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ جو شخص اس دن اخلاص کے ساتھ عبادت کرتا ہے، وہ اپنے گھر میں بھی نرمی، اپنے کاروبار میں بھی دیانت، اپنے معاملات میں بھی انصاف اور اپنے اخلاق میں بھی خوش مزاجی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسلام کا مطلوب یہی ہے کہ عبادت کا اثر کردار پر نمایاں ہو، کیونکہ وہ نماز ہی کیا جو انسان کو برائی سے نہ روکے اور وہ جمعہ ہی کیا جس کے بعد انسان کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی پیدا نہ ہو۔ یہ قابلِ غور ہے کہ جمعہ کا خطبہ ہمیشہ مسلمانوں کو انفرادی عبادت کے ساتھ اجتماعی ذمہ داریوں کی بھی یاد دہانی کراتا ہے۔ اس میں تقویٰ کی تلقین، حقوق العباد کی اہمیت، ظلم سے بچنے، سچ بولنے، امانت داری اختیار کرنے اور معاشرے میں امن و محبت کو فروغ دینے کا درس دیا جاتا ہے۔ گویا ہر جمعہ مسلمانوں کے لیے ایک اخلاقی درس گاہ بھی ہے جہاں انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بنیں۔
موجودہ دور میں جبکہ مادیت نے انسانی قدروں کو کمزور کر دیا ہے، رشتے مفادات کے تابع ہوتے جا رہے ہیں، نوجوان بے شمار فکری اور اخلاقی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں اور معاشرہ اضطراب کا شکار ہے ایسے وقت میں جمعہ کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ یہ دن انسان کو اپنے رب سے جوڑتا ہے، اسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے، اس کے دل میں آخرت کی فکر پیدا کرتا ہے اور اسے یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی ہر کامیابی عارضی ہے جبکہ حقیقی کامیابی الله تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔ لہذا! اس دن وقت کی قدر کیجئے، نماز کے لیے بروقت مسجد پہنچئے، خطبہ خاموشی سے سنیں، ذکر و دعا میں مشغول رہیں اور عبادت کے ہر لمحے کو غنیمت جانیں دراصل وقت کی صحیح قدر شناسی ہے۔ جو قومیں وقت کی اہمیت کو سمجھ لیتی ہیں وہ ترقی کی منزلیں طے کرتی ہیں، اور جو وقت کو ضائع کر دیتی ہیں وہ زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اسلام نے عبادت کے ذریعے بھی ہمیں نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کا سبق دیا ہے۔ اگر ہر مسلمان یہ عہد کر لے کہ جمعہ صرف ایک دن کی عبادت نہیں بلکہ آئندہ پورے ہفتے کی اصلاح کا آغاز ہے تو یقیناً اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نمایاں انقلاب آ سکتا ہے۔ مساجد آباد ہوں گی، گھروں میں دینی ماحول پیدا ہوگا، تجارت میں دیانت داری بڑھے گی، زبانیں جھوٹ، غیبت اور بہتان سے محفوظ ہوں گی، نوجوان کردار کی پختگی اختیار کریں گے اور معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بننے لگے گا۔ یہی وہ مقاصد ہیں جن کے لیے اسلام نے جمعہ کو خصوصی اہمیت عطا فرمائی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جمعہ کو صرف ایک عبادت کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے اپنی زندگی کا ہفتہ وار احتساب سمجھیں۔ ہم اپنے دل سے پوچھیں کہ گزشتہ جمعہ سے آج تک ہم نے الله تعالیٰ کے کتنے احکام پر عمل کیا، کتنے گناہوں سے توبہ کی، کتنے لوگوں کے حقوق ادا کیے، کتنے مظلوموں کی مدد کی، کتنی بار سچ کا ساتھ دیا اور کتنی مرتبہ اپنے نفس کی خواہشات پر قابو پایا۔ اگر ہر جمعہ یہ محاسبہ ہماری عادت بن جائے تو ہماری زندگی کا رخ خود بخود بدلنے لگے گا۔ بندہ مومن کی کامیابی نہ دولت کی فراوانی میں پوشیدہ ہے نہ شہرت کی بلندی میں اور نہ اقتدار کی طاقت میں بلکہ اس کی اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ جب الله تعالیٰ کی طرف سے جمعہ کی پکار بلند ہو تو وہ ہر دوسری آواز پر اس آواز کو ترجیح دے، اپنے رب کے حضور عاجزی سے حاضر ہو، دل میں اخلاص، زبان پر ذکر، آنکھوں میں خشیت اور کردار میں تقویٰ پیدا کرے۔ ایسا انسان دنیا میں بھی عزت پاتا ہے، معاشرے میں بھی اعتماد حاصل کرتا ہے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار بنتا ہے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت، یوپی
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے