جمعہ نامہ : شریعتِ اسلامی سے انحراف اور معاشرتی مسائل
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’۰۰۰ ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں ، دو دو اور تین تین اور چار چار ( مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے ) ، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم ( زائد بیویوں میں ) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے ( نکاح کرو ) یا وہ کنیزیں جو ( شرعاً ) تمہاری ملکیت میں آئی ہوں ، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو‘‘۔ اس آیت میں نکاح کی ترغیب کے ساتھ تعدد ازدواج کی اجازت دی گئی لیکن اسے عدل سے مشروط کیا گیا اور اس پر چار کی تحدید لگا دی گئی۔ آج کل تعدد ازدواج کو معیوب سمجھا جارہا ہے مگر لیوان ریلیشن کے چور دروازے پر کوئی قیدو بند نہیں ہے اور وہ بے شمارجنسی تعلق رکھنے کے لیے آزاد ہیں۔ پچھلے دنوں ایک شخص کے پچیس خواتین سے شادی کی خبر آئی مگر چونکہ سارے فریق ہندو تھے اس لیے ہندووں نے توجہ نہیں دی اور مسلمانوں نے بھی نظر انداز کردیا ورنہ سوشیل میڈیا میں قیامت برپا ہوجاتی۔ اسی ہفتے تین ہندو بہنوں نے ایک مرد سے شادی کرکے کہا راجہ دشرتھ کی چار بیویاں ہوسکتی ہیں ہم نے کون سا پاپ کردیا ۔ یکساں سیول کوڈ کے حامیوں کو اس پر غور کرنا چاہیے،کچھ علاقوں میں ایک بیوی کے کئی شوہروں کا رواج بھی شریعت الٰہی کےا نکار کا نتیجہ ہے۔
ارشادِ فرقانی ہے:’’ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا کی، یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں‘‘ یعنی رشتۂ نکاح سکون، باہمی محبت اور پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ یہاں تک کہ قوم کی بیواوں ، غلاموں اور لونڈیوں کے بھی نکاح کی تلقین کی گئی اگرچہ وہ مفلس ہوں کیونکہ نکاح بدکاری سے بچنے اورنسل انسانی نسل کی بقا کا قانونی و شرعی ذریعہ ہے۔ دین اسلام میں نکاح کے بعد دو اجنبی افراد ایک جان دو قالب بن جاتے ہیں لیکن اس کو فی زمانہ مختلف رسوم و رواج میں الجھا کر مشکل اور مہنگا بنادیا گیا ۔ دلہن کے گھر پر دعوت طعام کو لازمی اور ولیمہ کو نہایت پرتکلف جامہ پہنا کرفضول خرچی کے زمرے میں شامل کردیا گیا۔ اس لیے اول تو تاخیر اورپھر قرض کا بوجھ مصیبت بن جاتا ہے۔ جہیز کی رسم کو مالی بوجھ اور معاشرتی تنازعات کامنبع بنادیا گیا۔ خطبۂ نکاح میں پڑھی جانے والی تین اہم آیات رشتۂ نکاح کی نہایت مضبوط بنیادیں ہیں۔ پہلی آیت ہے:’’ا ے اہل ایمان ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جتنا کہ اس کے تقویٰ کا حق ہے اور تمہیں فرمانبرداری کی حالت میں ہی موت آئے‘‘۔تقویٰ میں ڈر اور محبت دونوں شامل ہے ۔ اللہ دوام کا پیغام بھی ہے۔ دوسری آیت باہمی مساوات کا اضافہ کردیتی ہے۔
فرمانِ ربانی ہے:’’ اے لوگو اپنے اس رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے پھیلا دیے (زمین میں) کثیر تعداد میں مرد اور عورتیں اور تقویٰ اختیار کرو اس اللہ کا جس کا تم ایک دوسرے کو واسطہ دیتے ہو اور رحمی رشتوں کا لحاظ رکھو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے‘‘۔ یہاں صلہ رحمی کی یاددہانی بتاتی ہے کہ یہ نیا رشتہ پرانے رشتوں کے منقطع ہونےکا سبب نہ بنے ۔آگے پڑھی جانے والی آیات میں فرمان قرآنی ہے:’’ اے اہل ِایمان ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور بات کیا کرو سیدھی۔ اللہ تمہارے سارے اعمال درست کردے گا اور تمہاری خطائیں بخش دے گا۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند ہوگیا تو اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی‘‘۔ عام طور پر بات گھمانے پھرانے سے بگڑ جاتی ۔اس سےپیدا ہونے والی بے اعتمادی رشتۂ ازدواج کو ٹوٹنے کے کگار پر پہنچا دیتی ہے۔ اس لیے صحتمند رشتے کی بنیاد کے پتھر بھروسا اور شفافیت ہیں۔ دین اسلام میں طلاق اور خلع کی بھی انتہائی سادہ ، معتدل اور سہل گنجائش موجود ہے ۔ ارشادِ قرآنی ہے :’’ طلاق دو مرتبہ ہے پھر یا تو معروف طریقے سے روک لینا ہے یا پھر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردینا ہے اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم نے انہیں دیا تھا اس میں سے کچھ بھی واپس لو سوائے اس کے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ حدود اللہ کو قائم نہیں رکھ سکیں گے پس اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہیں رہ سکتے تو ان دونوں پر اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں ہے جو عورت فدیہ میں دے یہ اللہ کی حدود ہیں پس ان سے تجاوز مت کرو اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہی ظالم ہیں‘‘ اس طرح باہمی رضامندی سے ہنسی خوشی ساتھ آنے والے زن و شو دور جاسکتے ہیں ۔
سناتن روایات میں خواتین کا آزاد وجود تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ اسی لیے وہاں باپ اپنی بیٹی کا کنیادان کرتا ہےاور جہیز دے کر اسے وراثت کے حق سے محروم کردیتا ہے۔ شوہر کو پتی کہا جاتا ہے جس کے معنیٰ مالک کے ہوتے ہیں۔ شادی سات جنموں کا رشتہ ہوتی ہے اس لیے مرنے کے بعد بھی قائم رہتی ہے اس لیے طلاق و خلع کا دروازہ ازخودبند ہوجاتا ہے۔ اس لیے ہندو سماج مرد و خواتین جدائی کے لیے موجودہ عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں مگر وہاں مقدمہ برسہا برس چلتا ہے ۔پچھلے دنوں راجستھان کورٹ نے 16 سال سے جدائی کباوجود طلاق دینے سے انکار کردیا اور15000 ماہانہ خرچ جاری رکھنے کی تلقین کی۔ اڑیشہ میں دس سال بعد ایک شخص کو عدالت سے طلاق ملی جبکہ اس کی بیوی 45؍ایف آئی داخل کرچکی تھی ۔ پچھلے سال ایک نہایت متمول انجنیئر نے بیوی سےپریشان ہوکر خودکشی کی اور فی الحال میرٹھ کی جیل میں پانچ ایسی خواتین موجود ہیں جنھوں نےطرح طرح سے اپنے شوہر کا قتل کردیا اور گرفتار ہوگئیں۔ تین طلاق پر ٹسوے بہانے والے دانشوروں کو سوچنا چاہیے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو مردوں کے علاوہ خواتین تک کو ایسے انتہائی اقدامات کرنے پر مجبور کررہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دین حنیف سےروگردانی اخروی ناکامی کے ساتھ دنیوی تباہی کا بھی سبب بنتی ہے۔