اردو مرکز کی رونقیں ایک عشرہ بعدبحال، سلور جوبلی کی تیاریاں شروع.
"اردو مرکز صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ تعلیمی، ادبی اور ثقافتی تحریک ہے”
ازقلم:جاویدجمال الدین
عدالتی جدوجہد رنگ لائی، بی ایم سی نے امام باڑا میونسپل اردو اسکول میں کمرہ فراہم کیا، جلد ہی اردو، مراٹھی اور انگریزی کی کلاسیں، لائبریری اور بھنڈی بازار میلہ دوبارہ شروع ہوں گے
ممبئی: جنوبی ممبئی کے تاریخی اور تہذیبی علاقے بھنڈی بازار میں قائم تعلیمی و ثقافتی ادارہ اردو مرکز تقریباً دس برس کی بندش کے بعد ایک بار پھر سرگرم ہونے جا رہا ہے۔ طویل قانونی جدوجہد اور مسلسل عوامی نمائندگی کے بعد برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے امام باڑا میونسپل اردو اسکول میں اردو مرکز کو اپنی تعلیمی اور ادبی سرگرمیوں کے لیے ایک کمرہ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیش رفت کو ممبئی کے ادبی، تعلیمی اور سماجی حلقوں میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔
اردو مرکز کے ڈائریکٹر اور صدر ایڈوکیٹ زبیر اعظمی نے نمائندے سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ 1999 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ اب اپنے قیام کے 26 برس مکمل کر رہا ہے، اسی مناسبت سے اس کی سلور جوبلی تقریبات کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اردو مرکز صرف ایک لائبریری نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک ہے جس کا مقصد نئی نسل میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنا، زبان و ادب سے رشتہ مضبوط کرنا اور مختلف تہذیبوں اور زبانوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھنڈی بازار، ناگپاڑہ اور مدن پورہ کا علاقہ گزشتہ ایک صدی سے ممبئی کی ادبی، ثقافتی اور فکری سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ ترقی پسند تحریک کے متعدد ممتاز ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے اسی علاقے سے اپنی ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ اردو مرکز کا قیام بھی اسی تاریخی روایت کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش تھا تاکہ اردو اور مراٹھی زبانوں کے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے درمیان مکالمہ، تبادلۂ خیال اور ثقافتی روابط کو مستحکم کیا جا سکے۔
ایڈوکیٹ زبیر اعظمی نے بتایا کہ جولائی 2016 میں اردو مرکز کی سرگرمیاں اچانک معطل ہوگئی تھیں، جس کے بعد ادارے کو بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ بی ایم سی کا مؤقف تھا کہ مرکز میں ہونے والی سرگرمیاں تعلیمی دائرے میں نہیں آتیں، تاہم اردو مرکز نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا۔ عدالت کے روبرو یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ تعلیم صرف نصابی اسباق یا الف، بے، پے سکھانے تک محدود نہیں بلکہ ادب، کتاب بینی، تخلیقی سرگرمیوں، ثقافتی تربیت اور شخصیت سازی بھی تعلیمی عمل کا لازمی حصہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دورانِ سماعت عدالت نے بھی بی ایم سی سے تعلیم کی تعریف اور اس کے معیارات کے بارے میں سوالات کیے۔ اردو مرکز کی جانب سے یہ واضح کیا گیا کہ لائبریری، ادبی نشستیں، مطالعہ اور تخلیقی سرگرمیاں بچوں کی ذہنی اور فکری نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہی دلائل کی بنیاد پر عدالت نے اردو مرکز کے موقف کو اہمیت دی، جس کے بعد بی ایم سی نے مرکز کی سرگرمیوں کی بحالی پر آمادگی ظاہر کی۔ اگرچہ مقدمہ ابھی زیرِ سماعت ہے، تاہم عدالت سے عبوری راحت ملنے کے بعد مرکز کی بحالی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
ایڈوکیٹ زبیر اعظمی نے بتایا کہ اردو مرکز کے آغاز ہی سے بی ایم سی کے پرائمری، سیکنڈری اور ڈی ایڈ کالج کے طلبہ اس کی سرگرمیوں کا محور رہے ہیں۔ یہاں اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی اور مراٹھی زبان کی خصوصی کلاسیں بھی چلائی جاتی تھیں تاکہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ اپنی تعلیمی کمزوریوں پر قابو پا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سے وابستہ رضاکار اساتذہ برسوں تک بچوں کو بلا معاوضہ انگریزی اور مراٹھی کی تعلیم دیتے رہے کیونکہ آج کے دور میں ان زبانوں سے واقفیت بھی ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اردو مرکز کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ کوئی زبان غیر نہیں ہوتی۔ ہر زبان علم، تہذیب اور ترقی کا وسیلہ ہے، اس لیے اردو کے ساتھ مراٹھی زبان کے فروغ کو بھی ہمیشہ یکساں اہمیت دی گئی۔ اسی مقصد کے تحت مستقبل میں بھی دونوں زبانوں کی تدریس، ادبی نشستیں، مذاکرے اور مشترکہ ثقافتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
اردو مرکز کی سرگرمیاں صرف زبانوں کی تعلیم تک محدود نہیں رہیں بلکہ یہاں بچوں کے لیے مصوری، کہانی گوئی، کتاب بینی، تخلیقی ورکشاپس اور مختلف ادبی مقابلوں کا بھی باقاعدگی سے انعقاد کیا جاتا تھا۔ ادارے کے پاس ہزاروں معیاری اور نایاب کتابوں پر مشتمل ایک قیمتی ذخیرہ موجود ہے، جسے جدید لائبریری نظام کے مطابق ایک تربیت یافتہ لائبریرین کے ذریعے کیٹلاگ کیا جائے گا تاکہ طلبہ، محققین، اساتذہ اور عام قارئین زیادہ بہتر انداز میں استفادہ کر سکیں۔
اردو مرکز کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اردو کے شیدائی ناصر جمال نے کہا کہ یہ صرف اردو والوں کے لیے نہیں بلکہ پورے شہر کے لیے خوش آئند خبر ہے۔ ان کے مطابق مرکز کے دوبارہ فعال ہونے سے اردو اور مراٹھی دونوں زبانوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ گھریلو خواتین، ڈرائیوروں، ملازمت پیشہ افراد اور دیگر ایسے لوگوں کے لیے بھی علیحدہ اوقات مقرر کیے جائیں جو روزمرہ مصروفیات کے باوجود اردو یا مراٹھی سیکھنے کے خواہش مند ہیں۔
اردو مرکز کی بحالی کے لیے مختلف سماجی اور عوامی شخصیات نے بھی مسلسل کوششیں کیں۔ ان میں رکن اسمبلی امین پٹیل، سماجی کارکن رئیس شاہ اور سابق کارپوریٹر جاوید جونیجا نمایاں ہیں، جنہوں نے بی ایم سی کے اعلیٰ حکام سے متعدد ملاقاتیں کرکے اردو مرکز کو دوبارہ فعال کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایڈوکیٹ زبیر اعظمی نے بتایا کہ مرکز میں اس وقت صفائی، رنگ و روغن اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا کام جاری ہے۔ اس کے مکمل ہوتے ہی اردو، مراٹھی اور انگریزی زبان کی کلاسیں، لائبریری کی خدمات، بچوں کی تخلیقی سرگرمیاں اور ادبی پروگرام دوبارہ شروع کر دیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ اردو مرکز کی شناخت بن جانے والا سالانہ بھنڈی بازار میلہ بھی دوبارہ منعقد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ میلہ صرف ایک ثقافتی تقریب نہیں بلکہ بھنڈی بازار کی ادبی، تہذیبی، تاریخی اور روایتی پکوانوں کی رنگا رنگ روایت کا آئینہ دار ہے، جس کے ذریعے ممبئی کی مشترکہ تہذیب اور گنگا جمنی ثقافت کو فروغ ملتا ہے۔
اردو مرکز کی بحالی کو شہر کے علمی و ادبی حلقے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ ادارہ نہ صرف اردو زبان و ادب کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرے گا بلکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور طبقات کے درمیان ہم آہنگی، مکالمے اور باہمی احترام کی نئی فضا بھی قائم کرے گا۔
@جاویدجمال الدین