Breaking
جمعہ. جولائی 31st, 2026

حماس کے ہتھیار ڈالنے سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے: اسرائیلی رپورٹس کا انکشاف

حماس کے ہتھیار ڈالنے سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے: اسرائیلی رپورٹس کا انکشاف

اسرائیلی چینل 13 کے ذرائع نے جمعرات کو انکشاف کیا ہے کہ حماس کی جانب سے اپنے ہتھیار ختم کرنے اور غزہ کی پٹی کا کنٹرول بین الاقوامی استحکام فورس کے حوالے کرنے کے اعلان سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں مصر میں ان مفاہمتوں پر دستخط کی تقریب منعقد کرنے کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں مصری اور قطری ثالثی کے دباؤ کے باعث مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات قاہرہ میں ہو رہے ہیں، جہاں حماس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد مصری انٹیلی جنس کی نگرانی میں موجود ہے، جبکہ قطر اور ترکی ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ چند ”معمولی” نکات پر اختلافات اب بھی موجود ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ معاہدے کے اعلان کے لیے پیش رفت پر زور دے رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق حماس اپنے ہتھیار کسی تیسرے فریق کے حوالے کرنے پر رضامند ہو سکتی ہے، تاہم یہ فلسطینی اتھارٹی نہیں ہوگی۔

امن منصوبہ

یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد دو سال تک جاری رہنے والی جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے۔اکتوبر 2025 میں جنگ بندی معاہدے کے بعد ٹرمپ نے غزہ کے لیے ایک امن منصوبہ پیش کیا، جس میں انسانی امداد میں اضافہ، فلسطینی سول انتظامیہ کا قیام، حماس کا ہتھیار ترک کرنا اور اسرائیلی افواج کا انخلا شامل تھا۔

تاہم یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہوگیا اور ”غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی” کے نام سے تجویز کردہ انتظامیہ اب تک غزہ میں کام شروع نہیں کر سکی۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل عملی طور پر غزہ کے تقریباً 64 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے، جبکہ تقریباً 20 لاکھ آبادی میں سے زیادہ تر لوگ ساحلی پٹی کے ایک محدود علاقے میں، جو حماس کے زیرِ اثر ہے، عارضی خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہ رہے ہیں اور انتہائی خراب حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب حماس نے ابھی تک باضابطہ طور پر اپنے ہتھیار ختم کرنے پر رضامندی کا اعلان نہیں کیا، جبکہ اسرائیل نے غزہ میں اپنا کنٹرول مزید بڑھا کر تقریباً 70 فیصد علاقے تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور وہاں مسلسل تقریباً روزانہ فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔

ٹرمپ کے منصوبے میں نام نہاد ”امن کونسل” کے قیام کی تجویز بھی شامل تھی، جو ایک بین الاقوامی ادارہ ہوگا اور امن منصوبے کے نفاذ کی نگرانی کرے گا۔ یہ کونسل غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس سمیت دیگر امور کی بھی نگرانی کرے گی۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے