طلبہ کی فتح، اصلاحات کی جدوجہد جاری رہے گی
مرکزی وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ عوامی جدوجہد اور جمہوری مزاحمت کی کامیابی ہے: ایس آئی او
نئی دہلی،25جولائی(پریس نوٹ) اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) نے مرکزی وزیرِ تعلیم کے استعفے کو طلبہ، والدین، اساتذہ اور ملک بھر کے شہریوں کی پْرامن اور پْرعزم جدوجہد کی کامیابی قرار دیا ہے۔ ایس آئی او نے کہا کہ جمہوریت میں عوامی عہدوں پر فائز افراد کا عوام کے سامنے جواب دہ ہونا ضروری ہے۔ یہ استعفیٰ کسی سیاسی احسان کا نتیجہ نہیں بلکہ ان لوگوں کی مسلسل جدوجہد کا ثمر ہے جنہوں نے اپنے جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کی اور خاموش رہنے سے انکار کیا۔
ایس آئی او نے کہا کہ اس کامیابی کے لیے طلبہ اور مظاہرین کو بھاری قیمت چکانی پڑی۔ پْرامن احتجاج کرنے والوں کو پولیس کی مبینہ زیادتی، من مانی گرفتاریوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، جو جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔ ایسے واقعات کی واضح اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔
تنظیم نے کہا کہ اگرچہ وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ ایک اہم قدم ہے، لیکن یہ حقیقی جواب دہی کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ وہ نظامی خامیاں جنہوں نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈالا، ان کی آزادانہ تحقیقات، شفاف ادارہ جاتی اصلاحات اور ہر سطح پر جواب دہی ضروری ہے۔
ایس آئی او آف انڈیا نے طلبہ برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ نے ثابت کردیا ہے کہ پْرامن، منظم اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے اقتدار کو جواب دہ بنایا جاسکتا ہے۔ تنظیم نے طلبہ اور مظاہرین کے خلاف کارروائی فوری طور پر روکنے، تمام جھوٹے مقدمات واپس لینے، پولیس کی مبینہ زیادتیوں کی آزادانہ تحقیقات کرانے اور جامع اصلاحات نافذ کرنے کا مطالبہ کیا، تاکہ آئندہ کسی بھی طالب علم کا مستقبل ادارہ جاتی ناکامی کی وجہ سے خطرے میں نہ پڑے۔