وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ کو آئندہ سال انتخاب لڑنا ہے۔ انہوں نے اپنے دس سالہ مدت کار میں اگر کوئی قابلِ ذکر کام کیا ہوتا تو وہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو ڈھانے کی کوشش نہیں کرتے ۔ ان سے کوئی یونیورسٹی تو بنائی نہیں گئی البتہ یوپی حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نےانضمام کے نام پر تقریباً 5000 سرکاری اسکول بند کرنے کا فیصلہ کردیا اور تعلیم سے وابستہ تنظیموں کے مطابق، حکومت کی نیت 27000؍ اسکول بند کرنے کی ہے۔ اس گناہِ عظیم کی پردہ پوشی کے لیے انہوں نے ضلع انتظامیہ کے ذریعہ محمدعلی جوہر یونیورسٹی پر چڑھائی کردی تاکہ ان کی تعلیم دشمنی چھپ جائے۔ ویسے بھی ہندو توا نواز یہ چاہتے ہی نہیں کہ برہمن یا نام نہاد اونچی ذاتوں کے علاوہ دیگر طبقات اور اقلیتیں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں کیونکہ یہ ان کے عقائد اور سیاسی مفاد کے خلاف ہے۔ ان لوگوں کا ایک بڑامسئلہ بغض وحسد بھی ہے ۔ ہندو مہاسبھا سے لے کر آر ایس ایس تک کی سوا سو سالہ تاریخ میں یہ مولانا محمد علی جوہر جیسا ایک مجاہد آزادی اور صحافی پیدا نہیں کرسکے ۔ مولانا محمد علی جوہر جس وقت آزادی کی جنگ لڑ رہے تھےیہ بیچارے انگریزوں سے وفاداری میں مخبری کررہے تھے۔ مولانا محمد علی جوہر تو خیر بہت بڑے آدمی تھے ان کے یہاں سے اعظم خان جیسا مقبول و معروف اور قابل سیاستداں بھی نہیں نکل سکا ۔ ان کےپاس اقتدار اور دولت کے بے شمار خزانے ہیں پھر بھی یہ کوئی محمد علی جوہر جیسی یونیورسٹی نہیں بنا سکے جس میں تین ہزار سے زائد طلبا کم سے کم فیس ادا کرکےبہترین تعلیم پارہے ہوں ۔ اس لیے ان کے دل کی جلن انہیں ایسی غلیظ حرکت کرنے پر اکساتی ہے۔
یوگی بابا اپنی نفرت کی پھونک سے جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرا کر دوبارہ اقتدار میں آنے کا خواب دیکھ رہے تھے مگر درمیان میں دہلی کے اندر نئی نسل (جین-زی) کا احتجاج شروع ہوگیا۔ اس نے پہلے تو فرقہ پرستی کے بجائے تعلیم کو بنیادی مدعا بنا دیا ۔ اس کے اندر بڑے پیمانے پر خوشحال متوسط ہندو طبقہ شامل ہوگیا جو بی جے پی کا سب سے بڑا ووٹ بنک ہے۔ اس کو یہ تو سمجھایا جاچکا تھا کہ ہندو خطرے میں ہے مگر انہیں یہ پتہ چل گیا کہ اصل خطرہ ہندوتوا نواز سرکاروں سے ہے جن کو وہ بھر بھر کر ووٹ دیتے ہیں ۔ اسی لیے جنتر منتر کے مظاہرین پر بلاتفریق مذہب و ملت امیت شاہ کی پولیس اور سنگھ کے غنڈوں نے حکومت کی سرپرستی میں مظالم ڈھائے اور اس کا شکار ہونے والوں کی غالب اکثریت بی جے پی کے رائے دہندگان تھے ۔ اب ملک کے ہندووں اور مسلمانوں کی سمجھ میں یہ آگیا ہےچونکہ ان دونوں کو خطرہ سنگھ پریوار سے ہے اس لیے مل جل کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ اس طرح سو سال کی محنت سے جو نفرت کی دیوار تعمیر کی گئی تھی وہ پینتیس دنوں کے اندر ڈھے گئی ۔ جنتر منتر کی مانند رام پور میں بھی ہندو مسلم طلبا شانہ بشانہ احتجاج کررہے تھے اور سماجوادی پارٹی ان کی حمایت میں اتری ہوئی تھی ۔ان حالات میں تعلیم اور طلبہ سے وابستہ یونیورسٹی کے معاملے میں حکومت کا رویہ نرم ہوگیااور نتیجہ یہ نکلا کہ 27 جولائی کو مرادآباد ڈویژن کے کمشنر آنجنے کمار سنگھ نے اگلی سماعت تک انہدامی کارروائی پر روک لگا دی۔
مرکزی حکومت کو اپنی طاقت کا بڑا گھمنڈ تھا مگر نیٹ امتحان کے پرچہ لیک معاملے پر جنتر منتر سمیت ملک بھرکے کئی شہروں میں نوجوانوں نے تمام تر سرکاری دباو کے باوجود زبردست احتجاج کیا۔ اس طرح مرکزی حکومت کو آخر کار پسپاہوکر دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ لینا پڑا۔ اس ایک تحریک کے بعد پورے ملک میں نوجوانوں کا حوصلہ بلند ہے۔ ایسے جوہر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں اترپردیش کے اندر نوجوانوں کے متحد ہو کر اسے بچانے کی جدوجہد کا امکان روشن ہوگیا ۔ ایسے میں طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان ٹکراؤ پر قابو پانا اگر امیت شاہ کے بس کی بات نہیں تو یوگی کس کھیت کی مولی ہیں ۔ مرکزی حکومت جنتر منتر کےمظاہرین کو ڈرانے کے لیے خود اس بات تشہیر کرتی رہی ہے کہ اس نے مغربی بنگال اور شمال مشرقی صوبوں سے نیم فوجی دستوں کی بہت بڑی تعداد ہوائی جہاز کے ذریعہ منگو ا لی ہے مگروہ (بیس جولائی کے علاوہ) ان کا ستعمال کرنے کی جرأت نہیں کرسکی۔ ایسا کرنا یوگی کے بس کی بات نہیں ہے اور آپسی رقابت کے سبب انہیں امیت شاہ کے تعاون کی امید بھی نہیں ہے ۔ اس لیےیوگی حکومت نے دہلی کی ہزیمت سے عبرت پکڑ کر اس معاملے کو رفع دفع کرنے کا ارادہ کرلیا ۔ اترپردیش کے اندر صرف 6–7 ماہ بعد انتخابات ہونے والے ہیں اور ایسے میں خوفزدہ یوگی پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں کیونکہ ان کے دشمن پارٹی کے اندر اور باہر دونوں جگہ ہیں ۔ ایودھیا میں چندہ چوری کا معاملہ ویسے ہی جان کا لاگو ہے ایسے میں اگر رام پور یونیورسٹی کا قضیہ الٹا پڑجائے تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے ۔
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کے لیے سماجوادی پارٹی اور کانگریس کا احتجاج کرنا ان کی سیاسی ضرورت کے ساتھ بہترین موقع بھی ہے لیکن ان کے علاوہ مقامی عوام میں اعظم خان کی سیاست یا ان کی جماعت سے غیر تعلق لوگ بھی یونیورسٹی کو گرانے کے خلاف ہیں۔ مقامی لوگوں کی مخالفت اس لیے ہے کیونکہ فی الحال یونیورسٹی میں تقریباً 3 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ یہ مختلف مذاہب اور ذات پات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی کے تحفظ کی خاطر چلنے والے احتجاج کسی ایک مخصوص مذہب یا طبقہ پر مشتمل نہیں تھا ۔ جوہر یونیورسٹی میں 16 شعبے، 14 فیکلٹیز اور انسٹی ٹیوٹس ہیں۔ میڈیکل، انجینئرنگ، قانون اور مینجمنٹ سمیت ہر قسم کے کورسز پڑھائے جاتے ہیں۔یونیورسٹی سے وابستہ اساتذہ کا دعویٰ ہے کہ آس پاس ایسے کالج موجود نہیں جہاں تمام طلبہ کو منتقل کیا جا سکے۔ اگر ایسا کر بھی لیا جائے تو مختلف فیکلٹیز کے لیے ضروری سہولیات فراہم نہیں کی جا سکیں گی۔ یہ کوئی جعلی یونیورسٹی نہیں بلکہ UGC سے منظوری شدہ ا دارہ ہے۔ 2014 میں UGC کی ماہر کمیٹی نے یونیورسٹی کا معائنہ کرکے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ یہاں مختلف کورسز کی فیس دوسرے نجی کالجوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ یہ یونیورسٹی تجارتی منافع کے لیے نہیں چلائی جا رہی ہے۔
مندرجہ بالا وجوہات کے سبب مقامی بی جے پی رہنما بھی یونیورسٹی بچانا چاہتے ہیں ۔ ان سے جب بھی انہدام بارے میں پوچھا جاتا ہےتو وہ بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ حد تو یہ ہے ریاستی سطح کے بھی کسی زعفرانی رہنما نے یونیورسٹی کو گرانے کی حمایت نہیں کی ۔ اس تناظر میں یوگی حکومت کے ایک قریبی افسر نے پلٹی مارتے ہوئے کہہ دیا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ یا حکومت کی کبھی بھی یونیورسٹی کو گرانے کی نیت نہیں رہی۔ مقامی سطح کے افسران اس نوعیت کے فیصلے لے رہے ہیں۔اس جھوٹ پر سیاست کی ابجد سے ناواقف انسان ہی یقین کرے گا کیونکہ ملک میں مودی یا یوگی کی مرضی کی خلاف ورزی کرنے والے افسر کی کم ازکم سزا تبادلہ اور پھر جیل ہے جس کے بے شمار ثبوت موجود ہیں ۔ مودی مخالف سنجیو بھٹ عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں اور یوگی مخالف سابق آئی پی ایس افسر امیتابھ ٹھاکر کو دو مرتبہ گرفتار کرکے جیل بھیجا جاچکا ہے۔ یہ ساری حرکتیں افسران کو ڈرا کر اپنی مرضی چلانے کے لیے کی گئیں اس لیے مذکورہ جھوٹ بے بنیاد ہے۔ اس تنازع کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جوہر یونیورسٹی کی تعمیر 2006 میں شروع ہوئی تھی۔ اس وقت رام پورڈیولپمنٹ اتھارٹی موجود ہی نہیں تھی۔ اس کے باوجود اس نے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کا حکم جاری کر دیا۔
جوہر یونیورسٹی کا معاملہ 20 جولائی کو الہ آباد ہائی کورٹ میں پہنچا اور سماعت کے لیے 28 جولائی کی تاریخ طے ہوئی مگر اس سے پہلے 72 جولائی کو سرکار نے گھٹنے ٹیک کر فی الحال انہدام پر روک لگا دی۔ قانونی ماہرین کے مطابق، ہائی کورٹ انہدام کے بجائے کوئی دوسرا راستہ مثلاً جرمانہ اور دیگر فیس وصول کر کے معاملے کو ریگولرائز کرنے کے امکان پر غور کر سکتا ہے کیونکہ عام طورپر نجی عمارتوں کی بابت بھی یہی طریقۂ کار اختیار کیا جاتا ہے یہ تو تعلیم گاہ ہے۔الٰہ آباد ہائی کورٹ نے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کی جانب سے دائر رِٹ پٹیشن میں درخواست گزاروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تین ہفتوں کے اندر اپنی نمائندگی متعلقہ رجسٹرار کے سامنے پیش کریں۔ اس طرح ہائی کورٹ نے اپنا دامن چھڑا کر انتظامی سطح پر قانونی طریقۂ کار کے مطابق راجسٹرار کو معاملہ نمٹانے کی ہدایت دے دی۔اس تنازع سے یوگی سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے مگر سماجوادی پارٹی نے اٹھا لیا۔ ا س نے 23 اور 25 جولائی کو دو مرتبہ اپنے وفود رامپور بھیجے ۔ ان میں شامل رکن پارلیمان اقرا حسن نے حکام سے ملاقات کے بعد کہا، "یونیورسٹی کی ایک ایک اینٹ کی جگہ اپنا سر رکھ دیں گے، لیکن اسے ٹوٹنے نہیں دیں گے۔” اس طرح یہ کہنا پڑے گا کہ اگلے الیکشن میں یونیورسٹی تو نہیں مگر یوگی سرکار ضرور گرجائے گی۔ ان شاء اللہ