کسی ملک کے تعلیمی نظام کی حالت جاننی ہو تو اس کے امتحانات کو دیکھ لیجیے۔ اگر سوالیہ پرچہ محفوظ ہو، امتحان شفاف ہو اور طالب علم کو اپنی محنت پر بھروسہ ہو تو سمجھ لیجیے کہ نظام ابھی سلامت ہے۔ لیکن اگر سوالیہ پرچہ امتحان سے پہلے ہی باہر نکل جائے، لاکھوں طلبہ کی محنت مشکوک ہو جائے اور پھر احتجاج کرنے والے طلبہ ہی کٹہرے میں کھڑے کر دیے جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ اصل سوال کچھ اور ہے!
آج کل ملک میں امتحانی بے ضابطگیوں اور سوالیہ پرچوں کے مبینہ افشا کے خلاف نوجوانوں میں غصہ ہے۔ ان کا مطالبہ کوئی بہت پیچیدہ نہیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ امتحانات شفاف ہوں، سوالیہ پرچے محفوظ ہوں اور اگر کہیں بدعنوانی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔مگر ہمارے ہاں مسئلہ حل کرنے سے پہلے مسئلے کے پیچھے ’’سازش‘‘ تلاش کرنے کا رواج کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے۔ چنانچہ طلبہ سڑک پر نکلیں تو فوراً ’’ٹول کٹ‘‘ سامنے آجاتی ہے، کوئی ’’غیر ملکی طاقت‘‘ تلاش کرنے لگتا ہے اور کوئی اسے ’’ملک دشمنی‘‘ کا نام دے دیتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر کسی طالب علم نے برسوں محنت کرکے امتحان کی تیاری کی، دن رات کتابوں میں سر کھپایا، والدین نے اپنی استطاعت کے مطابق اس کی تعلیم پر خرچ کیا اور پھر امتحان کے بعد اسے معلوم ہو کہ سوالیہ پرچہ پہلے ہی کسی کے ہاتھ پہنچ چکا تھا، تو وہ کیا کرے؟ خوشی سے تالیاں بجائے؟ یا یہ کہے کہ ’’چلیے، اگلی بار قسمت آزمائیں گے!‘‘
یہ بھی عجیب منطق ہے کہ امتحانی بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والوں سے پوچھا جائے کہ آپ احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟ بھئی، اگر گھر میں چوری ہو جائے تو چور سے سوال ہونا چاہیے یا گھر کے مالک سے کہ آپ نے شور کیوں مچایا؟
لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کے دل میں سب سے پہلے یہ یقین پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کی محنت محفوظ ہے۔ انہیں یہ اعتماد چاہیے کہ جس طالب علم نے ایمانداری سے امتحان دیا ہے، اس کا مقابلہ کسی ایسے شخص سے نہیں ہوگا جس کے پاس سوالیہ پرچہ پہلے سے موجود ہو۔
وزیر تعلیم استعفیٰ دیں یا نہ دیں، وزیراعظم بیان دیں یا نہ دیں، لیکن حکومت کی طرف سے ایک واضح اور سنجیدہ یقین دہانی ضرور ہونی چاہیے کہ آئندہ کسی بچے کی محنت کسی سوالیہ پرچے کی قیمت پر فروخت نہیں ہوگی۔
وزیراعظم جب ’’پریشانیوں پر بات‘‘ کرتے ہوئے طلبہ سے براہ راست گفتگو کرتے ہیں، ان کے امتحانی دباؤ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو پھر یہی توقع بھی کی جاسکتی ہے کہ جب لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے متعلق کوئی بڑا مسئلہ سامنے آئے تو ان کی آواز بھی سنی جائے۔ ایک حوصلہ دینے والا جملہ شاید امتحانی نظام کو فوراً درست نہ کردے، مگر پریشان طالب علم کو یہ احساس ضرور دلاتا ہے کہ حکومت اس کی فکر سے بے خبر نہیں۔یہاں ایک اور بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سوالیہ پرچہ خریدنے والا طالب علم یا والدین یقیناً غلطی کے مرتکب ہیں اور قانون کو اپنا کام کرنا چاہیے۔ لیکن صرف خریداروں کو موردِ الزام ٹھہرا کر اصل نظامی خرابی سے آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں۔ اگر کسی حساس امتحان کا سوالیہ پرچہ تیار ہونے سے لے کر امتحانی مرکز تک پہنچنے کے پورے عمل میں کہیں نہ کہیں کمزوری ہے تو اس کمزوری کو دور کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔آخر حکومت اسی لیے تو ہوتی ہے کہ وہ نظام بنائے، نگرانی کرے اور غلطی کرنے والوں کو روکے۔ اگر ہر شہری سے کہا جائے کہ آپ خود ایماندار بن جائیں، آپ خود قانون کی پابندی کریں، آپ خود کسی بدعنوانی کا حصہ نہ بنیں، تو پھر حکومت اور اداروں کی ضرورت ہی کیا رہ جائے گی؟
اس لیے سوالیہ پرچوں کی حفاظت کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، امتحانی نظام کی مکمل نگرانی، ذمہ دار اہلکاروں کا تعین، بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی اور کوچنگ مراکز کی مناسب نگرانی جیسےاقدامات ضروری ہیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ سوچنا بھی ہوگا کہ کیا پرانے طریقوں سے امتحانات کا انتظام ہمیشہ محفوظ رکھا جاسکتا ہے؟ اگر ٹیکنالوجی کا استعمال بینکوں، خلائی تحقیق اور حساس سرکاری معاملات میں ہوسکتا ہے تو امتحانات میں کیوں نہیں؟اور ہاں، اگر کوئی واقعی ’’کاکروچ‘‘ ہے تو اسے تلاش کرنا حکومت کا کام ہے۔ لیکن ہر احتجاج کرنے والے طالب علم کو کاکروچ سمجھ لینا مسئلے کا حل نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں کا ہر احتجاج کسی سیاسی جماعت کا منصوبہ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی نوجوان صرف اس لیے سڑک پر آتے ہیں کہ انہیں اپنے مستقبل کی فکر ہوتی ہے۔ ہر آواز کے پیچھے ’’ٹول کٹ‘‘ تلاش کرنے کے بجائے کبھی یہ بھی دیکھ لینا چاہیے کہ آواز اٹھانے والا آخر کہنا کیا چاہتا ہے۔تعلیم کا معاملہ سیاست، مذہب، ذات اور نظریاتی اختلافات سے کہیں بڑا ہے۔ آج جو بچہ امتحان دے رہا ہے، کل وہی ملک کا ڈاکٹر، انجینئر، استاد، افسر، سائنس دان یا محقق بنے گا۔ اس کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے، احتجاج کا بینر نہیں۔ اسے نظام پر اعتماد ہونا چاہیے، نظام سے خوف نہیں۔حکومت اگر واقعی چاہتی ہے کہ احتجاج ختم ہوں تو نسخہ بہت آسان ہے: سوالیہ پرچے محفوظ کریں، امتحانات شفاف بنائیں، ذمہ داروں کا تعین کریں، قصورواروں کو سزا دیں اور طلبہ کی بات سنیں۔
کیونکہ احتجاج کو دبانے سے سوال ختم نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی ایک سوال کو دبانے کی کوشش میں پورا معاشرہ نئے سوالات پوچھنے لگتا ہے۔اور آخر میں، اگر کوئی واقعی ’’کاکروچ‘‘ ہے تو اسے پکڑیے، ضرور پکڑیے۔ لیکن خدارا یہ بھی دیکھیے کہ کاکروچ گھر میں داخل ہوا کیسے؟کیونکہ ہر بار کاکروچ کو الزام دینے سے گھر صاف نہیں ہوتا، کبھی کبھی دروازہ بھی ٹھیک کرنا پڑتا ہے!!!