تعلیمی انصاف کی تحریک جنتر منتر سے حکومت تک

تعلیمی انصاف کی تحریک  جنتر منتر سے حکومت تک

تعلیمی انصاف کی تحریک جنتر منتر سے حکومت تک

ازقلم: محمد طارق اطہر حسین
جامعہ دار الہدیٰ الاسلامیہ، کیرالا

جمہوریت صرف انتخابی عمل یا ایوانوں کی کارروائی کا نام نہیں، بلکہ یہ عوام کے بنیادی حقوق، شفافیت اور حاکمِ وقت سے سوال کرنے کی آزادی کا مظہر ہے۔ بھارت میں جب بھی عوامی جذبات، بالخصوص انصاف، آئینی حقوق اور سماجی و تعلیمی مسائل پر عوامی بے چینی پیدا ہوتی ہے، تو دارالحکومت نئی دہلی کا تاریخی مقام ‘جنتر منتر’ جدوجہد کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔ حال ہی میں جنتر منتر ایک بار پھر ملک گیر بحث اور عوامی توجہ کا مرکز بن گیا، جہاں طالب علموں، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اپنے جائز مطالبات کے حق میں ایک منظم تحریک برپا کی۔ اس احتجاج کو اس وقت مزید اخلاقی طاقت اور قومی و بین الاقوامی سطح پر پزیرائی حاصل ہوئی جب معروف تعلیمی و ماحولیاتی اصلاح کار سونم وانگچک نے مظاہرین کے مطالبات کی حمایت میں طویل بھوک ہڑتال کا آغاز کیا۔ یہ تحریک محض کسی ایک وقتی واقعے یا مخصوص خطے کا ردِعمل نہیں تھی، بلکہ اس کے تانے بانے تعلیمی نظام کی بہتری، انتظامی شفافیت، نوجوانوں کے مستقبل اور جمہوری اقدار کی پاسداری سے جڑے ہوئے تھے، جس نے قومی بیداری کو ایک نیا رخ دیا۔
اس احتجاج کی بنیادی شروعات ملک کی مختلف طلبہ تنظیموں اور بیدار مغز نوجوانوں کی جانب سے ہوئی، جنہوں نے امتحانی نظام میں مسلسل رونما ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ افشا (پیپر لیک) ہونے کے واقعات اور انتظامی ناکامیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ جب امتحانی پروسیس میں شفافیت اور غیر جانبداری مفقود ہو جاتی ہے، تو اس کا براہِ راست اثر ان لاکھوں محنتی اور شائقینِ علم نوجوانوں پر پڑتا ہے جو سالہا سال اپنی راتوں کی نیندیں حرام کر کے اپنے مستقبل کی عمارت تعمیر کرتے ہیں۔ طلبہ نے حکومت سے صرف زبانی تسلی کے بجائے امتحانی ڈھانچے میں بنیادی اور تعمیری اصلاحات کا مطالبہ کیا، تاکہ بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ نوجوانوں کا یہ ماننا تھا کہ یہ معرکہ صرف ایک سال کے تعلیمی نقصان کا نہیں بلکہ ملک کی باصلاحیت نسل کے اعتماد، ایقاد اور قومی دھارے میں ان کے محفوظ مستقبل کا معاملہ ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔
جنتر منتر کا انتخاب اس لیے عمل میں لایا گیا کیونکہ یہ مقام دہائیوں سے پرامن احتجاج اور جمہوری بیداری کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ، اساتذہ، سماجی مفکرین اور عوامی نمائندے اس ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے تاکہ آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی بات اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا سکیں۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز کے ذریعے اپنے خدشات کو نہایت پرامن، باوقار اور منطقی انداز میں پیش کیا، اور حکومت پر زور دیا کہ وہ ان کے مطالبات کو تکنیکی یا سیاسی زاویے سے دیکھنے کے بجائے ایک قومی مسئلے کے طور پر لائقِ توجہ سمجھے۔ مظاہرین کی اس سلیقہ مندی اور جمہوری ضبطِ نفس نے یہ ثابت کر دیا کہ برصغیر کی روایت میں پرامن احتجاج ہی عوام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس پُروقار جدوجہد نے عوام الناس کو بھی متوجہ کیا، جس کی وجہ سے یہ معاملہ محض چند مظاہرین کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک وسیع تر قومی بحث کی شکل اختیار کر گیا۔
تحریک کا سب سے اہم موڑ اس وقت آیا جب لداخ سے تعلق رکھنے والے ممتاز انجینئر، ماحولیاتی کارکن اور تعلیمی اصلاح کار سونم وانگچک نے اس جدوجہد میں براہِ راست شمولیت کا فیصلہ کیا۔ وانگچک، جو اس سے قبل بھی لداخ کے ماحولیاتی تحفّظ اور مقامی حقوق کے لیے منفرد غیر متشدد جدوجہد کر چکے ہیں، کی شمولیت نے اس تحریک کو اخلاقی اور فکری وقار عطا کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کی آواز سے آواز ملاتے ہوئے غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کر دی اور یہ پیغام دیا کہ کسی بھی قوم کا حقیقی اثاثہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں، اور ان کے آئینی و تعلیمی حقوق کا تحفظ پوری ریاست کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن جدوجہد، آئینی راستوں کا استعمال اور سچائی پر قائم رہنا ہی جمہوریت کی روح ہے۔ ان کی اس بے لوث شمولیت نے تحریک کو ایک نیا سیاسی و سماجی وزن عطا کیا اور ایوانِ اقتدار کو یہ باور کرایا کہ اب اس مسئلے کو مزید التوا میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کئی ہفتوں تک جاری رہی، جس کے باعث نہ صرف ملکی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی بلکہ ان کی گرتی ہوئی صحت نے حکومت اور سول سوسائٹی دونوں کے لیے کڑے امتحان کی صورتِ حال پیدا کر دی۔ اس طویل فاقہ کشی کے دوران ملک بھر کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کی صحت کے لیے دعائیں کیں اور ان کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اگرچہ طبی ماہرین کی ٹیموں نے ان کا مسلسل معائنہ کیا اور گرتے ہوئے جسمانی اشاریوں کے پیشِ نظر انہیں ہڑتال ختم کرنے کا مشورہ دیا، لیکن وانگچک نے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ جب تک حکومتی سطح پر ان کے جائز مطالبات کا کوئی لائحہ عمل تیار نہیں ہوتا، وہ اپنی اس اخلاقی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا یہ اقدام گاندھیائی طرزِ فکر کی یاد دہانی تھا، جس نے عوامی بیداری کو ایک نئی جلابخشی اور حکومت کو معاملے کی سنجیدگی کا احساس دلانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
احتجاجی لہر کی شدت اور سونم وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے معاملے کی نزاکت کو سمجھا اور مظاہرین کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے متعدد ادوار کا آغاز کیا۔ مرکزی وزراء اور انتظامی حکام نے احتجاجی قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ تعطل کو توڑا جا سکے اور ایک ایسا درمیانی راستہ تلاش کیا جائے جو فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو۔ ان مذاکراتی نشستوں کے دوران طلبہ اور سماجی نمائندوں نے اپنے مطالبات کو ٹھوس دلائل اور حقائق کے ساتھ پیش کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ محض رسمی بیانات یا زبانی یقین دہانیاں اب کافی نہیں ہوں گی، بلکہ حکومت کو تحریری اور قانونی ضمانت دینی ہوگی۔ حکومت کی جانب سے بھی مثبت اشارے دیے گئے اور امتحانی نظام کی ازسرِ نو تشکیل، نگرانی کے طریقہ کار کو جدید بنانے اور کچھ بنیادی اصلاحات کے نافذ العمل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی، اگرچہ بعض اہم نکات پر فوری اتفاقِ رائے قائم نہ ہو سکا۔
مذاکرات کے مثبت پیش رفت اور حکومت کی جانب سے بعض کلیدی مطالبات پر تحریری یقین دہانی کے بعد سونم وانگچک نے باضابطہ طور پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے عوام اور ذرائع ابلاغ کو مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھوک ہڑتال کو ختم کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ تحریک کو ختم کر دیا گیا ہے، بلکہ یہ صرف جدوجہد کے ایک مرحلے کی تکمیل اور ابلاغی راستوں کی بحالی کا ذریعہ ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ جمہوریت میں مقصد محاذ آرائی نہیں بلکہ مکالمے اور پرامن ذرائع سے مسائل کا پائیدار حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔ اس فیصلے سے جہاں ایک طرف ان کی صحت کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی، وہیں دوسری طرف اس تحریک نے یہ ثابت کر دیا کہ صبر، استقامت اور منطقی جدوجہد کے ذریعے حکومت کو عوامی مطالبات پر غور کرنے اور تعمیری مذاکرات کے میز پر لانے کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے۔
طلبہ اور نوجوانی کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں نے اس پورے مرحلے کے دوران اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی جدوجہد کسی سیاسی وابستگی، جماعت یا وقتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ملک کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہے۔ ان کے بنیادی مطالبات میں تعلیمی و امتحانی ڈھانچے کو مکمل طور پر شفاف بنانا، کسی بھی قسم کی بے ضابطگی میں ملوث عناصر اور مافیا کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی کرنا، اور پرچہ افشا جیسے واقعات کی رواداری کو صفر کرنے کے لیے جدید تکنیکی و انتظامی نظام کا قیام شامل تھا۔ طالب علموں کا مؤقف بالکل واضح تھا کہ وہ کسی سیاسی وعدے پر تکیہ کرنے کے بجائے ایسے عملی نتائج کے منتظر ہیں جو تعلیمی اداروں اور امتحانی اداروں کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کر سکیں، تاکہ نوجوان اپنی محنت پر بھروسہ کر کے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔
دوسری جانب، حکومت کی طرف سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ نوجوانوں کے مفادات کی حفاظت اور تعلیمی نظام کی پاکیزگی برقرار رکھنا ریاست کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومتی نمائندوں نے وضاحت کی کہ امتحانی پروسیس میں اصلاحات، سائبر سیکیورٹی میں اضافہ، اور امتحانی مراکز کی کڑی نگرانی کے لیے جامع پالیسی پر کام جاری ہے، تاکہ کسی بھی بدعنوان عنصر کو تعلیمی نظام سے کھیلنے کی اجازت نہ ملے۔ تاہم، حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام فیصلے آئینی حدود، قانونی تقاضوں اور انتظامی حکمتِ عملی کے تحت ہی کیے جا سکتے ہیں، اور اس سلسلے میں تمام فریقین و ماہرین سے مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس دوران انتظامیہ اور دہلی پولیس نے امن و امان کی صورتِ حال کو برقرار رکھنے کے لیے جنتر منتر اور اس کے اطراف کے علاقوں میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے اور ٹریفک کی روانی کو بحال رکھنے کے لیے متبادل راستے فراہم کیے، تاکہ عام شہریوں کو دشواری نہ ہو۔
اس پورے احتجاج پر عوامی اور تجزئیاتی ردِعمل ملا جلا لیکن نہایت فکر انگیز رہا۔ سماجی ماہرین اور عام شہر یوں کے ایک بڑے طبقے نے مظاہرین کی کھل کر حمایت کی اور اس بات پر زور دیا کہ بھارت، جو دنیا میں سب سے بڑی نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے، وہاں تعلیمی شفافیت اور روزگار کے مواقع پر کسی قسم کی غفلت ملک کی معاشی و سماجی بنیادوں کو کمزور کر سکتی ہے۔ دوسری طرف کچھ تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ جمہوری ملک میں احتجاج کا حق مسلمہ ہے لیکن مسائل کا دائمی حل سڑکوں کے بجائے آئینی اداروں، پارلیمان اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، یہ حقیقت تسلیم کی گئی کہ اگر نوجوانوں کا تعلیمی اداروں سے اعتماد اٹھ جائے تو اس کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے، لہٰذا اس معاملے کا شفاف اور مستقل حل ہی ملکی مفاد میں ہے۔
اس پوری تحریکی پیش رفت کا تحقیقی جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج اور حکومتی ردِعمل دراصل ایک صحت مند معاشرے کی دلیل ہوتے ہیں۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جب عوام اور بالخصوص نوجوان اپنے حقوق کے لیے متحد ہوتے ہیں اور سونم وانگچک جیسی اخلاقی شخصیت ان کی رہنمائی کرتی ہے، تو وہ تحریک کو نہ صرف سیاسی آلودگی سے پاک رکھتی ہے بلکہ ایوانِ اقتدار کو اصلاحات پر مجبور بھی کرتی ہے۔ بھوک ہڑتال کے اختتام کے بعد اب تمام تر نظریں حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ ان تحریری یقین دہانیوں کو کس حد تک عملی شکل دیتی ہے۔ اگر حکومت مؤثر قانون سازی اور انتظامی شفافیت کو یقینی بناتی ہے تو نہ صرف موجودہ تنازع کا پائیدار حل نکلے گا بلکہ بھارت کے تعلیمی نظام اور جمہوری قدروں پر عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہو گا، جو کسی بھی ترقی پذیر قوم کی کامیابی کی اصل ضامن ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے