اسلام دنیا کا واحد مقدس و محترم اورمنظم ومرتب مذہب ہے جس کی تعلیمات نہایت کامل ومکمل ہیں ، جس کےاحکامات و ہدایت بے مثال وبے نظیر ہیں اور جس کی تہذیب وتمدن کا کوئی ثانی اور جواب نہیں ہے، اسلام کے امتیازات اور اس کی خصوصیات میں سے ایک اہم اورامتیازی خصوصیت اس کی اخلاقی تعلیمات ہیں جسے دنیا کے تمام مذاہب میں اسے ممتاز بنادیتی ہیں، اسلام نے چھوٹے چھوٹے اُن اخلاقی چیزوں کی طرف توجہ دلائی ہے جنہیں لوگ عموما اخلاق میں شامل ہی نہیں سمجھتے ہیں یا جن کی طرف لوگ جانتے ہوئے بھی توجہ نہیں دیتے ہیں ، اسلام کا بنیادی مقصد انسانوں کو اس کے حقیقی مالک سے جوڑنا اور حقیقی انسانی تعلیمات سے روشناس کرانا ہے ،سچ یہی ہے کہ انسانی تعلیمات کا صحیح اور مکمل علم اور اس باریکیوں سے وہی واقف کرواسکتا ہے جو انسانی مزاجوں اور ان کی ضروریات سے مکمل واقفیت رکھتا ہو ، انسانوں کے مزاج ومذاق اور ان کی طبیعت وفطرت کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ کون جان سکتا ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور تمام کائنات کی تخلیق فرمائی ہے ، اسلام انسانوں کی ہدایت ورہنمائی کے لئے نازل کردہ الٰہی مذہب ہے جس کے احکامات وتعلیمات میں انسانی فطرت وطبیعت کا مکمل پاس ولحاظ کیا گیا ہے ،انسان کی فطری طبیعت جس چیز کا تقاضہ کرتی ہے شریعت اسی چیز کا حکم دیتی ہے، اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی فطرت میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و اُنس رکھا ہے یہی وہ چیز ہے جو انسانوں کو ایک دوسرے سے قریب کرتی ہے اور ایک دوسرے کے مددگار بننے میں معاون بنتی ہے، اللہ تعالیٰ نے انسانی اخلاق وکردار میں وہ طاقت رکھی ہے جو انسانوں کی آپسی محبت وتعلق کو جوڑ نے اور جوڑے رکھنے میں مقناطیسی کردار ادا کرتی ہے ،انسان اخلاق سے جس قدر مزین ہوگا اس کا رابطہ دوسرے انسانوں کے ساتھ اسی قدر مضبوط ومستحکم ہوگا اور اس کے برخلاف انسان اخلاق سے جتنا دور ہوگا دوسرے انسانوں سے اتنا ہی دور ہوتا چلاجائے گا،اسلام نے انسانوں کو اخلاقیات کا وہ حسین درس دیا ہے جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے ۔
اخلاق ایک وسیع اور جامع ترین لفظ ہے ، اخلاق میں کونسی چیزیں آتی ہیں اسے جاننے کے لئے پہلے انسانوں کے آپسی تعلقات اور ان کے میل جول کے متعلق جاننا ضروری ہے،جہاں تک تعلقات کی بات ہے تو وہ دو طرح کے ہوتے ہیں (۱) انسان کا تعلق اپنے خالق کے ساتھ (۲) انسان کا تعلق دوسرے انسانوں کے ساتھ ،پہلا تعلق جو انسان کا اپنے خالق کے ساتھ ہے اس کی بنیاد عبادات ہے اور دسرے جو مخلوق کے ساتھ ہے اس کا تعلق اخلاقیات ہے ،اس کے بعد یہ جاننا ضروری ہے کہ اخلاق سے مراد کونسے اخلاق ہیں کیونکہ اخلاق بھی دو طرح کے ہوتے ہیں (۱)مثبت یعنی اچھے اخلاق(۲) منفی یعنی بُرے اخلاق ، اسلام اپنی تعلیمات کے ذریعہ انسانوں اور خصوصا اپنے ماننے والوں کو اچھے اخلاق کی ترغیب دیتا ہے اور برے اخلاق سے بچنے کی تاکیدی تلقین کرتا ہے، اسلام اچھےاخلاق کو انسان کی پہچان اور حسن معاشرت کی علامت بتاتاہے ، اہل علم نے اسلام کو عظیم الشان اور بے مثال قصر سے تعبیر کیا ہے اور ایمان وعقائد کو اس کی بنیاد ، اعمال وافعال کو اس درودیوار اور اخلاق کو اس کا چھت بتایا ہے ، جس طرح چھت کے بغیر گھر نامکمل ہوتا ہے اسی طرح اچھے اخلاق کے بغیر انسان کی انسانیت ادھوری اور نامکمل ہے ، رسول اللہؐ کی بعثت کا مقصد اچھے اخلاق کی تعلیم اور انسانوں کو انسانیت کا سبق پڑھانا تھا ، رسول اللہؐ نے اچھے اخلاق وکردار کی تعلیم دی اور اپنے قول وعمل کے ذریعہ اخلاق کا وہ اعلیٰ نمونہ پیش فرمایا جس مثال پیش کرنے سے تاریخ انسانیت عاجز ہے ، رسول اللہؐ ؐ نے اپنے تعلیمات کے ذریعہ ایسے افراد تیار کئے جن کے ہر عمل ے اخلاق وشرافت کی مہک آتی تھی ،جن کے اخلاق وکردار کو دیکھ کر اہل دنیا انگشت بدنداں ہو گئے تھے ، ان مجسم اخلاق ہستیوں کو ’’ صحابہؓ ‘‘ کہا جاتا ہے ، یہ جہاں سے گزرے انہوں نے اپنے عمدہ اخلاق اور بلند کردار کے ذریعہ فتح وکامرانی کے جھنڈے گاڑ ھ دئے اور اخلاق وکرادر کی مہک سے پورے علاقے کو منور و معطر کردیا تھا۔
رسول اللہؐ کے نزدیک حسن اخلاق کی بڑی اہمیت تھی ،خود آپؐ نے حسن اخلاق کی دعائیں فرمائی ہیں ،ایک موقع پر حسن اخلاق کے لئے اس طرح دعا مانگی ہے: اللہم أحسنت خلقی فأحسن خلقی ( مسند احمد:۲۴۳۹۲) ’’ اے اللہ تونے میری (جسمانی) بناوٹ کو سنوارا ہے تو میرے اخلاق بھی سنوار دے‘‘، آپؐ نے جہاں حسن اخلاق کی دعائیں کی ہیں وہیں بد خلقی وبد اخلاقی سے بچنے کی بھی دعائیں کی ہیں ،ایک موقع پر بدخلقی سے بچنے کی توفیق مانگتے ہوئے یہ دعا فرمائی : اللہم انی اعوذ بک من منکرات الاخلاق والاعمال والاہوا (ترمذی: ۳۵۹۱) ’’ اے اللہ میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں بُرے اخلاق اور بُری خواہشات سے‘‘،رسول اللہؐ نے حسن اخلاق سے مزین شخص کی نہ یہ کہ تعریف فرمائی ہے بلکہ ایسے شخص کو قوم کا بہترین آدمی قرار دیا ہے،ایک موقع پر لوگوں سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا: اکمل المؤمنین ایماناً احسنھم خلقاً ( ترمذی: ۱۱۶۲)’’ اہل ایمان میں کامل ایمان رکھنے والا شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں‘‘،ایک حدیث میں رسول اللہؐ نے اس شخص کو قیامت کے دن آپؐ کی قربت پانے والے بتلایا ہے جو اچھے اور عمدہ اخلاق رکھنے والا ہے، ارشاد فرمایا: ان من أحبکم الیی وأقربکم منی مجلسا یوم القیامۃ أحاسنکم أخلاقاً (ترمذی: ۲۰۱۸)’’ تم میں سب سے زیادہ پیارے اور قیامت کے دن میرے نزدیک ترین بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں اخلاقی لحاظ سے اچھے ہیں‘‘، بااخلاق شخص اپنے عمدہ اخلاق کی وجہ سے نفلی عبادتوں کے برابر ثواب حاصل کرلیتا ہے ،سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کو یہ ارشاد فرتے ہوئے سنا : ان المؤمن لیدرک بحسن خلقہ درجۃ الصائم القائم (ابوداؤد:۴۷۹۸) ’’ یقینا ( بندہ) مومن حسن اخلاق کے ذریعہ دن میں روزہ رکھنے والے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ حاصل کرلیتا ہے‘‘، کتب احادیث میں مذکورہ احادیث کے علاوہ اور بہت سی احادیث درج ہیں جن میں حسن اخلاق کی فضیلت واہمیت کے ساتھ مومن کو حسن اخلاق سے مزین ہوکر زندگی گزارنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔
مثبت اخلاق کونسے ہیں جس کی اسلام تعلیم دیتا ہے اور جسے اپنانے کی رسول اللہؐ نے تعلیم وتلقین فرمائی ہے ، بعض اہل علم نے بنیادی پانچ چیزوں کو اخلاق حسنہ کا مجموعہ قرار دیا ہے گویا ان پانچ چیزوں کو اپنانے والا اخلاق حسنہ سے مزین قرار دیا جائے گا ،اخلاق حسنہ میں پہلی بنیادی چیز یہ ہے (۱) صدق وامانت، سچائی وامانت داری اہل ایمان کی نشانی ہے ،صاحب ایمان کی خاص صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ صداقت وامانت کا لحاظ رکھتا ہے کسی بھی حال میں صداقت وامانت کا دامن نہیں چھوڑتا ہے ،وہ جانتا ہے کہ یہ اس کی پہچان اور نشانی ہے اور اسی اوصاف سے لوگ اسے جانتے ہیں ،جس مسلمان میں صدق وامانت کی کمی ہو وہ سچا مسلمان کہلائے جانے کے لائق نہیں ہے، رسول اللہؐ نے اپنے قول وعمل کے ذریعہ پوری انسانیت کو صدق وامانت کا سبق پڑھایا ، بچپن ہی سے آپ ؐ کے صدق وامانت کا یہ حال تھا کہ مکہ مکرمہ کے لوگ صادق وامین کے لقب سے یاد فرماتے تھے اور اعلان نبوت کے بعد مکہ مکرمہ والے آپؐ سے دشمنی پر کمر بستہ ہوگئے تھے اور آپؐ کو ہر طرح کی اذیت پہنچاتے تھے مگر اس کے باوجود اپنی امانتیں آپؐ کے پاس رکھتے تھے ،وہ جانتے تھے کہ آپؐ کی ذات صداقت وامانت کا پیکر ہے،ایک موقع پر رسول اللہؐ نے لوگوں کو سچائی کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: سچ نیکی کے راستے پر لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے،ایک آدمی سچ بولتا رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ فسق وفجور کی طرف لے جاتا ہے اور فسق وفجور (جہنم کی) آگ کی طرف لے جاتا ہے اور ایک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے( مسلم: ۶۶۳۷) ۔
(۲) صبر وثبات: مثبت اخلاق میں دوسری چیز صبر وثبات ہے، صبر وثبات نہایت عمدہ صفت ہے ، قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں متعدد مقامات پر اہل ایمان کو صبروثبات کی تعلیم دی گئی ہے اور صابرین کو صبر کرنے پر دنیا وآخرت میں اجر وثواب کی خوشخبری سنائی گئی ہے ، قرآن مجید میںایک جگہ ارشاد ہے : وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ (البقرہ: ۱۵۵) ’’اور خوشخبری سنادیجئے صبر کرنے والوں کو‘‘ اور دوسری جگہ ارشاد ہے : إِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ(البقرہ: ۱۵۳) ’’بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘ اور تیسری جگہ ارشاد ہے: إِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُوْنَ أَجْرَہُمْ بِغَیْْرِ حِسَابٍ (الزمر:۱۰) ’’صبر کرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب اور بھر پور دیا جائے گا‘‘، رسول اللہؐ نے صبر کی اہمیت اور صابروں کی فضیلت متعدد احادیث میں بیان فرمائی ہے،ایک حدیث میں آپؐ نے صبر کو نصف ایمان بتایا ہے ،اسی طرح صبر کرنے والوں کو آخرت میں اجر وثواب کی بشارت سناتے ہوئے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام وسکون والے تمنا کریں گے کاش دنیا میں ان کے چمڑے قینچیوں سے کاٹے جاتے ( ترمذی: ۲۰۴۲) ۔
(۳) احسان وایثار: عمدہ اخلاق رکھنے والوں کی ایک خاص صفت احسان وایثار ہے یعنی لوگوں کی ضروریات کا خیال کرنا اور اپنی ضروریات پر دوسروں کی ضروریات کو مقدم رکھنا یہ ایسی عمدل صفت ہے جو شخص اس صفت سے متصف ہوجاتا ہے عظیم تر کہلاتا ہے، یہ عمدہ صفت اسے لوگوں میں معزز بنادیتی ہے اور لوگ اسے عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،یہ عمدہ صفت سے وہی شخص متصف ہوتا ہے جس کا دل سمندر کی وسعت رکھتا ہے اور جس کا دل بندگان خدا کی محبت سے لبریز ہوتا ہے ، رسول اللہؐ کی تربیت یافتہ جماعت کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہر وقت لوگوں کے ساتھ احسان بلکہ ایثار کا مظاہرہ کرتے تھے، وہ حضرات اپنے پرائے ،شناسا ہو کے غیر شناسا ، دوست ہو کے دشمن ہر ایک کے ساتھ احسان کا معاملہ کرتے تھے ،دوسروں کی ضرورتوں کا اس طرح خیال رکھتے تھے کہ جیسے اپنی ضرورت کا خیال رکھاجاتا ہے، ان حضرات کے احسان وایثار کے مثالی واقعات سے اسلامی تاریخ بھری پڑی ہے، ایک مرتبہ سیدنا عمرفاروقؓ نے غلام کو چار سو دینار دے کر کہا یہ ابوعبیدہؓ کو دینا اور کہنا کہ یہ ہدیہ ہے اسے اپنی ضرورت میں خرچ فرمالیں، غلام کو ہدایت دی کہ ہدیہ دینے کے بعد کچھ دیر وہیں کھڑے رہنا اور دیکھنا کہ ابوعبیدہؓ اس رقم کا کیا کرتے ہیں ،غلام نے حسب ہدایت جب یہ رقم کی تھیلی سیدنا ابوعبیدہؓ کی خدمت میں پیش کی تو انہوں نے سیدنا عمرفاروقؓ کو دعائیں دیتے ہوئے اسے قبول کیا اور اپنی باندی سے فرمایا اتنے دینار فلاں کو دے آؤ ،یہ اتنے دینار فلاں کو دو حتی کہ چار سو دینا ر اسی وقت ختم کر دئے ،غلام نے واپس آکر اس کی اطلاع دی تو سیدنا عمر فاروقؓ نے چار سو دینار کی ایک دوسری تھیلی دی اور فرمایا اسے معاذ بن جبلؓ کو دینا اور دیکھنا کہ وہ کیا کرتے ہیں ،غلام نے جب وہ تھیلی سیدنا معاذ بن جبلؓ کو دی تو انہوں نے بھی دعا دی اور اس رقم کو تقسیم کرنے بیٹھ گئے ،سیدنا معاذ ؓ کی بیوی یہ منظر دیکھنے لگی آخر میں بولیں کہ ہم بھی تو مسکین ہیں ،ہمیں بھی کچھ ملنا چاہئے ،اس وقت تھیلی میں صرف دودینار تھے وہ ان کو دے دئے ،غلام واپس آکر سیدنا عمر فاروقؓ کو ساری تفصیلات بتائی تو سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: یہ سب بھائی بھائی ہیں۔
(۴) عفو درگزر،جس کے معنیٰ ہیں معاف کردینا ،بعض کہتے ہیں کہ قصور وار کے قصور کو معاف کرنا ،اسی طرح بعض کہتے ہیں کہ بدلہ لینے کی طاقت ہونے کے باوجود بدلہ نہ لینا،انسان کی عمدہ خصلتوں میں سے نہایت عمدہ خصلت ہے،یہ خصلت آدمی کے سنجیدگی ومتانت کو ظاہر کرتی ہے ، اس کے بردبار ہونے اور کشادہ ظرف ہونے کی عکاسی کرتی ہے، قرآن مجید میں کئی ایک مقامات پر عفو ودرگزر کرنے کی والوں کی تعریف کی گئی ہے اور معاف کرنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بدلہ دئے جانے کی خوشخبری دی گئی ہے ،ارشاد ہے: وَجَزَائُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ (الشوریٰ:۴۰) ’’ اور برائی کا بدلہ اس طرح کی برائی کے ساتھ ہے پس جو شخص معاف کردے اور اصلاح کرلے تو اس کا اجر اللہ پر ہے‘‘،قرآن مجید میں ایک جگہ عفو ودرگزر کرنے کو متقیوں کی پہچان بتائی گئی ہے،ارشاد ہے: وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (اٰل عمران: ۱۳۴)’’(متقی لوگوں کی صفت یہ ہے کہ) غصہ کو پی جاتے ہیں ،لوگوں (کی خطاؤں)کو معاف کردیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘،اسی طرح مختلف احادیث مبارکہ میں بھی عفو ودرگزر سے کام لینے کی تلقین کی گئی ہے ،اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں سے محبت رکھتے ہیں جو اس کے بندوں کے ساتھ عفو ودرگزر سے کام لیتے ہیں ،رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: ان اللہ عفو یحب العفو( کنزالعمال: ۵۰۰۷) ۔
(۵) توضع وانکساری: تواضع وانکساری صفات حسنہ میں سے ایک عظیم صفت ہے اور اس صفت سے متصف انسان عظیم کہلاتا ہے ،تواضع کا مقابل غرور ہے اور عارضی وفانی زندگی رکھنے والے کی شایان شان نہیں ہے کہ وہ مجسم اکڑ بن کر زندگی گزارے ،کہنے والوں نے سچ ہی کہا ہے کہ عاجزی بندہ کو خدا کا محبوب بنادیتی ہے اور اکڑ کا انجام خطرناک ہے کیونکہ انسان کی اکڑ خدا کی پکڑ پر جاکر ختم ہوجاتی ہے، رسول اللہؐ کائنات کی سب سے عظیم ہستی تھے مگر آپؐ نے پوری زندگی تواضع کے ساتھ گزاردی ،اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اختیار دیا کہ نبی بادشاہ یا نبی عبد تو آپؐ نے نبی عبد ہونا پسند کیا، آپؐ نے ہر کام میں تواضع کو پسند فرمایا ہے کیونکہ عاجز بندے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں اور انہیں کو رفعتیں عطا فرماتے ہیں جو متواضع بن کر زندگی گزار تے ہیں ،سیدنا ابن عمرؓ ایک موقع پر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: لوگو! تواضع اختیار کرو کیونکہ میں نے رسول اللہؐ کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص اللہ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ اسے رفعت عطا فرماتے ہیں ،وہ خود کو اپنی نظروں میں چھوٹا خیال کرتا ہے جبکہ لوگوں کی نظروں میں عظیم ہوتا ہے اور جو شخص تکبر کرتا ہے اللہ اسے پستی کا شکار کر دیتے ہیں ،وہ لوگوں کی نگاہوں میں چھوٹا ہوتا ہے جبکہ وہ اپنے آپ کو بڑا تصور کرتا ہےحتی کہ وہ ان کے نزدیک کتے یا خنزیر سے بھی زیادہ حقیر ہوتا ہے( مشکوۃ: ۵۱۱۹)، بااخلاق بندے تواضع کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور کبر ونخوت سے دور رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے لوگ ان کے اردگرد ہوتے ہیں برخلاف متکبر شخص جس کے تکبر کی وجہ سے لوگ اس سے دور رہتے ہیں ، بعض لوگوں نے متکبر کو مفلس سے تعبیر کیا ہے کیونکہ یہ اخلاق کی دولت سے محروم ہوتا ہے ،سچ یہ ہے کہ حقیقی دولت تواضع کی دولت ہے ،شاعر کہتا ہے کہ ؎
اخلاق کی دولت سے بھرا ہے میرا دامن
گو پاس میرے درھم ودنانیر نہیں ہیں