مسجد و مدرسے کو نشانہ بنانے والے سنگین جرائم میں ملوث ہیں

مسجد و مدرسے کو نشانہ بنانے والے سنگین جرائم میں ملوث ہیں

مسجد و مدرسے کو نشانہ بنانے والے سنگین جرائم میں ملوث ہیں
مسجد اللّٰہ کا گھر ہے ، مدرسہ تعلیم و تربیت کا گہوارہ

ازقلم:عبدالعزیز

مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ بدھا دیب بھٹا چاریہ نے اپنے ایک بیان میں مدرسوں کے بارے میں کہا تھا کہ ’’مدرسہ دہشت گردی کا اڈّہ ہوتا ہے۔‘‘ اس سے پہلے کہ مسلمانوں کی طرف سے ان کے خلاف احتجاج ہوتا سابق وزیر اعلیٰ مغربی بنگال جیوتی باسو نے اپنے رفیق کار بدھا دیب بھٹا چاریہ کو ان کی غلطی کا نہ صرف احساس دلایا بلکہ ان کو اپنے بیان کو واپس لینے کی ہدایت کی۔ بدھا دیب نے اپنا بیان واپس لے لیا اور اسے اپنی غلطی اور لغزش سے تعبیر کیا۔ بدنام زمانہ متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین 20 سال کے بعد بنگال میں زہر افشانی کے لئے ادب اور لٹریچر کے نام پر بلائی گئی ۔ ادب اور فن کا تو ایسی فحش گو اور بے حیا خاتون سے توقع کرنا ہی غلط تھا۔ فرقہ پرستوں اور مسلمانوں کے دشمنوں کو خوش کرنے کے لئے کلکتہ سے واپسی سے پہلے زہر افشانی کرتے ہوئے کہاکہ ’’مدرسوں میں دہشت گرد پیدا ہوتے ہیں‘‘۔ ایک دوسرے بیان میں اس نے اس سے بھی زیادہ زہریلا بیان دیا ہے کہ ’’مدرسوں اور مسجدوں میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مسجد اور مدرسے کو بند کر دینا چاہئے‘‘۔
اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے تسلیمہ نسرین کی پیروی کرتے ہوئے نفرت انگیز بیان دیا کہ ’’مدرسہ بنگلہ دیش کا ہو یا پاکستان کا یا بھارت کا ان میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے‘‘۔ تسلیمہ نسرین کی بے حیائی اور فتنہ انگیزی پر خاکسار نے پہلے بھی اور حال میں بھی بہت کچھ لکھا ہے کہ وہ کس قسم کی فحش گو اور حیا سوز خاتون ہے۔ جہاں تک کیشور پرساد موریہ کا سوال ہے تو ان کے خلاف فوج داری کے کئی مقدمات ہیں۔ کئی سنگین جرائم میں وہ ملوث ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف مقدمات واپس لے لئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف بھی بیس بائیس فوجداری کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت تھے، انھوں نے وزارتِ اعلیٰ کی گدی سنبھالتے ہی اپنے خلاف مقدمات از خود واپس لے لئے۔ ایسے لوگ مسجد اور مدرسوں کو دہشت گردی کا مرکز بتاتے ہیں جو لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں ان کے پاس پولس بھی ہوتی ہے، طاقت اور اختیار بھی ہوتا ہے، وہ بے قصور مسلمانوں کو موردِ الزام ٹھہرا کر جیلوں میں ڈال دیتے ہیں تو کیا ان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ مسجد اور مدرسے میں اگر دہشت گردی یا فتنہ و فساد کی تعلیم دی جائے تو وہ تعلیم دینے والوں کو بخش دیں گے؟ مسجد ہو یا مدرسہ عوام اور خواص، مسلم و غیر مسلم سب کے لئے اس کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔
جنتر منتر پر 20جولائی کو پولس کی طرف سے مارچ کرنے والوں پر مظالم ڈھائے جارہے تھے ۔ لاٹھیوں سے حملے ہورہے تھے۔ پیلیٹ گن سے چھرے چھوڑے جارہے تھے۔ ٹیئر گیس کے گولے داغے جارہے تھے۔ اسی دوران بہت سے نوجوان لڑکے لڑکیاں مندر، مسجد اور گرودوارے میں پناہ لینا چاہتے تھے۔ ’فیس بک‘ میں ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں دو لڑکے اور لڑکیاں کہہ رہے ہیں کہ جب وہ پریشان حا ل تھے تو ان کے دھرم کے مندر کا دروازہ بند تھا لیکن اللہ کی مسجد اور گرودوارے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک نے کہاکہ ’اب وہ کبھی مندر نہیں جائے گا‘۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ مدرسے یا مسجد میں ایک لاٹھی یا ایک ڈنڈا بھی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس آر ایس ایس کی طرف سے نیم فوجی تعلیم دی جاتی ہے ۔ اسلام اور عیسائیت کے ماننے والوں کے خلاف نفرت اور عداوت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران پولس کی وردی میں اور بغیر وردی میں جس طرح بے قصور مظاہرین کو زخمی کیا گیا، ہاتھ پیر توڑے گئے، لڑکیوں کے پرائیوٹ پارٹ پر لاٹھی سے ٹچ کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ سادہ وردی میں جو لوگ تھے ان کا تعلق آر ایس ایس سے تھا۔ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران بعض لڑکوں اور لڑکیوں نے تہذیب و شائستگی کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے شدید غصے کے اظہار میں گالی گلوج سے بھی کام لیا، جو ہونا نہیں چاہئے تھا۔ احتجاج کے بعد ان لڑکے لڑکیوں سے بدلے لینے اور دھمکیاں دینے کی بات کہی جارہی ہے، یہاں تک کہ لڑکیوں یا عورتوں کو بے عزت اور عصمت دری کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ جب کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کراکر ان کو معافی مانگنے اور ان کی غلطی کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
مسجد میں مسلمان پانچ وقت اللہ کی عبادت و اطاعت کے لئے جاتے ہیں۔مسجد میں چھوٹے بڑے، نیچ اونچ، وی آئی پی اور غیر وی آئی پی کسی طرح کا بھی مظاہرہ نہیں ہوتا۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں محمود و ایاز۔ وہاں نہ کوئی بندہ ہوتا ہے اور نہ بندہ نواز۔
اکثر مسجد میں ہر جمعہ کو خطبۂ جمعہ میں امام یا خطیب سورہ نحل کی آیت 90 کی تلاوت کرتا ہے جس کا ترجمہ ہے: ’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے‘‘۔ اس مختصر سے فقرہ میں تین ایسی چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جن پر پورے انسانی معاشرے کی درستی کا انحصار ہے۔ پہلی چیز عدل ہے جس کا تصور دو مستقل حقیقتوں سے مرکب ہے۔ ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن اور تناسب قائم ہو۔ دوسرے یہ کہ ہر ایک کو اس کا حق بے لاگ طریقے سے دیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے وہ حقوق میں مساوات نہیں بلکہ توازن اور تناسب ہے۔ اور اس حکم کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے اخلاقی، معاشرتی، معاشی، قانونی اور سیاسی و تمدنی حقوق پوری ایمانداری کے ساتھ کئے جائیں۔
دوسری چیز احسان ہے۔ نیک برتاؤ، فیاضانہ معاملہ، ہمدردانہ رویّہ، رواداری، خوش خلقی، درگزر، باہمی مراعات، ایک دوسرے کا پاس و لحاظ، دوسرے کو اس کے حق سے کچھ زیادہ دینا اور خود اپنے حق سے کچھ کم پر راضی ہوجانا یہ عدل سے زائد ایک چیز ہے جس کی اہمیت اجتماعی زندگی میں عدل سے بھی زیادہ ہے۔ عدل اگر معاشرے کی اساس ہے تو احسان اس کا جمال اور کمال ہے۔ تیسری چیز جس کا اس آیت میں حکم دیا گیا ہے وہ صلہ رحمی ہے۔ جو رشتہ داروں کے معاملے میں احسان کی ایک خاص صورت متعین کرتی ہے۔ اس کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ آدمی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور خوشی اور غمی میں ان کا شریک حال ہو۔ ایک جائز حدود کے اندر ان کا حامی اور مددگار بنے بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ ہر صاحب استطاعت شخص اپنے مال پر صرف اپنی ذات اور اپنے بال بچوں کے ہی حقوق نہ سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق بھی تسلیم کرے۔ شریعتِ الٰہی ہر خاندان کے خوشحال افراد کو اس امر کا ذمہ دار قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھوکا، ننگا نہ چھوڑے۔ اس کی نگاہ میں ایک معاشرے کی اس سے بدتر کوئی حالت نہیں ہے کہ اس کے اندر ایک شخص عیش کر رہا ہو اور اسی کے خاندان میں اس کے اپنے بھائی بند روٹی، کپڑے تک کے محتاج ہوں۔ یہ تو تین بھلائیوں کا حکم ہے۔
اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تین برائیوں سے روکتا ہے جو انفرادی حیثیت سے افراد کو اور اجتماعی حیثیت سے پورے معاشرے کو خراب کرنے والی ہیں۔ پہلی چیز جس کا اطلاق تمام بے ہودہ اور شرمناک افعال پر ہوتا ہے۔ دوسری چیز ہے منکر ہے جس سے مراد ہر برائی جس کو انسان برا جانتے ہیں ہمیشہ سے برا کہتے رہے ہیں اور تمام شرائع الٰہیہ میں اس سے منع کیا ہے۔ تیسری چیز بغی ہے جس کے معنی ہیں اپنی حد سے تجاوز کرنا اور دوسرے کے حقوق پر دست درازی کرنا، خواہ وہ حقوق خالق کے ہوں یا مخلوق کے۔ ہر ہفتے مسلمانوں کے دل و دماغ میں تین بھلائیوں سے روشناس کرایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس پر عمل کریں اور دنیا کو عمل کرانے کی کوشش کریں۔ اور تین برائیاں جو معاشرے کے لئے خراب اور خطرناک ہوتی ہیں ان سے بچنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر موضوعات پر حالات کے پیش نظر وعظ و نصیحت کی جاتی ہے۔ جسے یہ معلوم ہو کہ مسجد میں عملاً بھی برابری اور مساوات کا مظاہرہ ہوتا ہے اور وعظ و نصیحت سے اچھی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی اگر کوئی بدبخت مسجد کو دہشت گردی کا اڈہ کہتا ہے تو اس سے زیادہ بدبخت شاید ہی کوئی ہوسکتا ہے۔
مدرسے میں قرآن اور حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات میں کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں ہے جو انسانیت کے خلاف ہو اور غیر سائنسی ہو۔ ڈاکٹر مورس بقالو اپنی کتاب "The Bible, THe Qur’an And Science” میں لکھا ہے کہ ’’مذہبی کتابوں میں قرآن مجید واحد کتاب ہے جس کا سائنس سے کوئی تصادم نہیں ہے باقی ساری مذہبی کتابوں میں سائنس سے تصادم ہے‘‘۔ Michael H. Hart نے اپنی کتاب "The 100” میں دنیا کی سو شخصیات کی درجہ بندی کی ہے ۔ اس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’دنیا کی با اثر اور اہم شخصیات
میں سے ان کی فہرست میںنمبر One (اوّل) ہیں۔ ‘‘صاحب کتاب نے لکھا ہے کہ ’’دنیا کی تاریخ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی واحد شخص ہیں جو مذہبی اور سیکولر سطح پر کامیاب ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپؐ کے عمل کے اثرات دنیا میں سب سے زیادہ ہیں اور ہر شعبۂ حیات میںہیں‘‘۔یہ بات کوئی مسلمان مصنف نے نہیں لکھی بلکہ ایک عیسائی مصنف میکائیل ایچ۔ ہرٹ نے لکھی ہے۔
قرآن مجید کے پہلے ہی سورہ میں منافقین کو خبردار کیا گیا ہے کہ ’’وہ زمین پر فساد برپا نہ کریں ۔‘‘ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کے احترام کا بہت زیادہ حکم دیا ہے۔ سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی‘‘ (آیت:32)۔
قرآن اور احادیث کی روشنی میں مسلم طلبا اور طالبات کو تعلیم دی جاتی ہے اور تربیت ۔ ان تعلیمات میں کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو حق و انصاف اور انسانیت کے خلاف ہے۔ کسی ایک یا دو مسلمان کے غلط عمل کو بنیاد بناکر مدرسوں اور مسجدوں کو نشانہ بنانا یا بدنام کرنا حق و انصاف کے ہی خلاف نہیں ہے بلکہ انسانیت کے خلاف ہے۔ جو لوگ مسجد اور مدرسے کو نشانہ بناتے ہیں یا بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں حقیقت میں وہ مجرم، فسادی اور فتنہ گر ہوتے ہیں۔ ایسے فسادیوں اور فتنہ گروں کو اللہ شاید ہی معاف کرے۔
مسلم ملکوں میں ہندستانی غیر مسلم بڑی تعداد میں ملازمت کرتے ہیں، کبھی کسی نے بھی وہاں کی حکومت یا وہاں کے باشندوں کے بارے میں امتیازی سلوک کا نہ ذکر کیا ہے اور نہ لکھا ہے بلکہ حکومتوں اور وہاں کے رہنے والوں کے حسنِ سلوک کی تعریف و توصیف کی ہے۔ ہندستان میں جس طرح مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی روا ہے اس کے ذمہ دار سنگھی لیڈران ہیں۔ یہ لیڈران جو جرائم، بدعنوانی، قتل غارت گری اور بدکاری میں نام پیدا کر رہے ہیں وہ مسجد اور مدرسے کو نظر بد سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کو اپنی کوششوں میں کوئی کامیابی نہیں ملے گی، کیونکہ سچائی سچائی ہوتی ہے۔ روشنی روشنی ہوتی ہے۔ روشنی کو تاریکی کہنا تاریک پسندوں ہی کا کام ہوسکتا ہے۔ مسجد اور مدرسے کو دہشت گردی سے جوڑنے والے حقیقت میں دہشت گرد ہوتے ہیں۔ خواہ وہ اسرائیل میں ہوں، امریکہ میں ہوں یا ہمارے ملک میں ہوں۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے