آکریتی چودھری کے حق میں تاریخی فیصلہ

آکریتی چودھری کے حق میں تاریخی فیصلہ

آکریتی چودھری کے حق میں تاریخی فیصلہ

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

کاکروچ جنتا پارٹی کے عالم وجود میں آنے سے قبل امسال(2026) اپریل میں دہلی سے متصل اترپردیش کےگوتم بدھ نگر ضلع میں واقع نوئیڈا کے صنعتی ملازمین نے اجرت میں اضافے کیلئے پرامن احتجاج کیا تھا جو آگے چل کر سرکار کے ظلم کی وجہ سے پرتشدد ہوگیا ۔ صنعتی ملازمین کا مذکورہ احتجاج 80؍ الگ الگ مقامات پر ہوا تھا ۔ اس میں کم و بیش 40؍ ہزار ملازمین نے حصہ لیا تھا۔ نوئیڈا دراصل میڈیا کا مرکز ہے اس لیے ان خبروں کا صحیح تناظر میں آنا بہت آسان تھا مگر چونکہ اس میں بیشتر بکا ہوا ہے۔ ان اداروں کی وفا داری عوام کے بجائے سرکار کے ساتھ ہے اس لیے حکومت خلاف ہونے والے اس احتجاج کو بدنام کرنے کے لیے گودی میڈیا نے اسے پہلے تو نیپال پھر بنگلہ دیش سے جوڑا ۔ یہ ساری بہتان طرازیاں جب بے اثر ہوگئیں تو اس میں پاکستانی زاویہ بھی نکال لیا گیا ۔ ان ساری کہانیوں کا اصلی مقصد سرکاری مظالم کو جائز ٹھہرانا تھا ۔ اس دوران اقتدار کے گھمنڈ میں چور یوگی سرکار کے خلاف حقائق کو پیش کرکے مظلوموں کا ساتھ دینے والی آکریتی چودھری سمیت ان جیسے بے شمار دیگر سماجی کارکنان کو فساد بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ یہ یوگی بابا کا قانونی بلڈوزر ہے کہ جو ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو قوم دشمن قرار دے کر ان پر این ایس اے لگا دیتا ہے۔
آکریتی چودھری قانون کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن کیا ۔ 12؍ اپریل کو گرفتاری کے وقت ان کا نام ۱۱؍ ایف آئی آر میں درج کیا گیا تھا مگرایک ماہ کے بعد جب ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا اس لیے این ایس اے کا سہارا لیا گیا تاکہ انہیں پابندِ سلاسل رکھا جاسکے ۔ اس طرح 13؍ مئی کو آکریتی چودھری کے ساتھ صحافی اور سماجی رضاکار ستیم ورما پر بھی این ایس اے لگایا گیا۔ یہ دونوں، ان متعدد سماجی رضاکاروں میں شامل تھے جنہیں ملازمین کے احتجاج کی وجہ سے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔یہ معاملہ جب عدالت میں پہنچا تو پولیس آکریتی کیخلاف ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی۔ اس لیے الہ آباد ہائی کورٹ نے آکریتی کے خلاف لگائے گئے این ایس اے کو منسوخ کردیا۔ اس پر فیصلہ سناتے وقت جسٹس اتل سری دھرن اور جسٹس اچل سچدیو نے ضلع کلکٹر سے لے کر ’’ایس ایچ او‘‘ تک کی تنخواہوں میں سے پیسے کاٹ کر ۵؍ لاکھ روپے آکریتی کو دینے کی ہدایت کی۔ اس طرح عدالت کے فیصلے کی زد میں نوئیڈا کی ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) میدھا روپم کو بھی ہدف بنایا گیا کیونکہ انہوں نے آکریتی کی حراست کے آرڈر پر دستخط کئے تھے۔
میدھا روپم کا نام آتے ہی یہ خبر جنگل کے آگ کی مانند میڈیا پر چھا گئی کیونکہ وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی صاحبزادی اور نوئیڈا کی پہلی خاتون ضلع مجسٹریٹ ہیں۔ ان کے شوہر منیش بنسل بھی آئی اے ایس افسر ہیں۔ فی الحال وطن عزیز میں سب سے زیادہ جلوہ گیانیش کمار کا ہے کیونکہ موجودہ سرکار کو انتخاب میں کامیابی دلانے کی خاطر بے شمار بدعنوایاں کررہے ہیں۔ وہ اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ یہ حکومت ہمیشہ رہے گی اور اس کے ہوتے کوئی ان کا بال بیکہ نہیں کرسکتا ۔ ان کی بیٹی میدھا روپم بھی اپنے باپ کی طرح اسی غلط فہمی میں مبتلا تھیں کہ یوگی بابا اور مودی ماما کے ہوتے کوئی ان کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا لیکن عدالت نے ایسی چپت لگائی کہ بیٹی کے ساتھ باپ کے بھی ہوش ٹھکانے آگئے ہوں گے۔ گیانیش کمار کواب سوچنا چاہیے کہ جب اونٹ پہاڑ کے نیچے آئے گا تو ان کا کیا حشر ہوگا کیونکہ ان کے جرائم کے آگے میدھا کی غلطی تو نہایت معمولی اور سزا بھی بہت ہلکی ہے۔
فاضل ججوں نے اپنے قابلِ تعریف فیصلے میں کہا کہ گرفتار شدگان کے خلاف پولیس کی رپورٹ الزامات سے بھری پڑی تھی مگر شواہد کے نام پر اس میں کچھ نہیں ہے۔ ایسے میں ڈی ایم کو چاہئے تھا کہ وہ، این ایس اے جیسا سخت قانون عائد کرنے سے پہلے رپورٹ کا باریکی سے جائزہ لینے کے بعد ہی آرڈر پاس کرتیں۔ عدالت کے بقول جو واقعات رونما ہوئے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ آکریتی چودھری کو مثال بنا کر پیش کرنے کے لیے ڈی ایم میدھا روپم یہ حرکت کی۔ ظاہر ہے انہوں نےیہ زیادتی اپنے آقاوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کی ہوگی تاکہ دیگر رضاکاروں کو بھی ان کے اظہار رائے کے حق سے روکا جائے لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ خود بھی بدنام ہوئیں اور سرکار کی رسوائی میں بھی چار چاند لگا دئیے۔ اس طرح کم از کم اجرت، اوور ٹائم اور ہفتہ وار چھٹی جیسے جائز مسائل پر اپریل میں گوتم بدھ نگر ضلع کے نوئیڈا علاقے میں مزدور تحریک کے دوران گرفتار طالب علم رہنما اکریتی چودھری پر قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کا نفاذ کلکٹر میدھا روپم کو بہت مہنگا پڑا اور ان کی عزت خاک میں مل گئی۔ آگے چل کر اگر اسی طرح کا فیصلہ عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر بے قصور ملزمین میں حق آجائے تو بدمعاش اہلکاروں پر کتنا جرمانہ لگے گا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
2 ستمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتل شریدھر اور اچل سچدیو کی بنچ نے اکریتی پر عائد این ایس اے کو منسوخ کر دیا۔ اس طرح وہ شق بے اثر ہوگئی جس کے تحت انہیں بغیر کسی مقدمے کے ایک سال تک حراست میں رکھا جا سکتا تھا۔ عدالت نے اس پر بھی اعتراض کیا کہ مزدور تحریک کے دوران ا کریتی کو پولیس نے 11 اپریل کی شام کو حراست میں لیامگر ان کی گرفتاری 12 اپریل کو دکھائی گئی تھی۔ اس معاملے میں ڈی ایم میدھا روپم اس لیے چاروں خانے چت ہوگئیں کیونکہ تشدد تو 13 اپریل کو ہوا تھا جبکہ اس سے دو دن پہلے اکریتی کو گرفتار کیا جاچکا تھا۔ اس کے باوجود اسے ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے کوئی ثبوت نہیں تھا پھر بھی نہ صرف ایک ماہ تک حراست میں رکھا گیا بلکہ اوپر سے این ایس اے بھی لگایا گیا۔ جج صاحبان نےاپنے فیصلے کو اس قضیہ تک محدود رکھنے کے بجائے ایک بنیادی مسئلہ کی جانب توجہ مبذول کرائی ۔ عدالت نےآئی اے ایس اورآئی پی ایس افسران کے درمیان طاقت کے توازن اور جوابدہی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے، وہ ایمانداری اور غیر جانبداری کے ساتھ خدمت کرنے کا اور آئین کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں مگر سیاسی قیادت کے وفادار ہوجاتے ہیں۔ یہ اس دور کی سب سے تلخ سچائی ہے۔
ہائی کورٹ کو این ایس اے لگانے کا میدھا روپم والا حکم مضحکہ خیز محسوس ہوا۔ عدالت نے کہا کہ اگر افسران اپنا حلف توڑتے ہیں تو اتر پردیش کے لوگ انہیں برطانوی سلطنت کی علامت کے طور پر دیکھیں گے۔ سچائی تو یہ ہے کہ گوروں کے یہ کالے غلام اپنے آقاوں سے بدتر ہوگئے ہیں ۔ عدالت نے دھمکی دی کہ یہ ’تو بس اک جھانکی ہے‘ آگے چل کر اور بھی سخت احکامات جاری ہو سکتے ہیں۔ جج صاحبان نے اشارہ کیا کہ یہ معاملہ جرمانے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ غیر قانونی اقدامات کو درست کرنے کے لیے جرمانے سے آگے بڑھ کر سروس ریکارڈ میں ان کے بے قاعدہ طرز عمل کو ریکارڈ کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ ان سخت اقدامات کا یہ جواز پیش کیا گیا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب بیوروکریسی میں بدعنوان افسران اتر پردیش کو ایک جابرانہ ریاست میں بدل دیں گے۔یہ عدالت کی خوش فہمی ہے ورنہ سچائی تو یہ ہے یوگی بابا کے انکاونٹر اور بلڈوزر اترپردیش کو جبر و استبداد کا بدترین نمونہ بنا چکے ہیں۔ اس کا سب بڑا ثبوت سہارنپور مسجد کی شہادت ہے۔
عدالت کے مطابق نوئیڈا ڈی ایم پولیس رپورٹ کی بنیاد پر این ایس اے لگانے سے پہلے ثبوت کی معروضی جانچ کرنے میں ناکام رہا، اور نہ ہی اس نے غور کیا کہ عام قوانین کیوں ناکافی ہیں۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ ڈی ایم نے آکرتی چودھری پر این ایس اے لگا کر لوگوں کو مزدور تحریک کی حمایت میں سڑکوں پر آنے کی حوصلہ شکنی کرکے ایک مثال قائم کرنے کی کوشش کی، یہ حق آئین کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا، ’’گوتم بدھ نگر ڈی ایم وفاداری کے حلف کی خلاف ورزی کا قصوروار ہے۔ یہ عرضی گزار کو معاوضہ دینے کے لیے موزوں معاملہ ہے۔‘‘ اس لیے اکریتی چودھری کے طلب کردہ 50 لاکھ روپے ہرجانہ میں سے حکومت کے متکبرانہ انداز کو درست کرنے کے لیے 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ضروری ہے۔اس رقم کو تمام ذمہ دار افسران ، نوئیڈا کے ڈی ایم اور این ایس اے کی رپورٹ تیار کرنے والے ایس ایچ او سے وصول کیے جائیں۔اس معاملے میں افسوسناک پہلو یہ ہے کہ این ایس اے ہٹائے جانے کے بعد بھی اکریتی چودھری کو صرف اسی صورت میں رہا کیا جائے گا جب انہیں احتجاج سے متعلق دیگر معاملات میں ضمانت مل جائے۔اعظم خان کے ساتھ یہی ہورہا ہے کہ انہیں ایک سے رہائی ملتی ہے تو دوسرے میں پھنسا دیا جاتا ہے۔ عدالت سرکار کے اس انتقامی کارروائی پر بھی گرفت کرنی چاہیے تاکہ اس سیاسی جبر کی لگام کسی جاسکے ورنہ تو یہ جنگل راج معاشرے کو تباہ و تاراج کردے گا۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے