افسانچے

افسانچے

ازقلم: محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک

۱۔ فرماں برداری :۔
ٍ میرے پاس پیسے جانے کے لئے آتے ہیں ۔ آپ بتائیں ، آپ کے پاس آکر وہ تجوری میں بیٹھ تو نہیں جاتے فرماں برداروں کی طرح ؟
۲۔ بے وقوف مخلوق :۔
کتوں کی لڑائی میں لطف نہیں آتا۔ اسلئے میں شیر اور انسان کی لڑائی میں شیر سے ہمدردی رکھتاہوں کہ اس جیسابے وقوف کوئی نہیں کہ وہ انسان
جیسے بے وقوف مخلوق کے ساتھ لڑرہاہے جواپنے خالق سے بھی بھڑ جاتاہے۔

۳۔ Shahde:۔
محبوبہ نے ہمیشہ مجھ کو بیوی کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کی ۔لیکن بیوی نہ بن سکی۔اس پر کسی کو افسوس نہیں ہے ۔ آپ کے شہدوں(Shahdoun) کاکیا حال ہے ؟
۴۔ آئینہ پانی کا:۔
وہ آیا اور اس نے تقریر کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہم عوام نہیں ، ہم قائدہیں بے وقوفو۔۔۔ کب تک دریا کے پانی میں اپنے آپ کو دیکھنے سے بچتے رہوگے ۔
مکار لومڑی کی بدولت شیر کی اولادبکری بن گئی ہے اور پانی کے آئینے کاسامناکرنے سے ڈرتی ہے‘‘

۵۔گونگی نسل :۔
انتقال ہوچکاتھا۔ دوردرازسے میت کی تدفین کے لئے آگئے لیکن کیاکہنا ہے ، کچھ پتہ نہیں تھا۔ اسلئے خاموشی سے ایک دوسرے سے ملے اور
تدفین کے بعد اپنے اپنے مستقر کو واپس ہوئے۔ عجیب نسل ہے کہ اس کو تعزیت کرنا نہیں آتا۔ اور کسی سے پوچھتی تک نہیں کہ جس گھر میں میت ہوجائے اس کو
پرسہ کس طرح دیاجاتاہے۔

۶۔مؤذن :۔
لڑکیاں گھر بیٹھ رہی ہیں۔ غیرشادی شدہ نہیں، شادی شدہ لڑکیاں ۔اس وباء سے سامناکرناضروری ہے۔ ہم سب مل کر ایسا کرناپڑے گا۔ آپ اس
مسئلہ کونہیں جانتے حیرت ہے۔ کسی بھی گلی محلے کاجائزہ لیں۔ ایک گلی میں کم ازکم ایک واقعہ ملے گاجہاں لڑکیاں واپس آچکی ہیں۔ اس کاعلاج آپ مجھ سے
پوچھ رہے ہیں۔ آپ بتائیں بھائی۔ میں کیاایک معمولی مؤذن ہوں۔ اذان دینے کے علاوہ مجھے کچھ نہیں آتا۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے