’’رِشتے جوڑنے کی چاہ میں خود ہی ٹوٹ کر بکھرگئے ہم‘‘
ازقلم: سیما شکور حیدر آباد
وہ رشتے جہاں بار بار وضاحتیں دینی پڑیں، بار بار اپنے آپ کو سچا ثابت کرنا پڑے ایسے رشتوں میں رہ کر ہماری عزتِ نفس مجروح ہوجاتی ہے جہاں اعتماد نہ ہو، جہا ں احساس نہ ہو وہ رشتے ریت کے گھروندوں کی طرح بہت جلدی ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔ رشتے عزت اور احترام کے متمنی ہوتے ہیں،اعتبار اور بھروسے کی بنیادوں پر رشتے قائم رہتے ہیں،ایسے رشتے جہاں ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو، ہمیشہ غلط تصور کیا جاتا ہو، ہمیشہ جھُکانے کی کوشش کی جاتی ہو۔۔۔ تو پھر وہ کمزور تعلق ہی رہ جاتا ہے، مضبوط اور پائیدار رشتہ نہیں کہلاتا۔ رشتے تو وہ ہوتے ہیں جہاں کبھی بھی شک کے کانٹے نہ اُگیں، کبھی بھی وضاحتوں کی ضرورت نہ پڑے ، جہاں رشتوں سے آسودگی میسر آئے نہ کہ گُٹھن کا احساس ہو۔ رشتے جوڑنے کی چاہ میں ہم خود ہی بکھر جاتے ہیں، ہم ساری زندگی یہی خام خیالی میں گزار دیتے ہیں کہ کبھی تو رشتوں میں احساس جاگے گا۔۔۔۔ کبھی تو یقین کی دیواریں مضبوط ہوں گی۔ ۔۔ کبھی تو رشتے پیار سے استوار ہوں گے۔ پھر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ ہم تھک جاتے ہیں ہماری اُمیدیں دم توڑنے لگتی ہیں، ہمارے اعصاب جواب دینے لگتے ہیں۔ رشتوں کو سنبھالنے کی کوششیں جب بار آور ثابت نہیں ہو پاتیں تو پھر ہم بھی پتھر بن جاتے ہیں ایسا پتھر جو اندر ہی اندر سے کھوکھلا ہوجاتا ہے لیکن اوپر سے مضبوط پتھر ہی دکھائی دیتا ہے۔ احسا س کے پرندے اُڑجائیں تو پھر ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ پھر ایک بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ لاکھ کوشش بھی کرلیں ہم اگر ۔۔۔تو بھی اگر ہمیں غلط سمجھ لیا گیا ہے تو پھر ہمیشہ غلط ہی سمجھا جاتا رہے گا، ہم کتنا ہی محبت کے چراغ کو جلائے رکھنے کی کوشش کریں لیکن ۔۔۔ چراغ، محبت کا چراغ بجھ ہی جایا کرتا ہے۔ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کی کوششیں ہمیں خاموشی کی اُس وادی میں لے جاتی ہیں جہاں ہم آسودگی پاسکتے ہیں،اس طرح رشتے آہستہ آہستہ ختم ہوجاتے ہیں، نا م نہاد رشتوں کو رشتے نہیں کہا جاسکتا۔لوگ جب ہماری سچائی پر بھی سوال اُٹھانے لگیں تو پھر چھوڑ دینا چاہئیے ایسے رشتوں کو جہاں بے حِسی کے بلند و بالا پہاڑ ہوں، جہاں جھوٹی انا کی گہری کھائیاں ہوں، جہاں بے سکونی ہو، جہاں اپنائیت کے لیے ترسنا پڑے تو پھر ایسے رشتوں کو توڑ دینا ہی بہتر ہوتا ہے تاکہ ہمارا وجود مزید ٹوٹ پھوٹ سے بچ جائے، ایسے حالات میں روح اس قدر زخمی ہوجاتی ہے کہ آخر کار وہ مرجاتی ہے اور ۔۔۔ جب روح مرجائے اور جسم رہ جائے تو پھر اُسے زندہ رہنا نہیں کہا جاسکتا ہم اپنے ٹوٹے پھوٹے وجود کو اتنی بار جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پھر تھکن ہم پر اس طرح غالب آجاتی ہے کہ پھر سب کچھ ختم ہوجاتا ہے نہ آرزوئیں باقی رہتی ہیں، نہ ہی کوئی نیا رشتہ بنانے کی خواہش جاگتی ہے، لوگ ہماری خاموشیوں اور ہمارے ظرف کو آزماتے ہیںاور قدر کرنے کے بجائے اُسے ہماری مجبوری اور بے وقوفی کا نام دیتے ہیں کبھی کبھی بہت زیادہ اچھا ہونا بھی اچھا نہیں ہوتا بہت مہنگا پڑجاتا ہے اعلیٰ ظرف ہونا، لوگ غلط فائدہ اٹھالیتے ہیں اور ہمیں پتھر ہی سمجھ لیتے ہیں خود وہ لوگ جو خود ہی پتھر ہوتے ہیں۔ دوسروں کا مان رکھتے رکھتے ہم زندگی سے دور ہوجاتے ہیں خود سے بھی دور ہوجاتے ہیں ہم رشتوں کا بھرم رکھنے کی کوشش میں خود کو ہی بھول جاتے ہیں۔ رشتے تو وہ ہوتے ہیں جہاں ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظر انداز کیا جائے ، ایک دوسرے کی کوتاہیوںپر پردہ ڈالا جائے۔ ایسے رشتے جہاں اپنی وفا اور محبت کا بار بار ثبوت دینا پڑے وہ رشتے بھُر بھری مٹی کی طرح ڈھے جاتے ہیں۔ انسان اپنے آپ کو جب بار بار سچا ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی توانائیاں ختم ہونے لگتی ہیں، زندگی کی خوبصورتی ماند پڑنے لگتی ہے، زندگی بے رنگ ہوجاتی ہے ایک خاموش صحرا کی طرح لگنے لگتی ہے۔ اگر کبھی تمہیں زندگی ایسے کسی موڑ پر لے آئے جہاں تک ہوسکے دوریاںاختیارکرلینا اگر یہ ممکن نہ ہوتو پھر بس خاموش ہوجانا ، وضاحتیں کبھی نہ دینا، اپنی ذات کو اتنا سستا نہ کرلینا کہ عزت نفس کا خون ہوجائے اور ’’تم‘‘ تم ہی نہ رہو تو پھر کیا حاصل۔ زندگی بہت خوبصورت ہے، زندگی یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ بے معانی رشتوں کے بوجھ کو لیے پھرنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن ۔۔۔ کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں توڑا بھی نہیں جاسکتا۔۔۔ کسی نہ کسی طرح نبھانا پڑتا ہے سمجھوتہ اسی کو کہتے ہیں لیکن اپنی عزتِ نفس کی حفاطت ہر حال میں لازم ہے۔ تمہاری خاموشی تمہیں مزید دکھوں سے دور رکھے گی اور تمہاری بار بار کی وضاحتیں تمہیں دوسروں کی نگاہوں میں کمزور ثابت کردیں گی۔ اس لیے عقل مندی کا تقاضا ہے کہ خاموشی سے اپنے سفر کو طے کرو کیونکہ لوگ اکثر اوقات عاجزی کو کمزوری سمجھ لیا کرتے ہیں۔ بہت سارے لوگوں کو سکون ملتا ہے دوسروں کو بارہا غلط ثابت کرنے میں، اپنی گردن اونچی رکھنے میں ، وہ نہیں جانتے کہ اکڑی ہوئی گردنیں اکثر ٹوٹ جایا کرتی ہیں۔ جس طرح لاشیں اکڑ جاتی ہیں اسی طرح انسان کی جھوٹی انا انسان کو انسان بھی رہنے نہیں دیتی۔ زندہ لوگوں میں لچک ہوتی ہے جھُکائو اور عاجزی ہوتی ہے اور مردہ لوگ اکڑے ہوئے ہی رہتے ہیں۔۔۔ مردہ لوگ اکڑے ہوئے ہی رہتے ہیں۔