بہار میں بانکی پور بی جے پی کا گڑھ سمجھا جانے والا حلقۂ انتخاب ہے ۔ وہاں سے بی جے پی صدر نتن نبین لگاتار پانچ بار اسمبلی نشست جیت چکے ہیں۔ پچھلی بار انہوں نے 50,000 سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی اس بار بی جے پی امیدوار کو صرف ۴۴ ؍ ہزار ووٹ پر اکتفاء کرنا پڑا۔ کسی پارٹی کا قومی صدر اگر اپنے حلقۂ انتخاب میں پارٹی امیدوار کو کامیاب نہ کرسکے اور اس کے محلےمیں پارٹی پچھڑ جائے تو اسے شرم سے استعفیٰ دینا چاہیے لیکن اس کوتو سنگھ کی شاکھا میں کھرچ کر نکال دیا جاتا ہے۔ حیرت اس پربھی ہے کہ کمل کو اس کےگڑھ میں پہلی بار الیکشن لڑنے والے امیدوار نے پچھاڑ دیا ۔ پرشانت کشور کی پہلی ہی کامیابی نے بی جے پی کے 1995 سے جاری کامیابی کے سلسلے کو توڑ دیا ۔ اس پورے عرصے میں بہار کے اندر بی جے پی کا وزیر اعلیٰ نہیں تھا ۔ پہلی بار اپناوزیر اعلیٰ بنانے والی بی جے پی اولین امتحان میں اوندھے منہ گر گئی ۔ بی جے پی اس گمان میں مبتلا تھی کہ دہلی میں نوجوانوں پر مظالم ڈھاکر اپنے یوتھ ونگ کے لیڈر نیریج کمار سنہا کو کامیاب کرلے گی مگربانکی پور کا پیغام ہے کہ ایسا وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری اور پارٹی صدر نیتن نبین تو دور نہ مودی و شاہ مل کر بھی نہیں کرسکتے۔
بانکی پور میں بی جے پی نے ثابت کردیا کہ اپنی صوبائی حکومت انتخابی کا میابی کی گارنٹی نہیں ہے۔ بہار کی ہار کے پیچھے سب سے اہم وجہ اپنے حلیف اور عوام سے دھوکہ دہی ہے۔ پچھلے صوبائی انتخاب میں این ڈی اے کا چہرا نتیش کمار تھے ۔ انہیں دکھا کر الیکشن جیتا گیا اور پھر ایک احمقانہ دلیل کی مدد سے ان کو پٹنہ سے دہلی بھیج دیا گیا۔ رعونت کی انتہا یہ ہے کہ انہیں مرکز میں کوئی وزارت تک دینے کی زحمت نہیں کی گئی گویا دودھ سے مکھی کی مانند نکال کر پھینک دیا گیا۔ عوام کی یہ اعتماد شکنی بی جے پی کو بھاری پڑی ۔ سنگھی مغرور ذہنیت کا عکاس کہ روی شنکر پرشاد کا یہ جملہ کہ اگر ہم کسی پتھر کو بھی کھڑا کردیں وہ جیت جائے گا مہنگا پڑ گیا۔ اس الیکشن نے گیانیش کمار کی محدودیت کو بھی بے نقاب کر دیا ۔ وہ چوری تو کرتے ہیں مگر ایک حد سے زیادہ نہیں کرپاتے۔ بہار کے اندر بی جے پی کے پاس کئی پڑھے لکھے لوگ ہیں اور وہ سنگھ کی شاکھا میں تربیت یافتہ بھی ہیں مگر اقتدار کے نشے میں چور مرکزی قیادت نے راشٹریہ جنتادل سے آنے والے ایک ساتویں پاس چودھری کو بہار کا سمراٹ بنادیا مگر عوام نے اس کی چودھراہٹ نکال دی ۔ پرشانت کشور نے سمراٹ چودھری کے مجرمانہ کردار کو اچھال کر اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ آر جے ڈی اور کانگریس نے زیادہ محنت نہیں کی کیونکہ وہ قومی سطح بی جے پی کا ناقابلِ تسخیر ہونے کو غلط ثابت کرنا چاہتے تھے۔
بی جے پی نے اس انتخاب کو جیتنے کے لیے چابک اور گاجر کےدونوں حربے استعمال کیے ۔ ووٹنگ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل پرشانت کشور کے کئی حامیوں کو حراست میں لے کر مختلف پولیس تھانوں میں نظر بند کرکے دہشت پھیلائی گئی۔ پرشانت کشور کے مطابق ایس ایچ کا دعویٰ تھا کہ مقامی تھانہ اس حراست میں ملوث نہیں تھا، بلکہ یہ کارروائی اعلیٰ حکام کے کہنے پر کی گئی یعنی ان گرفتاریوں کے پیچھے حکمراں جماعت بی جے پی کا ہاتھ ہے۔ اس سے قبل بی جے پی کے ایک وفد نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کرکے پرشانت کشور کے خلاف شکایت درج کرائی کہ وہ سوشل میڈیا پر کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں جو الیکشن کمیشن کے اخراجات کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED ) سے معاملے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ سوشل میڈیا مہم پرشانت کشور کی بیوی کی کمپنی ویداس وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعہ پیسے خرچ ہورہے ہیں اور مہم سے جڑے کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ملک کے باہر لندن سے چلائے جارہے ہیں ۔امیر ترین اور سب سے بدعنوان پارٹی کا یہ الزام مضحکہ خیز تھا ۔
اس چابک کے علاوہ گاجر کے طور پر بانکی پور اسمبلی سیٹ کی ووٹنگ سے چند گھنٹے قبل وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سوشل میڈیا پر بی پی ایس سی ٹی آر ای 4.0 کے تحت ریاست کے نوجوانوں اور امیدواروں کے لیے 32,388 اساتذہ کی اسامیوں پر بھرتی کا اعلان کردیا۔ اس کے تحت پرائمری سے لے کر ہائیر سیکنڈری تک، یعنی کلاس 1 سے 12 تک کے ہزاروں پوسٹوں کا احاطہ کیا گیا۔ بانکی پور ضمنی انتخاب کے ہی دن اس “جاب کارڈ” کو این ڈی اے کا ایک بڑا سیاسی ماسٹر اسٹروک کہا گیا۔اس شہری اسمبلی حلقہ میں 18-34 سال کی عمر کے 110,000 نوجوان ووٹر ہیں۔ یہ علاقہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے خواہشمندوں، بے روزگار گریجویٹس، اور اساتذہ کی بھرتی کے امتحان (BPSC TRE) کی تیاری کرنے والے نوجوانوں کی ایک قابل ذکر آبادی کا مرکز ہے ۔ پرشانت کشور نے سمراٹ چودھری کے اعلان کو محض ’’انتخابی چال‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق انتخابات قریب آتے ہی حکومتیں نوکریاں اور بھرتیوں کو راگ الاپتی ہیں مگر پائیدار پالیسی اور شفاف امتحانی نظام کے بغیر محض اعلانات انہیں بے وقوف بنانے کے مترادف ہیں۔
پرشانت کشور نے تعلیم، نقل مکانی ، اور بانکی پور کے مقامی مسائل، جیسے آبی ذخائر اور خراب انفراسٹرکچر کی بنیاد پر تبدیلی کو اپنا ہدف بنایا ۔ بانکی پور ضمنی انتخاب میں بھاری اکثریت سے جیت درج کرنے کے بعد پرشانت کشور نے واضح کیا کہ وہ سڑکوں اور نالیوں کی تعمیر کے معاملے پر الیکشن نہیں لڑے ہیں۔ یہ ایم ایل اے کو منتخب کرنے کا الیکشن نہیں ہے۔ اس کے ذریعہ بی جے پی کی مرکزی قیادت کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ بہار کو ایک اچھا وزیر اعلیٰ کی ضرورت ہے ۔ عوام نے 202 ارکانِ اسمبلی کو منتخب کیا ۔ اتنی بڑی جیت بہار کی قیادت کے لیے کسی مجرم، برے اخلاق اور شخصیت والے کو وزیر اعلیٰ بنانے کی خاطر نہیں تھی اس لیے کسی اچھے آدمی کو بہار کا وزیر اعلیٰ بنائیں تاکہ بہار میں تعلیم کے میدان میں بہتری آئے۔ وہاں کے بچوں کو رو زگار کے لیے دوسری ریاستوں میں نہ جانا پڑے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے ایم ایل اے بننے سے بانکی پور بنگلور نہیں بنے گا، لیکن دو تین ماہ کے اندر چھوٹے پروجیکٹوں میں فرق نظر آئے گا۔
پرشانت کشور نے جیت کے بعد بتایا ایم ایل اے کاجیتنا اور ہارنا سیاست ہے اس لیے یہ ہوتا رہتا ہے۔ وہ ان لوگوں کا شکریہ ادا کر رہے ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دیا۔ جن لوگوں نے ووٹ نہیں دیا، وہ ان کا اعتماد جیتنے کے لیے مزید محنت اور کوشش کریں گے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ بہار کو اچھی قیادت کی ضرورت ہے۔ بہار میں بہتری آنی چاہیے ۔ اگلےلوک سبھا انتخابات سے پہلے مودی، بی جے پی اور امت شاہ کو بہار کی ترقی و بہتر کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔جن سوراج کے بانی نے بتایا کہ ان کا واحد مقصد بہار میں بچوں کے لیے روزگار کو یقینی بنانا اور نقل مکانی کو روکنا تھا۔ “ پرشانت کشور نے دعویٰ کیا کہ وہ بہار کی ترقی چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ بہار میں بھی 5 کلو گرام اناج، ذات پات یا مذہب کے نام پر ووٹ مانگے جائیں۔ ان کے مطابق بہار کے ایک کروڑ سے زیادہ بچے باہر کام کر رہے ہیں اس لیے نقل مکانی روکنے کے لیے ایک خصوصی توجہ درکارہے۔ وہ کسی بھی بچے کے دس ہزار سے 15 روپے کے عوض اپنا گھر، خاندان اور برادری چھوڑ کر گجرات، ممبئی، دہلی، کولکتہ، کوئمبٹور، تمل ناڈو، یا کرناٹک نہیں بھیجنا چاہتے لیکن یہ کیسے ہوگا؟
پرشانت کشور کے مطابق یہ بی جے پی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو بہار کا وزیر اعلیٰ بنائے جو بہار میں روزگار لائے، بہار میں تعلیم کی حالت کو بہتر بنائے اور بدعنوانی کو کم کرے،بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی کو روکے۔ یہ کام چونکہ نہیں ہوا اس لیے 30 سال پرانا بی جے پی کا قلعہ صرف 30 دنوں میں منہدم ہوگیا۔ پرشانت کشور نے خبردار کیا کہ اگر آگے بھی یہ کام نہیں کیا گیا تو بی جے پی کو آئندہ انتخابات میں بھی ایسے ہی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بانکی پور ضمنی انتخاب کا نتیجہ سمرا ٹ چودھری کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد پہلا استصواب تھا۔ بہار کی عوام نے یہ پیغام دیا ہے کہ کسی مجرم کو بہار کا وزیر اعلیٰ بنا کر بہار کی ترقی ممکن ہے۔اس لیے اچھے کردار والے قابل شخص کو بہار کا وزیر اعلیٰ بنایا جانا چاہیے جس سے بہار کے لوگ بہاری ہونے پر فخر محسوس کر سکیں لیکن مودی جی سوچتے ہوں گے کہ جب ان جیسے بدنام زمانہ شخص پر اندھ بھگت فخر محسوس کرتے ہیں تو سمراٹ چودھری پر کیوں نہیں؟ وہ امیت شاہ ، یوگی ادیتیہ ناتھ، ہیمنتا بسوا سرما اور شبھیندو ادھیکاری سے برا تو ہےنہیں پھر اس کے ساتھ ناانصافی کیوں کی جائے؟ ویسے بھی ڈاکووں کے گروہ میں سادھو سنتوں کی تلاش کارِعبث ہے۔