ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین
اسوسی ایٹ پروفیسر و صدر شعبہ اردو
آرٹس کامرس کالج، بیودہ ، امراوتی، مہاراشٹر
………..
ہمارے ایک دیرینہ اور نکتہ رس دوست، جو سیاست کو شطرنج کی بازی اور سیاست دانوں کو لکڑی کے وہ بے وقوف مہرے ماننے کے سخت قائل ہیں جن کی اپنی کوئی چال نہیں ہوتی، اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ انسان کے اخلاق، خاندانی پس منظر اور لہجے کا اصل امتحان تب نہیں ہوتا جب وہ اقتدار کے ہاتھی پر سوار ہو کر رعایا پر چابک برسا رہا ہو؛ بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب ہاتھی کے پاؤں تلے سے زمین کھسک جائے اور شاہی مہاوت بدحواس ہو کر اس کے کان میں بددعائیں پھوکنے لگے۔ اقتدار کا سرور ویسے بھی ایک ایسی تیز اور بدبودار شراب ہے جو اگر کسی باوقار شخص کے پیٹ میں جائے تو وہ باوقار خاموشی اختیار کر لیتا ہے؛ لیکن اگر یہ کسی کچے سیاسی حلق میں انڈیل دی جائے تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ‘بابائے پارلیمانی گالی گلوچ ‘ جناب رمیش بدھو ڑی صاحب کے دہنِ مبارک سے اکثر دیکھنے اور سننے کو ملتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ جب انسان پیٹ کی آفت سے بچنے کے لیے کوئی ہنر سیکھتا ہے تو تاریخ اسے یا تو کاریگر کہتی ہے یا مزدور۔ لیکن جب یہی ہنر کسی برسرِ اقتدار متعصب سیاست دان کی زنگ آلود عینک سے دیکھا جائے تو وہ کاریگری نہیں، بلکہ ایک خاص مذہبی طبقے کا خاندانی جرم بن جاتا ہے۔بی جے پی لیڈر جناب رمیش بدھو ڑی صاحب نے حال ہی میں جنتر منتر کے میدان میں نئی نسل (جین زی ) کے پرامن اور بیدار احتجاج کو دیکھ کر اپنی تمام تر سیاسی بصیرت کا نچوڑ ان چند الفاظ میں سمیٹ دیا کہ وہاں طلبہ نہیں، بلکہ "پنچر لگانے والوں اور تالا بنانے والوں کی اولادیں” جمع تھیں۔ کس قدر نادر اور فلسفیانہ دریافت ہے! موصوف نے انتہائی گہرے جذباتی اور معاشی صدمے کی حالت میں ہمیں یہ انکشاف بخشا کہ پنچر لگانا اور تالا بنانا محض کوئی پیشہ نہیں، بلکہ مسلمانوں کے لیے مخصوص ایک ایسا نسلی نشان ہے جسے وہ حقارت کے طشت میں سجا کر پیش کرتے ہیں۔
گویا اگر کوئی مسلمان نوجوان ہاتھوں میں ڈگری لے کر نوکری مانگے تو وہ طالب علم ہو ہی نہیں سکتا؛ اور اگر وہ پیپر لیک اور بے روزگاری کے خلاف سڑک پر آ جائے تو ان کی بصارت کا کمال دیکھیے کہ انہیں بی اے اور ایم اے کی اسناد کے واٹر مارک میں بھی سائیکل کے پرانے ٹیوب ، اور علی گڑھ کے تالے ہی دکھائی دینے لگے ۔ ہمیں بدھو ڑی صاحب کے اس بیان پر پہلے تو حیرت ہوئی، پھر ان کی بصیرت پر پیار آیا۔ کس قدر باریک بین ہیں یہ صاحب! کہاں وہ نوجوان جو ہاتھ میں آئین کی کاپی اور بے روزگاری کے خلاف پلے کارڈز لیے کھڑے تھے، اور کہاں بدھو ڑی صاحب کی بصارت کا وہ خوردبینی عدسہ جس نے ان تمام نوجوانوں کی تعلیم اور ڈگریوں کے بجائے ان کے آبا و اجداد کی دکانوں کے تالے اور اوزار یکایک ڈھونڈ نکالے!
اقتدار پر قابض ‘جمہوریت کے ان ٹھیکیداروں’ کے تعصب کی حد دیکھیے؛ اگر یہ غلطی سے کسی ایسے کتب خانے میں چلے جائیں جہاں کتابیں ان کے سیاسی منشور سے زیادہ ہوں، تو منشی پریم چند اور فراق گورکھپوری کی تخلیقات پر بھی صرف اس لیے پابندی لگا دیں گے کہ اس کے شیرازے کی گوند میں کسی مسلمان مزدور کے ہاتھ لگے تھے۔ ہمارے ملک میں غریبی کو جرم بنانا نیا نہیں، مگر اب اگر حلال کی روزی کمانا بھی مذہبی گناہ قرار پا چکا ہے، تو پھر بدوڑی برادری کی لغت میں شرافت کا صرف ایک ہی معیار بچتا ہے: کوئی شخص کسی قابلیت کے بغیر، صرف ایک خاص کمیونٹی کو سڑک چھاپ گالیوں سے نواز کر پارلیمان کا رکن بن جائے!
ہمارے ایک پرانے حکیم صاحب، جو جسمانی شکست و ریخت کے ساتھ انسانی نفسیاتی کجی کے بھی طبیب ہیں، ایک بڑی پتے کی بات کہا کرتے تھے کہ خالی جیب والا شخص جب بازارِ حسن سے گزرتا ہے تو وہ طوائف کے حسن و رقص پر نہیں، بلکہ اس کے قد اور پاؤں کی ناہمواری پر عیب نکالتا ہے ۔ حاکمِ وقت اور ان کے سیاسی گنگا جمنی دعووں پر یہ مثال بالکل صادق آتی ہے ۔۱۲ سال سے جس "ہندو مسلم نفاق” کا منجن بازار میں بیچا گیا، جس کے اشتہارات کے لیے دن رات ایک کر دیے، اور جب وہ پروڈکٹ اس نئی نسل نے خریدنے سے صاف انکار کر دیا تو شاہی محل میں اچانک صفِ ماتم بچھ گئی۔ اقتدار کے تاجروں نے تو بازار میں نفرت کا ایک ایسا منجن اتارا تھا جس کے استعمال سے قوم کا ہاضمہ تو خراب ہو سکتا تھا، مگر اقتدار کی صحت بحال رہتی۔ لیکن نئی نسل نے اس منجن کو چکھنے کے بجائے آئین کی کتاب کھول کر پڑھنی شروع کر دی۔ اب حالت یہ ہے کہ حکیم صاحب کا منجن دکان میں دھرا ہے اور خریدار سڑک پر عقل کا سودا کر رہے ہیں!
اب جب سرکار کے پاس مسلمانوں کو حاشیہ بردار بنانے کے بعد ہندو نوجوانوں کی بے روزگاری کا بھی کوئی جواب نہ رہا، تو رمیش بدھو ڑی جیسے نابغہٴ روزگار لیڈر کو میدان میں اتارا گیا تاکہ وہ مسلمانوں کے لیے مخصوص کی گئی تحقیر کے پرانے اوزار استعمال کر کے اس بیدار نسل کی تحریک کو بدنام کر سکیں۔ بدھو ڑی صاحب کی پارلیمانی تاریخ پر نظر دوڑائیے تو یوں لگتا ہے جیسے ان کا انتخاب کسی سیاسی قابلیت کی بنا پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہوا تھا کہ وہ ایوان کی فضا کو کتنا آلودہ کر سکتے ہیں۔ ایوانِ زیریں کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہی ایک منتخب مسلمان رفیقِ کار کی تواضع جن لسانی تحائف سے کی، اور پارلیمانی کارروائی کے دوران "کٹوے” اور "دہشت گرد” جیسے معطر الفاظ نچھاور کیے، انہیں سن کر تو خود ابلیس بھی اپنے ان ہونہار شاگردوں کی تربیت پر بغلیں بجانے کے بجائے شرم سے پانی پانی ہو گیا ہو گا!
جو شخص پارلیمان کو گالیوں کا چوک بنا سکتا ہو، اس کے لیے جنتر منتر کے پڑھے لکھے باشعور نوجوانوں کو "پنچر والوں کی اولاد” کہہ کر مسلمانوں کی تذلیل کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ بدھو ڑی جب کسی مسلمان کو گالی نہ دیں یا اس کے پیشے کا تمسخر نہ اڑائیں، تب ان کی دماغی صحت پر شک ہونے لگتا ہے کہ کہیں مزاج ناساز تو نہیں! لیکن یہ صاحب شاید سیاست کے اس بنیادی اصول کو بھول چکے ہیں کہ جس غبارے میں وہ پچھلے ۱۲ سال سے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ہوا بھر رہے تھے، اس کے ارد گرد اب کوئی معصوم عوام نہیں بلکہ ایک انتہائی بیدار اور سیانی نسل کھڑی ہے۔ غبارہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو،اور شاہی مہر سے منقش ہی کیوں نہ ہو، اسے پھو ڑنے کے لیے کسی بڑی توپ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک چھوٹی سی جمہوری سوئی، جو پنچر جوڑنے والے کے ہاتھ میں ہو، اس پورے سیاسی غرور کی ہوا منٹوں میں نکلنے کے لیے کافی ہوتی ہے!
ہماری جمہوریت کا سارا دارومدار ان گمنام افلاطونوں پر ہے جو دن بھر ربڑ کی ٹیوب میں سے جمہوریت کےٹائروں سے گناہ آلود ہوا تلاش کرتے ہیں اور رات کو آئین کے زنگ آلود تالوں کی چابیاں گھڑتے ہیں۔ بدوڑی کو شاید اپنی سیاسی کم فہمی کی وجہ سے یہ اندازہ ہی نہیں کہ جسے وہ بطور تحقیر "پنچر والا” کہہ کر مسلمانوں کی تذلیل کر رہے ہیں، وہی اس ملک کی جمہوریت کا اصل مستری ہے! اس محنت کش طبقے کا بنیادی کام ہی یہی ہے کہ جہاں کہیں طاقت کا بے جا دباؤ اور تکبر کی ہوا ضرورت سے زیادہ بھر جائے، وہاں جمہوری نشتر سے اس رساؤ کو روکے۔ اور جب اقتدار کے نشے میں سرکار کا دماغی توازن بگڑ جائے، تو یہی پنچر والا اس کے تمام تر نفرتی غرور کی ہوا نکال کر گاڑی کو اوقات میں لانے کا ہنر جانتا ہے۔ہمیں تو ان تالا بنانے والوں پر بھی بڑا پیار آتا ہے جن کے ذریعے بدھو ڑی نے مسلمانوں کو طعنہ دینے کی کوشش کی۔ تالا بنانا تو دراصل اس ملک کے آئین اور جمہوریت کی حفاظت کی علامت ہے۔ جب سرکار کے اپنے ادارے، عدالتیں اور میڈیا اپنے ایمان اور ضمیر پر تالے لگا کر بیٹھ جائیں، اور جب مسلمانوں کو معاشی طور پر الگ تھلگ کر کے انہی چھوٹے موٹے کاموں تک محدود کر دیا جائے، تو ایسے میں اگر اسی محنت کش کا بچہ سڑک پر نکل کر سرکار کی بے راہ روی پر آئین کا تالا کھولنے کی بات کرے، تو بدھو ڑی کو تکلیف تو ہوگی ہی! ان کے نزدیک شاید تالا وہی اچھا ہے جو مسلمانوں کی زبان اور ملک کے آئین پر لگا دیا جائے۔
بی جے پی کے حکمت عملی سازوں کو اب شاید یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ مسلمانوں کو گالی دے کر اور انہیں پنچر یا تالا ساز کہہ کر ووٹ سمیٹنے کا طلسم اب ٹوٹ رہا ہے۔ وزیرِ اعظم چاہے کتنی ہی مڈ نائٹ انسٹا گرام ریلیں بنا کر ، نوجوانوں کے لیے "فرینڈشپ ڈے” کے گانے بجا لیں، یا اپنے وزراء کو روزانہ نئے رنگ نئے ڈھنگ میں میڈیا کے سامنے کھڑا کر دیں، لیکن اگر ان کے پیچھے رمیش بدھو ڑی جیسے گالی باز، بد تمیز سپہ سالار کھڑے ہوں گے تو عوام یہی سمجھے گی کہ ہاتھی کے دکھانے کے دانت کچھ اور ہیں اور کھانے کے کچھ اور!
آپ کا حال بھی عجیب ہے؛ ایک طرف تو نوجوانوں کو ‘فر’فرینڈس’ کہہ کر دوست بناتے ہیں اور دوسری طرف ان کے اتحاد میں مسلمان نوجوان کی موجودگی پر ناک بھوں سکوڑ کر ان کی محنت اور غریبی پر طنز کے تیر چلاتے ہیں۔ یہ تو بالکل وہی میزبانی ہوئی کہ پہلے تو مہمان کو خوش آمدید کہہ کر چائے کا کپ پیش کیا جائے، اور پھر چائے کا آخری گھونٹ حلق سے اترتے ہی اس کی ذات، نسل، مذہب، پیشہ اور عقیدے پر زبانی بدہضمی کا نزلہ گرا دیا جائے!
خوب یاد رکھیں ! اس ملک کا مسلمان اور محنت کش شہری چور یا ڈکیت نہیں ہے۔ وہ شدید سیاسی و سماجی تعصبات کے باوجود اپنی محنت کی حلال روزی سے اپنے بچوں کو پڑھاتا ہے۔ اور جب وہی بچہ تمام تر ناانصافیوں، تعصبات اور پیپر لیک مافیا کے خلاف تمام مذاہب کے نوجوانوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے، تو وہ بدھو ڑی جیسے سیاسی طفیلئے کی سیاست کا جنازہ نکال دیتا ہے۔ کیونکہ جو نئی نسل اب سڑکوں پر ہے، وہ نہ تو ہندو مسلم کے نام پر بٹنے کو تیار ہے اور نہ ہی مسلمانوں کو گالی بناتے دیکھ کر خاموش رہنے کو تیار ہے۔
ہم بدھو ڑی کو ان کے اپنے ہی انداز میں ایک مخلصانہ مشورہ دینا چاہتے ہیں: حضور! اگر آپ کو مسلمانوں، پنچر والوں اور تالے بنانے والوں سے اتنی ہی شدید نفرت ہے، تو اپنے سیاسی ایوانوں کے دروازوں پر مضبوط تالے لگوا لیجیے اور اپنے سیاسی سفر کی گاڑی کا ٹائر ذرا سنبھال کر رکھیے۔ چونکہ جس روز اس ملک کے تمام پنچر بنانے والوں اور ان کے ساتھ کھڑی بیدار نسل نے مل کر آپ کے نفرتی غرور کی ہوا نکالنے کا فیصلہ کر لیا، اس روز دنیا کا کوئی سیاسی پمپ اور گالیوں کا کوئی ذخیرہ آپ کے اقتدار کی گاڑی کو دوبارہ سڑک پر نہیں چلا سکے گا۔ جمہوریت کا سسپنس یہی ہے کہ اس میں گالی دینے والا جتنا اونچا بولتا ہے، گرتے وقت اس کے پٹخنے کی آواز اتنی ہی شدید اور ناقابل برداشت ہوتی ہے!