’’ جب اِنسان ٹوٹ جاتا ہے ! ‘‘

’’ جب اِنسان ٹوٹ جاتا ہے ! ‘‘

’’ جب اِنسان ٹوٹ جاتا ہے ! ‘‘

ازقلم:سیما شکور، حیدر آباد

جب انسان حالات کا مقابلہ کرتے کرتے ٹوٹ جاتا ہے تو وہ خامو ش ہوجاتا ہے پھر وہ کسی پر کبھی بھروسہ نہیں کرتاوہ کسی کو دوست نہیں بناتا۔ سب سے بڑے بڑے دھوکے کھانے کے بعد وہ تنہا رہنا زیادہ پسند کرتا ہے، محفلوں میں جانے سے گریز کرنے لگتا ہے۔ وہ دکھوں کے سمندر میں اس طرح ڈوبتا ہے کہ مسکراتا تو ہے لیکن اس کی مسکراہٹ ایک زخمی مسکراہٹ ہی ہوتی ہے ۔ لوگ جب اپنے مفاد کے لیے دوسروں کو استعمال کرتے ہیں تو پھر انسان ہر کسی سے دور ہوجاتا ہے وہ ہر کسی پر بھی بھروسہ کرنے سے کتراتا ہے۔ اپنے غم و اندوہ کو اپنی روح میں چھُپانے سے انسان اندر ہی اندر سسکتا ہے… لیکن… کسی کو خبر نہیں ہوتی ، کسی کو خبر نہیں ہوتی کوئی جان ہی نہیں پاتا اُس کا درد ۔ وہ کسی سے شکایت نہیں کرتا ، لاحاصل سعی سے خاموش رہ جانا بہتر ہے۔ ہر کوئی اپنی ذات کے ارد گرد ہی گھوم رہا ہے۔ اس لیے ٹوٹ کر بکھر بھی جائو اس طرح کہ کسی کو پتہ نہ چلے۔ جب انسان اس قدر اپنے آپ کو تنہا محسوس کرے کہ بھیڑ ہو چاروں طرف، تو پھر سمجھ جانا چاہئے کہ وہ انسان اس دنیا سے بالکل الگ مزاج رکھتا ہے وہ نہ ہی رشتوں سے فائدے اٹھانا جانتا ہے نہ ہی منافقت اس میں پائی جاتی ہے اس لیے سب کے ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتا ہے اس دنیا کی ریت الگ ہے اور اس انسان کی فطرت الگ ہے خاموشی اس کی روح کی گہرائیوں میں اس طرح براجمان ہوجاتی ہے کہ پھر کبھی واپس نہیں جاتی۔ لوگ اُسے مغرور سمجھتے ہیں لیکن کوئی کیا جانے کہ کیا سانحہ ہوا اس کی زندگی کے ساتھ، کیا کیا نہ ہوا اس کی زندگی کے ساتھ…اس لیے انسان زندگی کے جزیرے پر خاموش بیٹھ جاتا ہے۔ پھر اُس کے آس پاس کا ماحول کتنا بھی خوبصورت ہو اُسے کوئی دلچسپی نہیں رہتی نہ ہی کھلتے ہوئے حسین و دلکش پھول اسے خوشی دے سکتے ہیں اور نہ ہی بارش کی ٹھنڈی ٹھنڈی بوندیں اس میں رنگ بھر سکتی ہیں وہ اُداسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں اس طرح کھوجاتا ہے کہ خوشی کا کوئی بھی احساس باقی نہیں رہتا۔

تمہارے آس پاس کبھی تمہیں ایسی کوئی ہستی دکھائی دے تو اسے سمجھنے کی کوشش کرو ، کیونکہ کچھ تو بات ہے جو اس شخص کو اُداسیوں نے آگھیرا ہے۔ جب تم دھیرے دھیرے جان جائوگے تو شاید تمہیں لوگوں کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی۔ ہم ہر کسی سے یہ توقع کرلیتے ہیں کہ جیسا ہم چاہتے ہیں لوگ ویسے ہی ہوجائیں ۔ اگر ہمارا موڈ اچھا ہے ہم خوش ہیں تو یہی چاہتے ہیں کہ ہر کوئی ہمیں ایسے ہی خوشگوار انداز میں ملے یہ خود غرضی کہلاتی ہے۔ ہم بہت جلدی غلط فہمیاں پال لیتے ہیں ایک دوسرے کو سمجھنے کی قطعاً کوشش نہیں کرتے۔ کسی سے زندگی نے اگر ہر خوشی چھین لی ہے وہ خاموش ہوگیا ہے تو آپ اور ہم یہ توقع کیسے کرسکتے ہیں کہ وہ نارمل انداز میں ملے ایسا ممکن نہیں ہے۔ تعلقات میں خرابی اسی طرح پیدا ہوتی ہے ہم بہت جلدی ایک دوسرے کو تنہا کردیتے ہیں دلوں میں ناراضگیاں ، بدگمانیاں پال پال کر سب کچھ ختم کردیتے ہیں۔ یہ رشتے ناطے سب ٹوٹ جاتے ہیں۔ ہم ہر کسی کو اپنی نظر سے پرکھتے ہیں اپنے فہم سے سوچتے ہیں کبھی گہرائی سے سوچ بچار نہیں کرتے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کسی کو بھی زیادہ اہمیت دینا نہیں چاہتے یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ ہماری نظر، ہمارا فہم وہاں تک احاطہ نہ کرسکے جہاں تک ہونا چاہئے۔ بس یہیں پر ہم بھو ل کر بیٹھتے ہیںایک دوسرے کے لیے اپنے دلوں میں اتنا بغض پال لیتے ہیں کہ پھر وقت بھی اس کی تلافی نہیں کرسکتا۔ ہمیں وسیع النظری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ تنگ نظری سے سوچنا غلط ہے۔ ہماری محدود سوچ ہم سے بہت ساری غلطیاں کرواتی ہے۔ ایک بہترین انسان وہ ہوتا ہے جو صرف ایک ہی نظر یے سے معاملات کا جائزہ نہیں لیتا۔ ایسے لوگ معاشرہ میں کمیاب ہیں جو باریک بینی سے مشاہدہ کرکے ہی معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، جلد بازی میں کسی کے لیے کوئی حتمی رائے قائم نہیں کرتے۔ نا سمجھی میں جب ہم ایک دوسرے کے درمیان طویل سرحدیں قائم کردیتے ہیں تو پھر ان فاصلوں کو طے کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ حالات و واقعات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے کسی کے رویے میں تبدیلی ہونا یا کسی کا خاموش ہوجانا اس بات کی طرف اشارہ نہیں کرتا کہ ضرور دل میں کھوٹ ہے ہم ہمیشہ ایک ہی دائرے میں گھومتے رہتے ہیںاور غلط رائے دینے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔ رشتوں کی مضبوطی کے لیے اس طرح کی سوچ رکھنا درست نہیں ہے۔ آپ کے اس طرح کے نامناسب سلوک کی وجہ سے ٹوٹے ہوئے لوگ اور بھی ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ ہر انسان ایک جیسا مزاج نہیں رکھتا کچھ لوگ بے انتہا حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں وہ حالات کا مقابلہ زیادہ دیر تک کرنے سے قاصر ہوتے ہیں مصیبتیں اور پریشانیوں سے بہت جلدی پریشان ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں کی ڈھارس بندھانے کے بجائے ہم ان سے اور بھی دور ہوجاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی سوچ کا معیار اس قدر گھٹیا اور گرا ہوا ہوتا ہے کہ کسی کے دکھ، کسی کی حساسیت دیکھ کر وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ یہ شخص ہمارے مقابلے میں کچھ نہیں وہ پھر کچھ اس طرح کی باتیں پھیلانے لگتے ہیں کہ جس سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ ان کا شجرئہ نسب کہاں پر جاکر ملتا ہے انسان کی سوچ اس کے نسلی یا بد نسلی ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔ ٹوٹے ہوئے لوگوں کو مزید توڑ دینا خاندانی لوگوں کا کام ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتا بکھرے ہوئے لوگوں کو سمیٹ لینا یہ اعلیٰ ظرف لوگوں کی نشانی ہے۔ کچھ لوگ لوگوں کو گرا کر خود اونچا اٹھنے کی کوشش کرتے ہیں او ریہی ان کے گرے ہوئے ہونے کا واضح ثبوت ہے۔

انسان ایک دم ، یونہی نہیں ٹوٹ جاتا، لوگوں کے بُرے رویے، نظر انداز کئے جانا، مشکل وقت میں تنہا چھوڑ دینا اور خاص طور پر وہ اپنے جو کہنے کو تو اپنے ہوتے ہیں لیکن اپنے نہیں ہوتے یہ سب کچھ جب انہیں سہنا پڑتا ہے تو پھر کسی بھی انسان کا ٹوٹ جانا یقینی ہے۔ ہمارا معاشرہ چڑھتے سورج کا پجاری ہے، جہاں کسی میں کمزوری نظر آجاتی ہے تو پھر سب اسی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں کہ کس طرح ایک پریشان شخص کو مزید الجھن اور پریشانی میں ڈالا جائے ۔ اس لیے جو لوگ مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے ہیں وہ ہر مشکل اور بڑے سے بڑاا حادثہ ہونے کے باوجود خود پر قابو رکھتے ہیں اور کوئی بھی نہیں جان پاتا کہ اُس کی روح تک زخمی ہوچکی ہے لیکن… چہرے پر کوئی بھی اس کے آثار دکھائی نہیں دیتے، زخم زخم ہوئی دل کی بستی ہونے کے باوجود وہ عزم و ہمت کی مکمل تصویر نظر آتے ہیں۔ مگر ایسا کڑا دل، ایسی ہمت ہر کسی میں نہیں ہوتی لوگ مختلف مزاج رکھتے ہیں۔ کوشش کیجئے کہ ایسے لوگوں کو مزید بکھرنے نہ دیں۔ ایسے لوگ آپ کے بے حد قریبی لوگ بھی ہوسکتے ہیں لیکن چونکہ ہم سب احساس کی دولت سے محروم ہوتے ہیں یا پھر احساس ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ لیتے ہیں اس لیے کسی کی آنکھوں میں اَن دیکھے آنسو نہیں دیکھ پاتے اس لیے کہ ہم صرف اپنی ذات کے بارے میں ہی سوچتے ہیں کیونکہ ہم بے حد خود غرض ہیں…افسوس ہم بہت خود غرض ہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے