آج سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہیں جس میں ایک لڑکی ویڈیو کال پر اپنے والد کی موت کے بعد انکی آخری رسومات دیکھ رہی ہیں، اس لڑکی کے والد شیو چرن گپتا ممبئی میں کپڑوں کا کاروبار کرتے تھے انھوں تینوں لڑکیوں کو اعلی تعلیم حاصل کرنے میں ہر ممکن کوشش کی اس کے بعد شادی کروائی تینوں لڑکیاں ٹیچر ہیں، شیو چرن گپتا کو کاروبار میں نقصان ہونے کے بعد وہ سونی پت چلے گئے جہاں آشرم میں رہنے لگے پیٹ میں شدید درد کے بعد انکی موت واقع ہوگئی جس کے بعد آشرم کے ذمہ داروں نے ان کی لڑکیوں کو فون کیا لیکن لڑکیوں نے یہ کہاں کہ ہم کافی دور رہتے ہیں آنے کے لیے وقت نہیں ہے اور جب وہ مر ہی گئے ہیں تو آکر کیا کریں گے اتنا کہ کر انہیں پانچ ہزار سو روپے بھیج دیے کہ تم ان کی آخری رسومات ادا کرکے ویڈیو بھیج دیجئے۔
یہ ایک طرح سے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا واقعہ ہیں یوں تو لگتا ہے کہ یہ صرف کسی ٹی وی سیریل کا سین ہوگا لیکن آج دنیا میں حقیقت میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
اسی طرح کا ایک واقعہ اورنگ آباد کا ہے کہ ایک نوجوان لڑکے نے زمین کے کیس میں ہار جانے کے بعد اپنے باپ کا قتل کردیا آئے دن اس طرح کے واقعات، حادثات کی خبریں سننے اور دیکھنے مل رہی ہیں ذرا اندازہ لگائیے ایک باپ اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی یہاں تک کے اپنا خون پسینہ سب کچھ اپنے بچوں پر نچھاور کردیتا ہے ایک باپ ہی ہوتا ہے جو اپنے بچوں کو اپنے سے زیادہ کامیاب اور خوش دیکھنا چاہتا ہے۔ ایسا خلوص والا رشتہ دنیا میں کوئی موجود نہیں ہے جو والدین کا اپنے اولاد کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن ہمارا معاشرہ مادہ پرستی مغربی تہذیب میں اس طرح غرق ہوچکا ہیں کہ اس کے پاس انسانیت اور اخلاقیات جیسی کوئی شے باقی نہیں رہی ہیں۔
ذاتی مفادات نے تمام رشتوں اور حقوق کو پس پشت ڈال دیا ہیں یہاں تک خونی رشتے بھی اب محفوظ نہیں ہیں۔ جس مغربی تہذیب کے پیچھے ہماری نوجوان نسلیں اندھا دھند سفر کر رہی ہیں اور اس میں اپنی نجات اور ترقی کو دیکھ رہی ہیں وہ ایک سراب کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ ایسی ترقی کس کام کی جو انسان کو انسان نہ رہنے دیں جو اپنے مادر پدر حقوق کو فراموش کردیں جو انسانی اقدار کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں ایسی ترقی سے تو وہ تنزلی بہتر تھی جو آدھی روٹی کھاکر گزاری جاتی تھی جو راتیں چراغوں کی روشنی میں گزاری جاتی تھی، جو زندگی مٹی کے گھروں اور لکڑی کے چولھے کے ساتھ گزردی جاتی تھی لیکن انسان کے اعتماد کو ٹھیس پہنوچانا اور اس کے دل کو توڑنا بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔
آج ہمیں از سر نو اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ تربیت پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ یہ ایک پیسہ کمانے والے روبوٹ بن کر رہ جائیں گے جو اخلاقیات اور انسانی اقدار کے اصولوں سے عاری و بے بہرہ ہوگے۔ آج بچوں سے پہلے ماؤں کو اخلاقی مذہبی تعلیمات کا سبق پڑھانے کی اشد ضرورت ہی نہیں بلکہ ناگزیر ہوچکا ہے۔ بچوں کو صرف اچھی زندگی، اچھا گھر، اچھے کپڑے، کھانے پینے، کھیلنے کودنے، عیش و عشرت آرام آسائشیں فراہم کرنا عقل مندی کی دلیل نہیں ہیں بلکہ انکی تعلیم تربیت اور انھیں قابل بنانا ضروری ہے ہم اپنے زندگیاں نہیں جی رہے ہیں بلکہ ہم مزدوروں کی طرح کسی اور کی زندگی کے لیے مزدوری کر رہیں ہیں لیکن خسارہ والی مزدوری وہ بھی ایسی ہیں کہ جس کا کوئی صلہ آپ کو ملنے کی امید نہیں ہیں اگر ماؤں اور بچوں کی تربیت پر خاص توجہ نہیں دی گئی۔