ارشادِ ربانی ہے :’’کیا وہ شخص جو پہلے مُردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اُن سے نہ نکلتا ہو؟‘‘ ابتدائے آفرینش میں تمام ارواح سے یہ گواہی لینے کے بعد کہ ’اللہ ہی رب ہے‘ انہیں ایک خاص مدت تک کے لیے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ اس کے بعد اپنے اپنے وقتِ مقررہ پر ان ارواح کو جسم کا لباس پہنا کر عارضی طور دنیا میں آزمائش کے لیے بھیج کر مردنی کو زندگی میں بدل دیا جاتا ہے۔ انسانوں کی ہدایت کے لیے اس کے نفس کو استوار کرنے کے بعد آفاق و انفس میں بے شمار نشانیاں پھیلانے کے ساتھ انبیائے کرام کا سلسلہ جاری فرما کر ان پر کتاب نازل کی گئی ۔اس کے باوجودمنہ موڑ کر گمراہی کی تاریکی کو پسند کرنے والوں کے ساتھ نورِ ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے والے بھی ہیں۔ ان دو طرح کے انسانوں کا موازنہ کرکے سوال کیا گیا ہے کہ کیا یہ م اپنے انجامِ کار کے لحاظ سے یکساں ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں ۔
انسانی گمرہی کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ :’’ کافروں کے لیے ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں‘‘ ان میں عام لوگوں کا انکار تواپنی ذات تک محدود ہوتاہے مگر منکرین حق کے پیشواوں کی بابت فرمایا گیا :’’ اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکر و فریب کا جال پھیلائیں‘‘۔ یہ دراصل آزادیٔ فکر و عمل کا بیجااستعمال ہے مگر :’’ دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں، اُنہیں اس کا شعور نہیں ہے‘‘۔ اس کی تازہ ترین مثال رام مندر میں چندہ چوری کا مسئلہ ہے۔ بابری مسجد کو شہید کرکے وہاں مندر بنانے والوں نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ان کا یہ ظلم ایک دن اپنے گلے ہڈی بن جائے گا۔ ایوان پارلیمان سے لے کر یوپی کی اسمبلی تک ’چندہ چور گدی چھوڑ‘ کے نعرے لگیں گے ۔ ایوان پارلیمان کے احاطے میں اس پر نکڑ ناٹک ہوگا۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شرم سے منہ چھپاتے پھریں گے ۔خود کو دبنگ سمجھنے والے یوگی مہاراج کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر بھاگنا پڑے گا۔ بڑے ارمانوں سے بنایا جانے والا مندر اب ذلت و رسوائی کا سبب بن چکا ہے ۔
ارشادِ قرآنی ہے:’’ جب تکلیف پہنچنے کے بعد ہم نے لوگوں کو ذرا رحمت کا مزہ چکھادیا تو فورا ہماری آیتوں میں مّکاری کرنے لگے‘‘۔ اپنےپونر جنم کے فوراً بعد بی جے پی دو ارکان پارلیمان پر سمٹ گئی مگر پھر جب ان کی طاقت میں اضافہ ہوا ۔ وی پی سنگھ نے منڈل نافذ کیا تواس کے خلاف اڈوانی کمنڈل لے کر رتھ یاترا پر نکل کھڑے ہوئے۔ایسی مکاری کرنے والوں کو خبردار کیا جاتا ہے:’’ تو آپ کہہ دیجئے کہ خدا تم سے تیز تر تدبیریں کرنے والا ہے اور ہمارے نمائندے تمہارے مکر کو برابر لکھ رہے ہیں ‘‘۔ بابری مسجد کو شہید کرنے کے بعد ان لوگوں نے عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ بھی کرلیا ۔ اس بابت ارشادِ قرآنی ہے:’’ انہوں نے (دولت و اقتدار کے نشہ میں بدمست ہو کر) اپنی طرف سے بڑی فریب کاریاں کیں جبکہ اللہ کے پاس ان کے ہر فریب کا توڑ تھا، اگرچہ ان کی مکّارانہ تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اکھڑ جائیں‘‘۔ موجودہ حکومت نے جلد بازی میں الیکشن کے سے قبل آدھے ادھورے مندر کا افتتاح کرکے کامیابی حاصل کرنے کی مذموم کوشش کی مگر وہ چار سو پار تو دور معمولی اکثریت بھی حاصل نہیں کرسکے ۔ ایودھیا جہاں مندر بنا تھا اس نشست کو بھی گنوا کر پیساکھیوں پر سرکار بنانے پر مجبور کردئیے گئے۔ ان کے ساتھ وہی تاریخ دوہرائی گئی کہ:’’ یہودیوں نے عیسٰیؑ سے مکاری کی تو اللہ نے بھی جوابی تدبیر کی اور خدا بہترین تدبیر کرنے والا ہے‘‘۔
بی جے پی کے اقتدار کا محل رام مندر کی بنیاد پر تعمیر کیا گیا تھا مگر اس کی درو دیوار اور چھت پڑھا لکھا متوسط طبقہ تھا ۔ چندہ چوری نے ان کی بنیاد ہلادی اور ایک نوزائیدہ کاکروچ جنتا پارٹی کے ذریعہ ان کی چھت میں ایسا سوراخ ہوا کہ وہ ان کے سر پر آرہی ۔ قرآن کریم کے اندر یہ منظر ملاحظہ فرمائیں:’’ اِن سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے) ایسی ہی مکاریاں کر چکے ہیں، تو دیکھ لو کہ اللہ نے اُن کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آ رہی‘‘۔ سنگھ پریوار کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبھی رام مندر نام کی یہ ای وی ایم مشین ان کے گلے کا پھندا بن جائے گی اور ان کا سب بھروسہ مند حامی دشمن بن جائے گا ۔ مذکورہ بالا آیت کے آخری حصے میں یہی کہا گیا ہے کہ :’’ ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کا اُن کو گمان تک نہ تھا‘‘۔ اقتدار کے فریب میں مبتلا لوگوں کو اللہ کی کتاب خبردار کرتی ہے:’’کیا وہ لو گ اللہ کی مخفی تدبیر سے بے خوف ہیں؟ پس اللہ کی مخفی تدبیر سے نقصان اٹھانے والی قوم کے سوا کوئی بے خوف نہیں ہوا کرتا ‘‘۔ اب یہ پورا سنگھ پریوار اللہ تبارک و تعالیٰ کی تدبیر سے ایک ایسے نقصان میں مبتلا ہوگیا کہ جس سے نکلنے کا انہیں کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا ہے اور دولت و اقتدار سب کا سب بے سود ہوچکا ہے۔ ایسے میں اہل ایمان کو تلقین کی گئی ہے کہ:’’اور آپ صبر ہی کریں کہ آپ کا صبر بھی اللہ ہی کی مدد سے ہوگا اور ان کے حال پر رنجیدہ نہ ہوں اور ان کی مکاّریوں کی وجہ سے تنگدلی کا بھی شکار نہ ہوں‘‘ یعنی اہل ایمان کا کام صبر و استقامت کے ساتھ اپنا فرضِ منصبی ادا کرنا ہے کیونکہ انہیں رب کائنات یہ بشارت دے رہا ہے کہ :’’بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے تقوٰی اختیار کیا ہے اور جو نیک عمل انجام دینے والے ہیں ‘‘ بقول شاعر؎
نور حق شمع الٰہی کو بجھا سکتا ہے کون
جس کا حامی ہو خدا اس کو مٹا سکتا ہے کون