بہار کے بانکی پور، گجرات کے مانجل پور، اور مدھیہ پردیش کے دتیا حلقوں میں ضمنی انتخابا ت منعقد ہوئے ۔ ان تینوں صوبوں میں اتفاق سے ڈبل انجن سرکار ہے۔ ان انتخابی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی اور ایودھیا چندہ چوری نے سنگھی رائے دہندگان میں زبردست مایوسی پیدا کی ہے۔ اس لیے ان کے جوش و خروش میں غیر معمولی کمی کا اندازہ پولنگ کی کمی سے کیا جاسکتا ہے۔ بانکی پور ضمنی انتخاب میں صرف 34.30 فیصد ووٹنگ ہوئی جو گذشتہ بار 41.45 فیصد ووٹنگ کے مقابلے میں ۷ فیصد سے زیادہ کم ہے۔ دوسری طرف، مانجل پور ضمنی انتخاب میں بھی 37.5 فیصد ٹرن آؤٹ درج کیا گیا۔ یہ دونوں بی جے پی کے گڑھ ہیں جہاں برسوں سے کمل کھلتا رہا ہے۔ ان تینوں حلقوں میں مدھیہ پردیش کو یہ امتیاز حاصل رہا کہ وہاں 71.44 فیصد ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ یہاں پچھلی بار اور اس مرتبہ بھی کانگریس کو کامیابی ملی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریسیوں نے جوش و خروش دکھایا ورنہ جس طرح وزیر اعلیٰ موہن یادو نے اسے اپنے وقار کا مسئلہ بنا دیا تھا اسے دوبارہ جیتنا کانگریس کے لیے آسان نہیں تھا۔
مذکورہ بالا تینوں حلقہ ہائے انتخاب میں سب سے اہم بانکی پور تھا کیونکہ وہاں کے رکن اسمبلی نتن نبین کوڈبل ترقی ملی ۔انہیں قومی صدر بنا کر راجیہ سبھا بھیجا گیا۔ اب انہیں یہ ثابت کرنا تھا کہ مستقبل میں وہ پارٹی کو ملک بھر میں کامیابی سے ہمکنار کریں گے ۔اس کے لیے خود اپنے حلقۂ انتخاب میں بہترین موقع تھا جہاں سے وہ کئی مرتبہ جیت چکے ہیں لیکن وہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا۔پرشانت کشور ان کے سامنے ہنومان بن کر رقص کرنے کے بجائے (جیسا کہ لکھنو میں ہوا تھا) راون بن کر ڈٹ گئے۔ کل یُگ کی رام لیلا میں راون کامیابی سے سرفراز ہوگیا۔ انتخابی سیاست میں سرکار چلانا یعنی عوامی فلاح بہبود وزراء کے ذمہ ہوتی ہے اور پارٹی کو صدر چلاتا ہے۔ بی جے پی میں نریندر مودی وزیر اعظم بنے تو پارٹی کی کمان راجناتھ سنگھ کے ہاتھوں میں تھی ۔ انہیں توقع تھی کہ بی جے پی سب سے بڑی پارٹی تو بن جائے گی مگر اکثریت سے محروم رہے گی اس لیے دوسروں کے تعاون سے مخلوط حکومت تشکیل کرنی پڑے گی۔ ایسے میں نریندر مودی کی پیشانی پر لگا گجرات فساد کا کلنک ان کے راستے کا روڑا بن جائے گا جیسا کہ رام مندر کی تحریک نے لال کرشن اڈوانی کو وزیر اعظم بننے سے روک دیا تھااور اٹل جی کی مانند وزیر اعظم کا عہدہ ان کی گود میں پکے ہوئے پھل کی مانند آگرے گا ۔ قدرت کو اس بار وزیر اعظم مودی کو چندہ چوروں کی سرداری عطا کرنی تھی اس لیے بی جے پی کو اپنے بل پر اکثریت مل گئی اور راجناتھ سنگھ کا سپنا ٹوٹ گیا۔
مودی جی نے اس وقت اپنے سارے بزرگوں کو 75؍ سال کی عمر کےبہانے مارگ درشک منڈل (رہنما مجلس ) میں بھیج دیا ۔ ویسے اب مودی جی خود سبکدوشی کی اس عمر کو پہنچ گئے ہیں مگر جھولا اٹھا کر جانے کے بجائے بھائیو بہنو چھوڑ کر بچوں کو فرینڈر کہنا شروع کردیا ہے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد مودی جی نے دوسرا اہم ترین عہدہ یعنی وزارتِ داخلہ کا قلمدان راجناتھ سنگھ کو تھما کر اس کی آڑمیں پارٹی کی صدارت اپنے معتمدِ خاص امیت شاہ کو پکڑا دی گئی۔ بظاہر یہ اس لیے کیا گیا تاکہ راجناتھ سنگھ قومی امور پر توجہ دیں اور انتخاب جیتنے کے لیے امیت شاہ پارٹی چلائیں ۔ اس کے بعد راجناتھ کی جڑ کاٹنے کے لیے یوگی ادیتیہ ناتھ کو ایوانِ پارلیمان سے دہلی اسمبلی میں بھیج کر وزیر اعلیٰ بنایا گیا ۔ 2019کے بعد راجناتھ سے وزارت داخلہ کا قلمدان چھین کر وزیر دفاع کی حیثیت سے سرحد پر دفع کر دیا گیا اور امیت شاہ کو وزیر داخلہ بنایا گیا ۔ اس طرح حکومت سمیت پارٹی پر مودی وشاہ کا قبضہ مکمل ہوگیا ۔
آگے چل کر ایک طویل عرصے بعد جے پی نڈا کو کٹھ پتلی کے طور پر پارٹی کی صدارت سونپی گئی مگر سارے اہم فیصلے امیت شاہ کرتےرہے ۔ اب جے پی نڈا کی جگہ نیتن نبین کو لایا گیا۔ ان کا کام ملک بھر میں بی جے پی کو کامیاب کرنا ہے مگر وہ اپنے حلقۂ انتخاب میں ناکام ہوگئے اور آگے ایک مجبورِ محض بن کر مودی و شاہ کے آگے دُم ہلاتے رہیں گے ۔ وزیر اعظم یہی چاہتے ہیں لیکن نقصان یہ ہے کہ مودی و شاہ کی جوڑی تو دن رات انتخابی جوڑ توڑ میں لگی رہتی ہے اس لیے حکومت کرنے والا( یعنی عوامی فلاح و بہبود کی خاطر کام کرنے والا) کوئی ہے ہی نہیں۔ اسی لیےدنیا بھر میں ہندوستان کی ساکھ ملیا میٹ ہوچکی ہے۔ انتخاب جیتنے کے لیے الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ذریعہ چوری کروانی پڑتی ہے ۔ اس کے باوجود 400 کا خواب دیکھنے والے 240 پر سمٹ جاتے ہیں اور اب مخالفین کو توڑ حمایت بڑھانے کے حربے آزمائے جارہے ہیں ۔ بانکی پور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے دتیا اسمبلی حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب تھا جہاں نو منتخب وزیر اعلیٰ موہن یادو کے ساتھ نئے صوبائی بی جے پی صوبائی صدر ہیمنت کھنڈیلوال کو بھی اپنی قابلیت ثابت کرنی تھی مگر وہ دونوں اوندھے منہ گر گئے ۔
کانگریس کے گھنشیام سنگھ نے بی جے پی کے آشوتوش تیواری کو 6016 ووٹوں سے شکست دے دی۔ کانگریس کی دتیا میں یہ دوسری جیت ہے۔ کانگریس نے 2023 میں بھی دتیا سے جیت درج کی تھی اور یہاں سے راجندر بھارتی نے ریاست میں شیواراج سنگھ چوہان کے بعد وزیر اعلیٰ بننے کا خواب دیکھنے والے وزیر داخلہ نروتم مشرا کو دھول چٹا دی تھی۔ اس کے بعد ایک ایف ڈی کے معمولی الزام میں کوئی بدعنوانی نہیں بلکہ تکنیکی معاملے میں بھارتی کو نااہل قرار دلواکر عدالت کے توسط سے ان کی رکنیت چھین لی حالانکہ وہ اب بھی ضمانت پر باہر ہیں۔ نروتم مشرا کی سازش کا مقصد اسمبلی میں پہنچنا تھا مگر وزیر اعلیٰ نے اپنے اس حریف کو ٹکٹ سے محروم کروا دیا۔ اس کا انتقام مشرا نے اپنی ہی پارٹی کے امیدوار کو ہروا کر لیا۔ یہ سنگھ کی تربیت اور نظم و ضبط کا کا منہ بولتا ثبوت۔ کانگریس نے اس بار دتیا راج گھرانے کے سربراہ گھنشیام سنگھ کو میدان میں اتارا۔ ایک زمینی رہنما کے طور پر پہچانے جانے والے گھنشیام سنگھ بہترین مقرر ہیں اور برسوں کی محنت سے انہوں نے اپنی سیاسی زمین تیار کی ہے۔وہ دتیا سے 2 بار اور سیوڑھا سے ایک بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ 2008 میں وہ بی جے پی کے امیدوار نروتم مشرا سے ہار گئے۔ اس بار نروتم مشرا کی بلواسطہ مدد سے وہ جیت گئے لیکن کانگریس نے اسے بی جے پی کی پالیسیوں اور حکومت کی کارکردگی پر عوامی ردعمل قرار دیا۔
مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے کہا کہ یہ نتیجہ بدعنوانی اور سرکاری مشینری کے مبینہ غلط استعمال کے خلاف عوام کے فیصلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ پچھلے دنوں وزیر اعلیٰ موہن یادو کے خلاف بدعنوانی کے بڑے الزامات لگے مگر اس زمین گھوٹالے کا بی جے پی پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ پٹواری کے مطابق اس جیت میں کانگریس مستقبل کی سیاست میں ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھر نے کاپیغام ہے۔جیتو پٹواری نے کہا کہ کانگریس کی جیت کا مارجن زیادہ ہوسکتا تھا، لیکن حکمراں پارٹی کے سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال اور بڑے پیمانے پر انتخابی مہم کے باوجود عوام نے کانگریس کا ساتھ دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ راہل گاندھی کی قیادت اور ملک کے نوجوانوں اور عام لوگوں کا کانگریس پر اعتماد کے بڑھنے کی دلیل ہے اور 2028 کے اسمبلی انتخابات میں اس کے حکومت سازی کے روشن امکانات ہیں۔
پچھلے ریاستی انتخاب سے قبل جب کانگریسی رہنما کمل ناتھ سے سماجوادی پارٹی کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے رعونت سے کہا تھا کون اکھلیش وکھلیش ؟ اس کی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑی مگر جیتو پٹواری نے اس کامیابی کو متحدہ حزب اختلاف کی جیت قرار دیا اور اکھلیش یادو سمیت سماجوادی پارٹی کو خاص طور اس کا کریڈٹ دیا ۔ یہ اہم پہلو ہے کہ حزب اختلاف تو متحد ہے مگر بی جے پی کے اندر مہابھارت چھڑی ہوئی ہے۔ نروتم مشرا کا ٹکٹ کاٹا گیا تو ان کے حامیوں نے ہنگامہ مچا دیا اور سڑک جام کردی اس طرح بی جے پی کی آپسی لڑائی چوراہے پر آگئی۔ اس کے بعد کسی طرح ڈرا دھمکا کر نروتم مشرا کو راہ پر لایا گیا تو انہوں نے اپنی تقریر کے آخر میں مگر مچھ کے آنسو بہا کر اپنے حامیوں کو اپنی ناراضی کا اشارہ دے دیا۔ بی جے پی نے اس بار مدھیہ پردیش میں موہن یادو کو وزیر اعلیٰ بناکر گوالوں کو رجھانے کی جو کوشش کی تھی اس کو ناکام کرنے کے لیے آزاد سماج پارٹی کے دامودر یادو کو کھڑا کرکے 22؍ہزار سے زیادہ ووٹ ان کو دلوادیا۔ اس کے نصف بھی بی جے پی کو مل جاتے تو کمل کھل سکتا تھا لیکن اگر خود اپنے ہی پیٹھ میں چھرا گھونپنے لگیں تو اس کا نتیجہ شکست فاش کے سوا کیا ہوسکتا ہے اور یہی ہوا۔ بی جے پی اپنی تباہی کے لیے اب دشمن کی ضرورت سے بے نیاز ہو گئی ہے۔