ہندوستانی معاشرے میں قوامیت اور نکاح میں دیری کا تعلق
ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ﴾
ترجمہ
"مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر بعض حیثیتوں سے فضیلت دی ہے، اور اس وجہ سے کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔”
اسلام میں "قوامیت” ایک ایسا منصب ہے جسے عموماً صرف اختیار اور حکمرانی کے معنی میں لیا جاتا ہے، جبکہ قرآن کریم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قوامیت دراصل ایک بہت بڑی ذمہ داری، امانت اور جواب دہی کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر اس لیے قوام نہیں بنایا کہ وہ اس پر اپنی مرضی مسلط کرے، بلکہ اس لیے کہ وہ خاندان کی مالی کفالت کرے، اس کی حفاظت کرے، اس کے حقوق ادا کرے اور عدل، محبت اور حکمت کے ساتھ گھر کی قیادت کرے۔ دوسرے الفاظ میں اسلام میں قوامیت کا مطلب اختیار سے زیادہ خدمت، ذمہ داری اور قربانی ہے۔
قرآن کریم نے قوامیت کی دو بنیادی بنیادیں بیان کی ہیں۔ پہلی یہ کہ مرد اپنے مال سے اپنی بیوی اور بچوں پر خرچ کرے، ان کے لیے رہائش، خوراک، لباس، علاج اور دیگر ضروریات کا انتظام کرے۔ دوسری یہ کہ وہ خاندان کی قیادت انصاف، خیر خواہی اور حسنِ اخلاق کے ساتھ کرے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام میں قیادت حقوق لینے کا نہیں بلکہ حقوق ادا کرنے کا نام ہے۔
بدقسمتی سے آج مسلم معاشرے میں قوامیت کا تصور زیادہ تر صرف شوہر کے اختیارات تک محدود ہو گیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ وابستہ ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے کے بیشتر نوجوان اکیس سے چوبیس سال کی عمر کے درمیان بھی صحیح معنوں میں قوام نہیں بن پاتے۔ ان میں سے بڑی تعداد ابھی تعلیم حاصل کر رہی ہوتی ہے، معاشی طور پر اپنے والدین پر انحصار کرتی ہے، اور دورانِ تعلیم کوئی ایسا کام بھی نہیں کرتی جس سے اپنی ضروریات پوری کر سکے یا اپنے والدین کے اخراجات میں کچھ حصہ ڈال سکے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شادی کے وقت بھی وہ مالی طور پر خودمختار نہیں ہوتے۔
ہمارے معاشرے میں عام طور پر والدین ہی بیٹے کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، شادی کے تمام اخراجات برداشت کرتے ہیں، گھر کا انتظام کرتے ہیں، اور اکثر شادی کے بعد بھی بیٹے، بہو اور بعض اوقات پوتے پوتیوں تک کے اخراجات اٹھاتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود معاشرے میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ بیٹا "قوام” بھی ہے اور بہو پر یہ ذمہ داری بھی ڈال دی جاتی ہے کہ وہ پورے مشترکہ خاندان کی خدمت کرے۔ گویا قوامیت کی ذمہ داری والدین ادا کریں اور قوامیت کے اختیارات بیٹے کو مل جائیں۔ یہ صورت حال قرآن کے پیش کردہ تصورِ قوامیت سے مطابقت نہیں رکھتی۔
اس کے برعکس اگر ہم مغربی ممالک کے معاشرتی نظام کو دیکھیں تو وہاں عام طور پر اٹھارہ سال کی عمر کے بعد نوجوان اپنی ذمہ داری خود سنبھالنا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے نوجوان اپنی تعلیم کا خرچ خود اٹھاتے ہیں، جز وقتی یا کل وقتی ملازمت کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں اور جلد معاشی طور پر خود کفیل بن جاتے ہیں۔ اسی طرح ترکی جیسے کئی مسلم اکثریتی ممالک میں بھی نوجوانوں میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ تعلیم کے ساتھ کام کرتے ہیں، اپنی ذمہ داریاں خود اٹھاتے ہیں اور معاشی خودمختاری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ ہر خاندان اور ہر ملک کی صورت حال یکساں نہیں ہوتی، لیکن مجموعی طور پر خود کفالت کو اہمیت دی جاتی ہے۔
اس مسلسل محنت اور ذمہ داری کے نتیجے میں بہت سے نوجوان اکیس سے چوبیس سال کی عمر تک اپنی زندگی خود سنبھالنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی پسند سے شادی کرتے ہیں، اپنی آمدنی سے اپنا گھر چلاتے ہیں، اپنی بیوی اور بچوں کی کفالت کرتے ہیں، اور اسی کے ساتھ اپنی استطاعت کے مطابق اپنے والدین کی خدمت بھی کرتے ہیں۔ ان کی خدمت والدین پر بوجھ بن کر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار بیٹے کی حیثیت سے ہوتی ہے۔ اکثر وہ اپنی علیحدہ رہائش کا انتظام بھی کر لیتے ہیں، جس سے نئی شادی شدہ زندگی کو سکون اور استحکام ملتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں وہ ساس بہو کے شدید تنازعات کم دیکھنے کو ملتے ہیں جو ہمارے معاشرے میں ڈراموں اور روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ وہاں میاں بیوی کو وہ سکون میسر آتا ہے جو نکاح کا اصل مقصد ہے۔ قرآن کریم نے میاں بیوی کے تعلق کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے تمہارے درمیان مودت اور رحمت پیدا کی اور تمہیں ایک دوسرے کے لیے سکون بنایا۔ جب ہر شخص اپنی ذمہ داری خود اٹھاتا ہے تو تعلقات میں کشیدگی کم اور محبت زیادہ ہوتی ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کسی ملک کی ترقی کا سبب صرف خاندانی نظام یا علیحدہ رہائش ہے، کیونکہ ترقی میں تعلیم، قانون، معیشت، نظم و ضبط، تحقیق، دیانت داری اور دیگر بہت سے عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ خود کفالت، ذمہ داری کا احساس اور ہر فرد کا اپنے فرائض ادا کرنا کسی بھی معاشرے کے استحکام اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اسلام نے بھی یہی تعلیم دی ہے کہ مرد پہلے خود ذمہ دار بنے، پھر قوام بنے۔ اگر شوہر اپنی بیوی کا نفقہ ادا نہیں کر رہا، اس کے لیے رہائش کا انتظام نہیں کر سکتا، اپنی کمائی سے گھر نہیں چلا رہا اور مکمل طور پر والدین پر انحصار کر رہا ہے، تو اسے سب سے پہلے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔ قرآن نے قوامیت کو واضح طور پر "بِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ” یعنی اپنے مال سے خرچ کرنے کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔ اس لیے اگر مالی کفالت عملاً والدین کر رہے ہیں تو شوہر کو اپنے فرائض ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، نہ کہ صرف قوامیت کے نام پر حقوق کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
اسی طرح اسلام نے بیوی پر یہ فرض نہیں کیا کہ وہ شوہر کے والدین، بہن بھائیوں یا پورے مشترکہ خاندان کی خدمت کرے۔ اگر وہ محبت، احترام اور اپنی خوشی سے ایسا کرتی ہے تو یہ بہت بڑی نیکی ہے، لیکن اسے شرعی فریضہ قرار دینا درست نہیں۔ والدین اگر اپنے بیٹے کی مدد کر رہے ہیں تو یہ ان کا احسان ہے، لیکن اس احسان کی بنیاد پر بہو سے وہ ذمہ داریاں طلب نہیں کی جا سکتیں جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد نہیں کیں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اسلام میں قوامیت طاقت یا برتری کا نام نہیں بلکہ کفالت، ذمہ داری، عدل اور خدمت کا نام ہے۔ ایک صحت مند اسلامی معاشرہ اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب نوجوان شادی سے پہلے خود کفیل بننے کی کوشش کریں، اپنے والدین کا سہارا بنیں، پھر اپنی بیوی اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری سنبھالیں، اور خاندان کا ہر فرد اپنے شرعی حقوق و فرائض کو سمجھے۔ جب ہم قرآن کے اس متوازن تصور کو اختیار کریں گے تو ان شاء اللہ ہمارے گھروں میں بھی وہی سکون، محبت اور رحمت پیدا ہوگی جو نکاح کا اصل مقصد ہے، اور یہی مضبوط خاندان ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔ اُنہوں نے اسلامی طرز معاشرت اپنائی اُنکے معاشرے میں تبدیلی دیکھنے ملتی ہے۔ ہمارے ہاں لڑکے جلدی قوام نہیں بنتے اپنی آمدنی نہیں معاشی استحکام نہیں لہٰذا آپ دیکھیں گے 30 سے 35 سال کے لاکھوں نوجوان ہیں اُنکا نکاح نہیں ہوا ان میں معاشی استحکام اور خود مختاری نہیں ہوتی جب خود کما نہیں سکتے تو بیوی کو کہاں سے کھلائیں گے لہٰذا معاشرے میں نکاح میں دیری ہو رہی ہے پھر وہ جہیز کے چور دروازے سے آمدنی چاہتے ہیں پھر وہ شاندار شادی چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں سارا خرچ لڑکی کا باپ کرے وہ چاہتے ہیں سیکڑوں افراد کو بارات میں لے جائیں بن بلائے مہمان بن کر اس پر بس نہیں چلتا تو ایسی لڑکی سے شادی کے خواہش مند ہیں جسکا باپ امیر آدمی ہے آگے مدد کر سکتا ہے جہیز دے سکتا ہے اور اس پر بس نہیں ہوا تو ایسی لڑکی سے شادی کے خواہش مند ہیں جو اچھا جوب اچھی نوکری کرتی ہو ہر مہینے اچّھا کماتی ہو اور اپنی تنخواھ خود پر خرچ نہ کرے اپنے ماں باپ بھائی بہن پر خرچ نہ کرے اور اپنے شوہر کو اپنے سسرال والوں کو ہر مہینے اپنی تنخواھ دیدے اور اسے اخلاقی زمہ داری ادا کرنے کا نام دیا گیا ہے ۔
اس طرح کی ذہنیت کی وجہ سے آج نکاح میں دیری ہو رہی ہے اور کچھ ظالم خواتین کو اسکا زمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اسی طرح کی ذہنیت سے خواتین نکاح ہی نہیں کرنا چاہتی اور آج کل وہ تعلیم حاصل کرنے اور خود کفیل بننے کو ترجیح دیتی ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ سے سبھی کو آزاد پیدا کیا ہے غلامی کسی کی فطرت میں نہیں رکھی۔ لڑکیاں سوچتی ہے اکیلے زندگی گزارنا کہیں جا کر پھنس جانے اور وہ زمہ داریاں ادا کرنا جس کی وہ شریعت سے مکلف نہیں ہیں یہی وجہ ہے نکاح میں دیری ہو رہی ہے بھارت کے بڑے شھروں میں یہ مسائل زیادہ ہیں چھوٹے شھروں میں کم۔ اسکے علاوہ اگر خدا نہ خواستہ کسی لڑکی کا طلاق ہو جائے تو نکاح انتہائی مشکل سماج عورت کو ہی مورد الزام ٹھہراتا ہے ہر حال میں ایڈجسٹ کرنے کو سمجھاتا ہے شاید اسی لیے خواتین خود کفیل ہو رہی ہیں اور نکاح سے زیادہ خود کفیل ہونے اور تعلیم پر دھیان دیتی ہیں