Breaking
بدھ. اگست 5th, 2026
ہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھنا

ہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھنا

ازقلم:محمد ریحان ورنگلی

اسلام ایک قدیم اور ابدی مذہب ہے جو نہ فانی ہے نہ جانی ہے اس مذہب کو مٹانے کی ہر زمانے میں ہر ممکن کوشش کی گئی ہے ، لیکن ایک مشہور مقولہ کے بقول کہ جسے خدار کھے اسے کون چکھے کوئی نہ اسلام کو مٹا سکا اور نہ مٹا سکتا ہے اور نہ مٹا سکے گا، یہ ایک ایسا دین ہے جس کے محبوب و مقبول ہونے کا ذکر خود اللہ نے اپنے کلام پاک میں فرمایا ان الدین عند الله الاسلام کہ دین اسلام ہی اللہ کے نزدیک قابل و مقبول، لائق و فائق ہے اس کے علاوہ کوئی مذہب اور کوئی دین نہ قابل ہے نہ مقبول ہے اور اس مذہب کی پیروی کرنے والوں کو کنتم خیر امہ کے القاب سے ملقب فرمایا اور مزید یہ کہ اس مذہب کے متبعین کو امت وسطی سے بھی نوازا ہے جو کہ افراط و تفریط سے بالا تر ہو کر اعتدال کو پسند کرتی ہے یہ ایسا دین ہے کہ جس کے نتیجے میں بے حوصلوں کو حوصلہ افزائی ، اور بے شعوروں کو شعوری، نادانوں کو دانائی، بے غیرتوں کو غیرت مندی، بے پناہوں کو جائے پناہ ملی ، اس دین کی خصوصیت یہ ہے اس کا واضع رب العالمین اور کا مرسل رحمتہ للعالمین اور اس پر منزل شدہ ھدی للعالمین ہے، اس دین نے صحابہ کو جو کہ زمانہ جاہلیت میں بے نور تھے اصحابی کالنجوم کے لقب سے نوازا، اور رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ کے لقب سے مشرف فرمایا، جب اسلام آیا تو غیروں کے ساتھ
ہمدردی ، مقروضوں کی امداد، پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک، چھوٹوں کے ساتھ شفقت، بڑوں کا ادب و احترام حق و باطل کا امتیاز ، حلال و حرام کی تمیز جیسی چیزوں سے بہرہ ور ہو گئے ، یہ دین اسلام کا ہی نتیجہ تھا کہ صحابہ پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھائے جانے کے باوجود وہ صرف اسلام کا ہی پر چم لہراتے تھے، ایمان کی خاطر تپتی ہوئی ریت میں لیٹنا پسند کیا، ایمان کی خاطر مال و وطن کو چھوڑ نا پسند کیا، ایمان کی خاطر اپنے آپ کو شہید کرنا پسند کیا ، انہوں نے اتنی صعوبتیں براشت کیں ، لیکن اس کے باوجود کبھی بھی ارتداد کے بارے میں ان کے ذہن و دماغ میں تک نہیں آیا میں دور تک کیوں جاؤ ابھی فلسطین کے حالات کو دیکھئے ہر گھر میں بچوں بڑوں کے لاشوں کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے اسرائیل خبیثوں کے دہشت و ظالمانہ روئے سے زمین پاؤں تلے کھسک جاتی ہے فلسطین اور غزہ کے لوگوں کو گھر سے بے گھر کر دیا گیا ہے کھانے کے قافے چل رہے ہیں گویا کہ شعب ابی طالب میں جو حال بنی عبد المطلب کا تھا وہی حال آج غزہ اور فلسطینی مسلمانوں کا ہے پہر بھی ارتداد کا خیال تک ان کے ذہنوں میں نہیں آرہا ہے وہ چاہتے تو مرتد ہو کر اسلام چھوڑ کر غیروں کے شعار پر زندگی گزارتے ، لیکن نہیں ایسا نہیں کیا آخر کیوں! کیا وجہ ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان کے دلوں میں خوف خدا اور حب رسول اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا ، جب آپ سالی اسلم کی وفات ہوئی تو چند لوگ مرتد ہو گئے تو حضرت ابو بکر تلوار لے کر یہ کہنے لگے کہ اینقص الدین وانا حی کہ میں زندہ رہوں اور دین میں کمی آجائے ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا، دیکھئے ! صحابہ کو خود کا تو دور دوسروں کا مرتد ہونا بھی گوارا نہ تھا مگر

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ہائے افسوس غزہ اور فلسطین کے ایسے دل سوز حالات میں مسلمان ان کے واسطے دعا کرنے کے بجائے اللہ کے سامنے اپنے بھائیوں کے واسطے گڑ گڑانے کے بجائے خوف خدا اپنے دلوں
میں پیدا کرنے کے بجائے کرکٹ دیکھنے میں مصروف ہیں ارے مسلمانوں تم کو کیا ملنے والا ہے کرکٹ دیکھنے سے انڈیا پاکستان کے ہار جیت سے تمہیں کیا ملنے والا ہے کیوں اپنی زندگی برباد کر رہے ہو جہاں دیکھو مسلمان شادی بیاہ میں فضول خرچی کر کے، ایسے دل دھلا دینے والے حالات میں بھی لا پرواہی برتے ہوئے اپنے احمق ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں، اور مسلمان اسلام کی تعلیمات کو طاق نسیاں کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں غیر مسلم اسلام کے جامع و منصوبہ بند ہونے کے باوجود اس پر طرح طرح کے اعتراضات اٹھا رہے ہیں مزید برآں کہ اسلام کی صحیحتصویر کو دھندلا کر کے قوم مسلم کی شبیہ خراب کر رہے ہیں غرضیکہ اسلام مخالفین کی داستاں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

ہائے حلقہ کئے بیٹھے ہو اک شمع کو یارو
کچھ روشنی تو باقی ہے ہر چند کہ کم ہے

اخبر ر روز اخبار میں ارتداد کے بے شمار واقعات پڑھنے کو مل رہے ہیں، ہر روز ہر صبح ہر گھنٹہ ؛گویا ہر صبح ایک عذاب ہے اخبار دیکھنا ارے سونچو تو صحیح بات ارتداد تک پہنچ کیوں رہی ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کے ذمہ دار کون ہیں؟ تو سنتے چلئے ! آج معاشرے میں مشہور ہو گیا کہ آرایس ایس کے لوگ ایک تنظیم بنا کر اس میں ہندو نو جوان لڑکوں کو اردو سکھا کر مسلمان بچیوں کو اپنے دامن فریب میں پھنسانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور ان بچیوں کو مرتد کر کے ان سے نکاح کے ایک سال بعد یا بچہ ہونے کے بعد طلاق دے رہے ہیں، اب وہ جائے تو کہاں جائے کس کے پاس جائے گویا کہ اس کا قصہ یوں ہو چکا ہے۔

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

اس کی بنیادی وجہ تعلیم سے ناواقفیت ہے اور اس کے ذمہ دار والدین ہیں کہ انہوں بچپن ہی سے آزادی نسوان کے نام پر اپنے بچیوں کو آزادی کا عادی بنایا ، اور حکومت نے عورتوں کو آزادی نسوان کے نام پر ایسا جادو چڑھایا کہ سب اس کے اسیر بے دام بن گئے ، اگر والدین بچپن ہی سے اپنے نونہالوں کی نشو و نما اور پرورش اسلامی ہدایات کے مطابق کرتے اور انہیں اسلامی تعلیمات سے بہرور کرتے اور ان کی فکری و ذہنی تربیت کرتے تو نوبت یہاں تک نہیں پہنچتی ؟ لیکن آج کل کے ماں باپ تو اپنی مصروفیات میں سرگرداں ہیں، نہ انہیں احکام ربانی کی پرواہ ہے، نہ تعلیمات نبوی کو بجالانے کی تڑپ، نہ اپنے نونہال بچوں کی فکر، ارے اب تو حد یہ ہوگئی کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر حیا باختہ فلمیں دیکھ رہے ہیں، ان کے ساتھ کرکٹ میچ دیکھتے ہیں، اور ننگے ناچ کرنے والوں کی فلمیں دیکھتے ہیں اور کہتے کہ بیٹا تو اس ہیرو کے جیسا بن جا، اور اس کر کیٹر کے جیسا بن جا، ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے کہ کیسے ہم اپنی اولادوں کی تربیت کر رہے ہیں ، ہمارے انبیاء و اولیاء نے کیسی تربیت کی تھی وہ بھی تو انسان تھے ہم بھی انسان ہے کوئی فرشتے تو نہیں تھے پہر اتنا بڑا فرق کیوں ایسی تربیت کرتے تھے کہ کوئی پیٹ سے ہی کوئی تیس دن میں کوئی ساٹھ دن میں حافظ بن جاتا، اور کس طرح انہیں دین کا پابند بنایا، کیا آپ نہیں چاہتے کہ۔۔۔۔۔ ایک بڑا مجمع ہو اور اس میں ایک امام امامت کر رہا ہوں اور تمام لوگوں کا ثواب اس اکیلے امام کو پہنچ رہا ہے۔۔۔۔۔۔ اس امام کی جگہ پر آپ کا اپنا بیٹا ہو، آپ کا دل کیوں نہیں چاہتا، آپ کی غیرت کیوں گوارا نہیں کرتی کہ میرا بچہ نبی اور صحابہ کے اسوے کو اپنائے ، اور بچیاں حضرت فاطمہ و عائشہ کی سیرت کو اپنا آئیڈیل بنائیں ، آپ نے بھی غزہ کی وہ ویڈیو دیکھی ہوگی کہ جس میں ایک بچہ اپنے چھوٹے بھائی کو جو شہید ہونے والا تھا کلمہ شہارت پڑھارہا تھا، یہ آرزو کب ہوگی اور بچیوں کو اسلام کے بنیادی عقائد سکھائیں ، کیوں آپ کا دل نہیں چاہتا پنے ہیں میں داخل کرائیں ، آج کا فلسفہ مدارس کے سلسلے میں عجیب ہو گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ مولوی بہت کھاتے ہیں جب ان سے کہا جائے کہ اپنے بچوں کو مدارس میں داخل کراؤ تو کہتے ہیں کہ مدرسے میں پڑھے گا تو بچہ کہاں سے کھائے گا، لہذا امت مسلمہ کے بھائیوں بہنوں! چھوڑ دوستی اور کاہلی کو خواب غفلت سے بیدار ہو جاؤ ، اپنے ارادوں کو پختہ کرو، کیونکہ مشیت خداوندی بھی نیتوں پر ہوتی ہے انما الاعمال بالنیات کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

عزائم جن کے پختہ ہو نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

میرے بھائیو! فلسطین اور غزہ کے جھلسا دینے والے واقعات مسلمانوں پر بمباری کے دل سوز واقعات اسلام دشمن کی سازشیں ہمیں اس بات ہی طرف آمادہ کرتے ہیں کہ معاشرے کی اصلاح کی جائے اس کے لئے سب میدانِ عمل میں کود پڑیں، چاہے وہ عالم ہو یا جاہل، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، چاہے اس میں تفقہ فی الدین ہو یا نہ ہو، تب ہی اصلاح ہوگی ۔ اصلاح کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ گھر بیٹھے بیٹھے واٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر پوسٹ شئیر کریں کہ آج اتنے لوگ مرتد ہوئی ، اس سے کچھ تبدیلی آنے والی نہیں ہے اب وقت ہے فیلڈ ورک میں اتر کر عمل کرنے کا ، اور امت کے ہر ہر فرد کی ذمہ داری ہے چاہے وہ علما ہو عوام ہو کہ منظم مکاتب قائم کریں، میرے بھائیوں ! امت پر وقت بہت برا آنے والا ہے؛ بلکہ آچکا ہے، بقول نمونہ اسلاف حضرت مولانا عبدالقوی صاحب دامت برکاتہم کے کہ تقسیم ہند کے وقت بھی مسلمانوں کے اتنے حالات نہیں تھے جتنے آج ہیں” لہذا ابھی سے جدوجہد کرو کہ ملت کے ہر ہر گھر میں اور ہر ہر فرد کو اسلامی عقائد سے واقف کرائیں، اور علما سے گزارش ہے کہ وہ دور جا چکا ہے پیاسا کنویں کے پاس آئے گا، کہ ہر فرد مدارس اور علما کے پاس آئے گا اور دینی معلومات کرے گا ، اب وقت ہے ابر بننے کا ابر ہر جگہ جا کر پانی برساتا ہے، لہذا علما بھی ہر جگہ جا کر دین کو پھیلائیں ، تب جا کر دین و ایمان کی سلامتی کا سامان بن سکتا ہے، ورنہ تو اللہ کے نبی صلی السلام کے پیشین گوئی کے مطابق کہ ” ایک دور ایسا آئے گا جس میں شام کا مسلمان صبح ہوتے ہوتے کافر ہو جائے گا اور صبح کا مسلمان شام شام ہوتے ہوتے کافر ہوجائے گا” (مفہوم) وہ دور آچکا ہے اب ذمہ داری آپ کے ہاتھ میں ہے۔

خلاصہ یہ کہ
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے