تلنگانہ میں ایس آئی آر
مرحلہ دوم۔سماعت، ریکارڈ میں تضادات اور تصدیق سے متعلق معلومات سوال و جواب کی شکل میں
ازقلم: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
تلنگانہ میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن اپنے دوسرے اور نہایت اہم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ ۱۰ اگست ۲۰۲۶ء کو اینومریشن فارم جمع کرانے کی مدت ختم ہونے کے بعد ۱۷ اگست ۲۰۲۶ء کو مسودۂ فہرستِ رائے دہندگان جاری کیا جائے گا، جس کے ساتھ ہی دعووں اور اعتراضات کی وصولی اور ان کی یکسوئی کا مرحلہ شروع ہوگا۔ اسی مرحلے میں فہرستِ رائے دہندگان کی درستی، شفافیت اور ہر اہل شہری کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کو قانون کے مطابق یقینی بنایا جاتا ہے۔گزشتہ مضمون میں ہم نے اس مرحلے کے قانونی طریقۂ کار پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔ تاہم قارئین کے سوالات سے ظاہر ہوا کہ اس سے متعلق کئی پہلو مزید وضاحت چاہتے ہیں۔ اسی لیے اس مضمون میں اہم سوالات کے جوابات سوال و جواب کی صورت میں پیش کیے جا رہے ہیں، تاکہ رائے دہندگان اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ ہوں اور سماعت، دعووں اور اعتراضات کے طریقۂ کار سے متعلق کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔
واضح رہے کہ مرحلۂ دوم کی سماعت ہر رائے دہندہ کے لیے لازمی نہیں ہوتی۔ اگر انتخابی ریکارڈ مکمل، واضح اور قابلِ اعتماد ہو تو الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر سماعت کے بغیر بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔ تاہم جہاں ریکارڈ میں کسی قسم کا تضاد، ابہام یا مزید تصدیق درکار ہو، وہاں متعلقہ رائے دہندہ کو سماعت کا موقع دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنا مؤقف اور ضروری شواہد پیش کر سکے۔ اسی طرح سماعت کا نوٹس موصول ہونا نہ کسی الزام، نااہلی یا فہرستِ رائے دہندگان سے نام کے اخراج کا اعلان ہوتا ہے، بلکہ منصفانہ اور شفاف فیصلہ سازی کے لیے قانون کے مطابق اختیار کیا جانے والا ایک لازمی انتظامی طریقۂ کار ہے۔
س۔کیا ہر رائے دہندہ کے لیے مرحلۂ دوم کی سماعت میں حاضر ہونا ضروری ہے؟
ج۔نہیں۔ ہر رائے دہندہ کے لیے مرحلۂ دوم کی سماعت میں حاضر ہونا لازمی نہیں۔ اگر فہرستِ رائے دہندگان سے متعلق ریکارڈ مکمل، واضح اور قابلِ تصدیق ہو تو الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر دستیاب معلومات کی بنیاد پر، سماعت منعقد کیے بغیر بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔ سماعت صرف ان معاملات میں ضروری ہوتی ہے جہاں ریکارڈ میں کسی قسم کا اختلاف، کمی، ابہام یا تضاد موجود ہو اور درست فیصلہ کرنے کے لیے مزید جانچ ناگزیر ہو۔
س۔سماعت کا نوٹس کن ذرائع سے پہنچایا جا سکتا ہے؟
ج۔انتخابی قواعد کے مطابق سماعت کا نوٹس مختلف ذرائع سے متعلقہ رائے دہندہ تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہ بوتھ لیول آفیسر یا کسی مجاز انتخابی افسر کے ذریعے بذاتِ خود دیا جا سکتا ہے، ڈاک کے ذریعے ارسال کیا جا سکتا ہے، اور جہاں قواعد اجازت دیں وہاں الیکٹرانک ذرائع سے بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر آخری معلوم پتے پر نوٹس چسپاں کیا جا سکتا ہے، نیز قواعد کے تحت مجاز قرار دیے گئے دیگر ذرائع بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
س۔ سماعت کے نوٹس میں کون سی معلومات درج ہوتی ہیں؟
ج۔عام طور پر سماعت کے نوٹس میں رائے دہندہ کا نام، ووٹر آئی ڈی کارڈ کانمبر، فہرستِ رائے دہندگان میں درج متعلقہ اندراج، پتہ، کارروائی یا مقدمے کا حوالہ نمبر، وضاحت طلب معاملے کی نوعیت، سماعت کی تاریخ، وقت اور مقام، نیز مطلوبہ دستاویزات کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ رائے دہندہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نوٹس کا بغور مطالعہ کرے اور مقررہ وقت پر تمام مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ حاضر ہو۔
س۔ مرحلۂ دوم کا نوٹس کن وجوہ سے جاری کیا جا سکتا ہے؟
ج۔ مرحلۂ دوم کا نوٹس متعدد وجوہ کی بنا پر جاری کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر کسی شخص نے فہرستِ رائے دہندگان میں نام کے اندراج، معلومات کی اصلاح یا تبدیلی کے لیے درخواست دی ہو، کسی دوسرے شخص نے اس کے اندراج پر اعتراض کیا ہو، بوتھ لیول آفیسر نے موقع پر جانچ کے دوران مزید تصدیق کی ضرورت محسوس کی ہو، کمپیوٹرائزڈ جانچ میں کسی غیر معمولی فرق یا تضاد کی نشاندہی ہوئی ہو، یا سابقہ اور موجودہ انتخابی ریکارڈ میں اختلاف پایا گیا ہو، تو الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر متعلقہ رائے دہندہ کو سماعت کا نوٹس جاری کر سکتا ہے۔
اس نوٹس کا مقصد کسی شخص کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں، بلکہ اسے اپنی وضاحت پیش کرنے اور ضروری دستاویزات فراہم کرنے کا منصفانہ اور مناسب موقع مہیا کرنا ہوتا ہے۔
س۔کیا سماعت کا نوٹس موصول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ میرا نام فہرستِ رائے دہندگان سے خارج کر دیا جائے گا؟
ج۔ہرگز نہیں۔ سماعت کا نوٹس صرف اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کو متعلقہ معاملے میں مزید تصدیق درکار ہے۔ یہ نہ کسی غلطی کا حتمی ثبوت ہوتا ہے، نہ نااہلی کا اعلان، اور نہ ہی فہرستِ رائے دہندگان سے نام اخراج کا فیصلہ۔حتمی فیصلہ رائے دہندہ کی وضاحت، پیش کردہ دستاویزات، دستیاب شواہد اور متعلقہ ریکارڈ کا مکمل جائزہ لینے کے بعد، قانون اور انتخابی قواعد کے مطابق کیا جاتا ہے۔
س۔کن معاملات میں مرحلۂ دوم کی سماعت منعقد کی جا سکتی ہے؟
ج۔مرحلۂ دوم کی سماعت عموماً ان معاملات میں منعقد کی جاتی ہے جہاں فارم ۶ کے ذریعے پہلی مرتبہ فہرستِ رائے دہندگان میں نام کے اندراج کی درخواست، فارم ۷ کے ذریعے کسی اندراج پر اعتراض یا نام کے اخراج کی درخواست، یا فارم ۸ کے ذریعے معلومات میں اصلاح یا تبدیلی کی درخواست موصول ہوئی ہو اور اس میں مزید تصدیق ضروری ہو۔اسی طرح اگر بوتھ لیول آفیسر کی رپورٹ، کمپیوٹرائزڈ جانچ یا سابقہ انتخابی ریکارڈ کے تقابلی جائزے میں کسی اختلاف یا تضاد کی نشاندہی ہو تو بھی سماعت کی جا سکتی ہے۔ تاہم ہر معاملے میں سماعت اسی وقت منعقد کی جاتی ہے جب الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر یہ محسوس کرے کہ مزید وضاحت کے بغیر درست اور منصفانہ فیصلہ ممکن نہیں۔
س۔سماعت کے دوران کیا ہوتا ہے؟
ج۔سماعت ایک انتظامی کارروائی ہے، عدالتی کارروائی نہیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر دستیاب ریکارڈ اور شواہد کی روشنی میں درست حقائق تک پہنچ سکے۔سماعت کے دوران رائے دہندہ کی شناخت اور دیگر متعلقہ معلومات کی تصدیق کی جاتی ہے، ریکارڈ میں موجود اختلاف یا ابہام کی وضاحت طلب کی جاتی ہے، رائے دہندہ کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا جاتا ہے، اور پیش کردہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو مزید معلومات یا اضافی دستاویزات بھی طلب کی جا سکتی ہیں تاکہ قانون کے مطابق درست، شفاف اور منصفانہ فیصلہ کیا جا سکے۔
س۔ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر فیصلہ کرتے وقت کن امور کو پیشِ نظر رکھتا ہے؟
ج۔ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کسی ایک دستاویز یا ایک ہی ذریعے پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ تمام متعلقہ شواہد اور دستیاب معلومات کا مجموعی اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے رائے دہندہ کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات، سابقہ فہرستِ رائے دہندگان، بوتھ لیول آفیسر کی رپورٹ، موقع پر کی گئی جانچ، خاندانی ریکارڈ، رائے دہندہ کی وضاحت اور دیگر متعلقہ شواہد کو یکجا مدنظر رکھتے ہوئے قانون اور انتخابی قواعد کے مطابق فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔
س۔سماعت کے بعد کون سے فیصلے کیے جا سکتے ہیں؟
ج۔تمام حقائق، شواہد اور متعلقہ ریکارڈ کا بغور جائزہ لینے کے بعد الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر قانون کے مطابق مناسب حکم صادر کرتا ہے۔ حالات کے لحاظ سے رائے دہندہ کا نام فہرستِ رائے دہندگان میں برقرار رکھا جا سکتا ہے، معلومات میں ضروری اصلاح کی جا سکتی ہے، مزید تصدیق کی ہدایت دی جا سکتی ہے یا قواعد کے مطابق کوئی اور مناسب فیصلہ صادر کیا جا سکتا ہے۔ ہر فیصلہ دستیاب شواہد، قانونی تقاضوں اور انتخابی قواعد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
س۔ اگر میں سماعت میں حاضر نہ ہو سکوں تو کیا ہوگا؟
ج۔اگر کسی رائے دہندہ کو باقاعدہ طور پر سماعت کا نوٹس موصول ہوا ہو، لیکن وہ مقررہ تاریخ پر کسی معقول وجہ سے حاضر نہ ہو سکے، تو صرف غیر حاضری کی بنیاد پر اس کا نام فہرستِ رائے دہندگان سے خود بخود خارج نہیں کیا جا سکتا۔ایسی صورت میں الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر دستیاب ریکارڈ، پہلے سے جمع شدہ دستاویزات، بوتھ لیول آفیسر کی رپورٹ، موقع پر کی گئی جانچ اور دیگر قابلِ قبول شواہد کی روشنی میں فیصلہ کر سکتا ہے۔ تاہم اگر بیماری، سفر یا کسی ناگزیر مجبوری کے باعث حاضری ممکن نہ ہو تو رائے دہندہ مناسب وضاحت اور اس کے مؤید ثبوت کے ساتھ درخواست پیش کر سکتا ہے، جس پر متعلقہ قواعد کے مطابق غور کیا جا سکتا ہے۔
س۔ اگر میرے پاس مطلوبہ دستاویزات نہ ہوں تو کیا میرا نام لازماً خارج کر دیا جائے گا؟
ج۔ہرگز نہیں۔ محض اس بنا پر کہ کسی رائے دہندہ کے پاس تمام مطلوبہ دستاویزات فوری طور پر موجود نہیں، اس کا نام فہرستِ رائے دہندگان سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر ہر معاملے کا فیصلہ دستیاب شواہد، انتخابی ریکارڈ، بوتھ لیول آفیسر کی رپورٹ اور رائے دہندہ کی وضاحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتا ہے۔ جہاں قواعد اجازت دیتے ہوں، وہاں اضافی دستاویزات پیش کرنے کے لیے مناسب مہلت بھی دی جا سکتی ہے۔
س۔ اگر میرے ریکارڈ میں کوئی تضاد ہو تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟
ج۔اگر آپ کے ریکارڈ میں کسی قسم کا اختلاف یا تضاد موجود ہو تو آپ کو چاہیے کہ سماعت کے نوٹس کا بغور مطالعہ کریں، مقررہ تاریخ، وقت اور مقام پر حاضر ہوں، اصل دستاویزات کے ساتھ ان کی خود تصدیق شدہ نقول بھی ہمراہ لائیں، ریکارڈ میں موجود اختلاف کی واضح اور مدلل وضاحت پیش کریں، اور ضرورت کے مطابق اضافی شواہد بھی فراہم کریں۔بروقت تعاون اور مکمل معلومات کی فراہمی سے تصدیقی عمل زیادہ مؤثر، آسان اور شفاف انداز میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔
س۔ سماعت کے دوران رائے دہندہ کو کون سے حقوق حاصل ہوتے ہیں؟
ج۔قانون کے مطابق ہر رائے دہندہ کو منصفانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ کارروائی کا حق حاصل ہے۔ اسے مناسب طریقے سے سماعت کا نوٹس موصول ہونا چاہیے، یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ اس کے ریکارڈ کے کس پہلو کی تصدیق مطلوب ہے، اور اسے اپنی وضاحت پیش کرنے، متعلقہ دستاویزات جمع کرانے اور ضرورت پڑنے پر مناسب مہلت طلب کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔اسی طرح ہر رائے دہندہ کو غیر جانب دارانہ سماعت، وجوہات پر مبنی فیصلہ حاصل کرنے، اور قانون کے مطابق دستیاب اپیل یا دیگر قانونی چارہ جوئی سے استفادہ کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔
س۔ کیا کسی رائے دہندہ کا نام بغیر سماعت کے فہرستِ رائے دہندگان سے خارج کیا جا سکتا ہے؟
ج۔جہاں قانون کے مطابق سماعت ضروری ہو، وہاں متعلقہ رائے دہندہ کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب اور منصفانہ موقع فراہم کیے بغیر اس کے خلاف کوئی منفی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر پر لازم ہے کہ وہ عوامی نمائندگی ایکٹ، ۱۹۵۰، رائے دہندگان کے اندراج کے قواعد، ۱۹۶۰، الیکشن کمیشن کی جاری کردہ ہدایات اور قدرتی انصاف کے مسلمہ اصولوں کی مکمل پابندی کرتے ہوئے ہر معاملے کا فیصلہ قانون کے مطابق کرے۔
س۔ سماعت کا نوٹس کیا ہوتا ہے؟
ج۔جب الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کو کسی رائے دہندہ کے ریکارڈ کے کسی پہلو کے بارے میں مزید تصدیق ضروری محسوس ہو تو وہ سماعت کا نوٹس جاری کرتا ہے۔اس نوٹس کے ذریعے متعلقہ رائے دہندہ کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اس کے ریکارڈ کے کس معاملے میں وضاحت مطلوب ہے، نیز اسے مقررہ تاریخ، وقت اور مقام پر حاضر ہو کر اپنا مؤقف پیش کرنے اور ضروری دستاویزات جمع کرانے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔یہ نوٹس کسی الزام، بے ضابطگی یا حتمی فیصلے کی علامت نہیں، بلکہ منصفانہ، شفاف اور قانونی تصدیقی عمل کا ایک لازمی مرحلہ ہے۔
س۔ سماعت کا نوٹس کیوں جاری کیا جاتا ہے؟
ج۔سماعت کا نوٹس اس غرض سے جاری کیا جاتا ہے کہ متعلقہ رائے دہندہ کو معاملے کی نوعیت سے پوری طرح آگاہ کیا جائے، اسے اپنی وضاحت پیش کرنے اور مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کا مناسب موقع دیا جائے، ریکارڈ میں موجود کسی ممکنہ غلطی، اختلاف یا تضاد کی جانچ کی جا سکے، اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق درست، شفاف اور منصفانہ فیصلہ کیا جا سکے۔
س:۔سماعت میں جاتے وقت کون سی دستاویزات ساتھ لے جانی چاہئیں؟
ج۔ مطلوبہ دستاویزات کا انحصار اس معاملے کی نوعیت پر ہوتا ہے جس کی تصدیق مطلوب ہو۔ تاہم عموماً شناخت، عمر یا تاریخِ پیدائش، رہائش اور حسبِ ضرورت خاندانی تعلق سے متعلق دستاویزات ساتھ لے جانا مفید ہوتا ہے۔ جہاں ممکن ہو، اصل دستاویزات کے ساتھ ان کی خود تصدیق شدہ نقول بھی ہمراہ رکھنی چاہئیں تاکہ جانچ کا عمل آسانی اور سرعت کے ساتھ مکمل ہو سکے۔
س۔فارم ۶ کیا ہے، اور اس سے متعلق سماعت کب ہو سکتی ہے؟
ج۔ فارم ۶ فہرستِ رائے دہندگان میں نام کے اندراج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ عموماً ان افراد کے لیے مخصوص ہے جو پہلی مرتبہ رائے دہندہ بن رہے ہوں، کسی وجہ سے حذف شدہ نام کی دوبارہ شمولیت چاہتے ہوں، کسی دوسرے انتخابی حلقے سے منتقل ہو کر آئے ہوں، یا جن کا نام ابتدائی فہرستِ رائے دہندگان میں شامل نہ ہو سکا ہو۔اگر درخواست گزار کی شہریت، عمر، رہائش یا دیگر بنیادی معلومات کی مزید تصدیق ضروری سمجھی جائے تو الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر اسے سماعت کے لیے طلب کر سکتا ہے۔
س: فارم ۷ سے متعلق سماعت کب ہوتی ہے؟
ج۔ فارم ۷ فہرستِ رائے دہندگان میں درج کسی اندراج پر اعتراض کرنے یا کسی نام کے اخراج کی درخواست دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ متعلقہ شخص کا انتقال ہو چکا ہے، وہ مستقل طور پر کسی دوسرے مقام پر منتقل ہو گیا ہے، اس کا نام ایک سے زیادہ مقامات پر درج ہے، یا وہ قانونی طور پر رائے دہندگی کا اہل نہیں رہا، تو الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر متعلقہ رائے دہندہ کو سماعت کا نوٹس جاری کر کے اس کا مؤقف معلوم کر سکتا ہے۔چونکہ فہرستِ رائے دہندگان سے کسی شخص کا نام خارج کرنا ایک اہم قانونی کارروائی ہے، اس لیے متعلقہ رائے دہندہ کو اپنی وضاحت اور شواہد پیش کرنے کا مکمل، منصفانہ اور مؤثر موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
س۔فارم ۸ کیا ہے، اور کیا ہر درخواست میں سماعت ضروری ہوتی ہے؟
ج۔ فارم ۸ فہرستِ رائے دہندگان میں درج معلومات کی اصلاح یا تبدیلی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے نام، عمر، تاریخِ پیدائش، جنس، تصویر، شناختی معلومات یا اسی انتخابی حلقے کے اندر رہائشی پتے میں تبدیلی کی درخواست دی جا سکتی ہے۔اگر فراہم کردہ معلومات اور دستاویزات مکمل، واضح اور قابلِ تصدیق ہوں تو درخواست سماعت کے بغیر بھی منظور کی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر ریکارڈ میں کسی قسم کا اختلاف، تضاد یا ابہام موجود ہو تو مزید تصدیق کی غرض سے درخواست گزار کو سماعت کے لیے طلب کیا جا سکتا ہے۔
(تضاد) سے کیا مراد ہے؟ANAMOLYس۔
ج۔ تضاد سے مراد رائے دہندہ کے ریکارڈ میں ایسا غیر معمولی فرق، بے قاعدگی یا عدمِ مطابقت ہے جس کی مزید جانچ ضروری سمجھی جائے۔یہ صورتِ حال مختلف وجوہ سے پیدا ہو سکتی ہے، مثلاً ڈیٹا کے اندراج میں غلطی، ایک انتخابی حلقے سے دوسرے حلقے میں منتقلی، شادی کے بعد نام یا خاندانی معلومات میں تبدیلی، عمر یا جنس کے اندراج میں غلطی، والد، والدہ یا شریکِ حیات کے نام میں اختلاف، ایک ہی شخص کا ایک سے زیادہ مرتبہ اندراج، یا سابقہ اور موجودہ ریکارڈ کو باہم مربوط کرنے میں دشواری۔صرف کسی تضاد کی موجودگی سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ متعلقہ رائے دہندہ نے کوئی بے ضابطگی کی ہے یا وہ فہرستِ رائے دہندگان میں شامل رہنے کا اہل نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر مزید جانچ اور تصدیق کے بعد درست معلومات کا اندراج یقینی بنانا چاہتا ہے۔
س ۔تلنگانہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے دوران انتخابی حکام نے کتنی اقسام کے تضادات کی نشاندہی کی، اور وہ کیا ہیں؟
ج۔ تلنگانہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے دوران انتخابی حکام نے کمپیوٹرائزڈ جانچ کے ذریعے رائے دہندگان کے ریکارڈ میں گیارہ اقسام کے منطقی تضادات یا غیر معمولی صورتِ حال کی نشاندہی کی۔ ان تضادات کا مقصد صرف ایسے اندراجات کی نشان دہی کرنا ہے جن میں مزید تصدیق ضروری سمجھی گئی۔ یہ تمام معاملات ابتدائی جانچ کے اشاریے ہیں، نہ کہ کسی بے ضابطگی یا نااہلی کا حتمی ثبوت۔یہ گیارہ اقسام درج ذیل ہیں
۱۔ خاندان کے دو بچوں کی تاریخِ پیدائش کے درمیان نو ماہ سے کم وقفہ ہونا۔
۲۔ والد یا والدہ اور اولاد کی عمر میں پندرہ سال سے کم فرق ہونا۔
۳۔ والد یا والدہ اور اولاد کی عمر میں پچاس سال سے زیادہ فرق ہونا۔
۴۔ دادا یا نانا اور پوتے یا نواسے کی عمر میں چالیس سال سے کم فرق ہونا۔
۵۔موجودہ فہرستِ رائے دہندگان اور سابقہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے ریکارڈ میں والد یا والدہ کے نام میں اختلاف پایا جانا۔
۶۔ موجودہ اور سابقہ ریکارڈ میں خاندانی تعلق کی نوعیت، مثلاً والد یا والدہ، مختلف درج ہونا۔
۷۔ موجودہ فہرستِ رائے دہندگان میں رشتہ والد کے طور پر درج ہونا، جبکہ سابقہ ریکارڈ میں شوہرکے طور پر درج ہو، یا اس کے برعکس۔
۸۔موجودہ اور سابقہ ریکارڈ میں متعلقہ رائے دہندہ کے والد کے نام میں اختلاف ہونا۔
۹۔موجودہ اور سابقہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے درمیان رائے دہندہ کی عمر میں غیر منطقی یا غیر معمولی فرق پایا جانا۔
۱۰۔ تصدیق کے لیے کوئی معاون دستاویز پیش نہ کی جانا
۱۱۔ تصدیق کے لیے صرف آدھار کارڈ پیش کیا جانا
یہ تمام معاملات صرف مزید تصدیق کی غرض سے نشان زد کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک تضاد کی موجودگی سے نہ تو رائے دہندہ کی اہلیت متاثر ہوتی ہے، نہ اس کا نام فہرستِ رائے دہندگان سے خود بخود خارج کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی اسے کسی بے ضابطگی کا ثبوت تصور کیا جاتا ہے۔ہر معاملے کا فیصلہ متعلقہ دستاویزات، دستیاب ریکارڈ، رائے دہندہ کی وضاحت اور دیگر قابلِ قبول شواہد کا جامع جائزہ لینے کے بعد، قانون اور انتخابی قواعد کے مطابق کیا جاتا ہے۔
(جاری ہے)