وزیر داخلہ امیت شاہ کے ایوان پارلیمان سے بزدلانہ فرار پر وہی ہندوستا ن کے بھولے بھالے لوگ حیرت زدہ ہیں جنھیں ہندوتوا نوازوں کی تاریخ کا علم نہیں ہے۔ویسے سنگھ پریوار وقفہ وقفہ سے اپنی بزدلی کا ثبوت فراہم کرتا رہتا ہے۔ آزادی کی جنگ کے دوران وہ ڈر کے مارے انگریزوں کا باجگذار بن گیا ۔ ان کے لیے مخبری کرنے لگا بلکہ بغیر مانگے انگریزوں کو مشورہ دینے سے بھی نہیں چوکا ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے پچھلے جنم میں بھارتیہ جن سنگھ کہلاتی تھی ۔ اس کے پہلے صدر ڈاکٹر شیاما پرشاد مکرجی( جو آزادی سے قبل ہندو مہاسبھا کے رہنما تھے)نے 26 جولائی 1942 کو بنگال کے برطانوی گورنر سر جان ہربرٹ کو ایک خط لکھا تھا، جس میں انہوں نے گاندھی جی اور کانگریس کی ‘بھارت چھوڑو تحریک’ (Quit India Movement) کی مخالفت کرتے ہوئے اسے کچلنے کی تجاویز پیش کی تھیں۔ اس خط میں مکرجی نے گورنر کو لکھا کہ صوبے کا انتظام اس طرح چلایا جائے کہ کانگریس کی تمام تر کوششوں کے باوجود یہ تحریک بنگال میں جڑ نہ پکڑ سکے۔ انہوں نے تجویز دی کہ بطور وزراء، وہ عوام کو یہ باور کرائیں گے کہ جس آزادی کے لیے کانگریس نے تحریک شروع کی ہے، وہ پہلے ہی وزراء کی شکل میں عوام کے نمائندوں کو مل چکی ہے۔ اس خط میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس بحران کے وقت ہندوستانیوں کو برطانوی حکومت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
ہندوتوا نوازوں کے خوف و ہراس کا یہ ثبوت تاریخی دستاویزات میں محفوظ ہے۔ ڈاکٹر مکرجی اپنی وفادار ی کی قسم اس طرح کھائی تھی کہ ’’ایک وزیر کی حیثیت سے، میں اس بحران کی گھڑی میں آپ کو اپنے مکمل تعاون کی پیشکش کرنے اور اپنے صوبے اور ملک کی خدمت کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ یہ صوبہ اور ملک تو صرف زیب داستان کے لیے استعمال کیے جانے والے الفاظ تھے ورنہ سچائی تو یہ تھی کہ انہوں انگریزوں کو اپنی خدمات پیش کی تھیں۔ ایک سوال یہ پیدا ہوتا کہ آخر شیاماپرساد مکرجی نے ایسا کیوں کیا ؟ تو اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ اپنے عہدے کو بچانے کی خاطر موصوف نے اس غداری اور بزدلی کا مظاہرہ کیا تھا ۔ سوال یہ بھی ہے کہ آخر ہندو مہاسبھا کا یہ راندۂ درگاہ رہنما وزیر کیسے بن گیا ؟ ہوا یہ کہ 1942 میں متحدہ بنگال میں مسلم لیگ انتخاب جیت گئی ۔ ہندو مہاسبھا نے کانگریس کی مخالفت کرتے ہوئے بنگال کے اندرفضل الحق کی قیادت والی مسلم لیگ کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنالی تھی۔ مسلم لیگ نے تو شیاما پرشاد مکرجی کو اپنا وزیرِ خزانہ بنادیا تھا اور اب ان کی احسان فراموش اولا د اقتدار میں آئی تو اسے مسلمانوں میں کوئی وزیر نہیں ملتا۔ دن رات مسلمانوں کو درانداز کہنے والے امیت شاہ اپنی اس تاریخ کو بھول گئے ۔ ان کی دھمکیوں سے کوئی بنگالی تو روپوش نہیں ہوا مگر وہ خود ایوانِ پارلیمان سے غائب ہوگئے ۔
بھارت چھوڑو سے قبل ہندوستان کے اندر تحریک عدم تعاون چلی تھی اس وقت بھی ان لوگوں نے غداری کی تھی اور آج یہ مسلمانوں کو غدار کہہ رہے ہیں۔ 1920میں گاندھی جی اور مولاناابوالکلام آزاد نے غیر ملکی مال کے بائیکاٹ اورنان کوآپریشن (ترک موالات) کی تجویزپیش کی۔ جنگ آزادی کی قومی جدوجہدمیں یہ بہت کارگرہتھیار تھا۔ انگریزی حکومت اس کی جانب توجہ دینے پر مجبورہوگئی تھی کیونکہ ملکی نظام کےمفلوج ہوجانے اورعوامی بغاوت کا خطرہ لاحق ہوگیا تھا جو انگریزی حکومت کے خاتمہ کی پیشینگوئی تھی۔اس کو کامیاب بنانے کے لیے مولانا محمد علی جوہر نے علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ سے اس تحریک میں شمولیت کی اپیل کی تو یونیورسٹی سے جذباتی لگاؤ کے باوجود مسلمان طلبہ نے انگریزپروفیسروں کا بائیکاٹ کر دیا اور یونیورسٹی غیر معینہ عرصے کے لیے بند ہو گئی۔مولانا محمد علی جوہر کے ساتھی گاندھی جی بنارس کی ہندو یونیورسٹی تشریف لے گئے ۔ انہوں نے سر توڑ کوشش کی کہ کسی طرح بند ہو جائے مگر معروف قوم پرست رہنما مدن موہن مالویہ نے ان کی ایک نہ چلنے دی اور گاندھی جی کو بے نیل مرام لوٹنا پڑا۔
لاہور کے اسلامیہ کالج میں طلبہ کا ایک خاص گروپ کالج کو بند کرنے پر اڑ گیا۔ حبیبیہ ہال کے جلسہ میں پروفیسر مظفر الدین قریشی اور طالب علم عبدالباری نے اپنی دھواں دھار تقریروں سے برطانوی سامراج کو ہلا کررکھ دیا ۔ یہ تمام تقریریں انگریزی زبان میں ہوئی تھیں جن میں انگریزوں کے خلاف اور ترک موالات کے حق میں بے خوف وخطر پورا زور خطابت صرف کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ روزنامہ ’’ زمیندار‘‘ نے بھی ایک مقالہ افتتاحیہ سپرد قلم کیا جس میں اسلامیہ کالج کو غیرت دلائی گئی تھی کہ وہ بھی تحریک ترک موالات میں شامل ہو کر اتحاد ملی کا ثبوت دے۔اس کا اثر یہ ہوا کہ کالج میں مکمل طور پر ہڑتال ہو گئی ۔ جنتر منتر کے جنید ملک اور محمد عرفان انہیں شاندار روایات کے علمبردار ہیں ۔ رام پور کے اندر جوہر یونیورسٹی کے انہدام کی دھمکی کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ مدن موہن موہن مالویہ کے پیروکاروں کی آنکھوں میں مولانا محمد علی کا کھٹکنا فطری ہے۔ آزادی کے بعد اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لگائی تب بھی آر ایس ایس اپنی تنظیم تحلیل کرکے اس جبر کے آگے سربسجود ہوگئی تھی۔
ہندوتوا نوازوں کے ہاتھ میں جب اقتدار کی باگ ڈور نہیں تھی تو یہ بزدلی قابل فہم تھی ۔ اس وقت ان کے پاس نہ تو چھپن انچ کی چھاتی والا کوئی وزیر اعظم تھا اور نہ اسے چانکیہ کہلانے وزیر داخلہ کی خدمات حاصل تھیں لیکن پچھلےپارلیمانی اجلاس(فروری 2026 ) میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا ۔ ایوانِ زیریں کے صدر اوم برلا نے (جن کا کام تمام وزراء کو تحفظ کا یقین دلانا ہے) وزیر اعظم سے درخواست کی وہ ایوان میں نہ آئیں کیونکہ ان کو خطرہ ہے۔ دنیا کی تاریخ کا یہ منفرد واقعہ تھا جس میں کسی حکمراں کو اس کے اپنے دربار میں خطرے کے پیش نظر آنے سے منع کیا گیا تھا ۔ توقع تو یہ تھی کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے کہیں گے میری چھاتی چھپن انچ کی ہے۔ میں اپنی لال آنکھوں کے ساتھ ایوان میں آوں گا جو بھی میرے راستے کا روڑا بنے گا اسے بھسم کردوں گا کیونکہ ’یہ ایک اکیلا سب پر بھاری ہے‘ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ملک کے سارے دانشور حیران و پریشان تھے کہ آخر کس چیز نے وزیر اعظم نریندر مودی کو لوک سبھا میں آنے سے روک دیا ؟ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے وزیراعظم کو ایوان میں نہ آنے کی درخواست کرتے ہوئے کانگریس ارکان کی طرف سے ہنگامہ آرائی اور ناخوشگوار واقعے کا خدشہ کیوں پیش کیا اور ان کے وزیراعظم کی نشست کے قریب آ کر شدید احتجاج یا ناخوشگوار حرکت کا اندیشہ کیوں جتایا کیونکہ اس میں وزیر اعظم کو ایوان میں حاضر ہونے سے روکنے والی کوئی بات نہیں تھی۔
ایوان کے بجٹ اجلاس میں جنرل نرونے کی کتاب کا مسئلہ راہل گاندھی نے اٹھایا تو اس پر وزیر داخلہ اور وزیر دفاع نے کہہ دیا کہ وہ شائع نہیں ہوئی اس لیے یہ الزام تراشی بے بنیاد ہے۔ اگلے دن راہل گاندھی کتاب کا نسخہ لے کر ایوان پہنچ گئے ۔ اس بات کا خطرہ پیدا ہوگیا کہ وہ اسے وزیر اعظم کو دِکھا کر پوچھ سکتے تھے کہ ڈوکلام میں جنگ کے وقت ’جو ٹھیک لگے کرو‘ کا کیا مطلب ہے ؟ اس سوال سے بچنے کے لیے مودی جی نے راہِ فرار اختیار کی تھی۔ اس وقت کانگریس اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے اس خطرے کے دعوے کو غلط قرار دے کر الزام لگایا تھا کہ حکومت بحث سے بھاگ رہی ہے اور وزیراعظم خوف کی وجہ سے ایوان میں آنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔اس معاملے کو بگاڑنے کا کام بی جے پی کی حلیف جماعت ٹی ڈی پی کے رہنما دیپک ریڈی نے ٹائمز ناو پریہ الزام لگا کرکیاکہ ایوان کے خواتین ارکان کے پاس اسلحہ نہیں ہے توکیا دانت تو ہیں ۔ وہ وزیر اعظم کو کاٹ توسکتی ہیں۔ یہ سن کر گودی میڈیا کی خاتون اینکر ہکا بکا رہ گئی ۔ اس کی سمجھ کچھ نہ آیا تو اس نے پگر استفسار کیا اور ریڈی نے موقف دوہرا دیا۔
اس بات کو درست مان لیا جائے تو سوال یہ ہے کہ اس کے بعد مودی جی لوک سبھا سے فرار ہوکر راجیہ سبھا کیوں گئے؟ وہاں بھی تو خواتین ارکان تھیں ؟ ان کے کاٹ کھانے کا خوف کیوں لاحق نہیں ہوا؟ سچ تو یہ ہے کہ ایوانِ بالا میں راہل گاندھی نہیں تھے جن کے خوف سے راہِ فرار اختیار کی گئی تھی ۔ وزیر اعظم مودی ٹرمپ سے لے کر راہل گاندھی تک سب سے ڈرتے رہے ہیں اور اب طلبا اور نوجوانوں نے بھی انہیں ڈرا کر اپنا کام نکال لیا ۔ حزب اختلاف وزیر تعلیم کے بعد ان سے وزیر داخلہ کے استعفے مطالبہ کررہا ہے اور یہ دونوں استا و و شاگرد ایوان پارلیمان سے بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ میڈیا کے ذریعہ جو چھپنّ انچ کا غبارہ پھلایا گیا تھا وہ پنکچر ہوچکا ہے اور ایسے میں کوئی عبدل اس پنکچر کو بنانے کے لیے نہیں آگے نہیں آئے گا ۔ جہاں اندھ بھگتوں کو تعلق ہے انہیں نہ پنکچر کو سوراخ تو دور پہیہ ہی نظر نہیں آتا۔