جنتر منتر کے قریب احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کی وحشیانہ کارروائی نے بہت سے لوگوں کے، خصوصاً مسلمانوں کے دلوں میں پرانے دردناک زخموں کو تازہ کر دیا ہے۔ ان کے لیے یہ مناظر 15 دسمبر2019 کی رات کے واقعات کی یاد تازہ کر دیتے ہیں ، جب شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کیمپسز میں داخل ہوئی تھی۔ اس دور کی وہ تصویریں، جن میں طلبہ کو دوڑا دوڑا کر مارا پیٹا گیا اور زخمی کیا گیا، آج بھی ان کے ذہنوں میں تازہ ہیں اور انہیں مسلسل بے چین کیے ہوئے ہیں۔
گزشتہ دس برسوں میں بی جے پی حکومت کی پالیسیوں نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے کیمپسز میں خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ طلبہ کو مسلسل اختلاف رائے پر پابندیوں، تادیبی کارروائیوں، پولیس مداخلت اور حکومت پر تنقید کرنے کی صورت میں دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو وہ کیمپسز جنہیں آزاد فکر اور جمہوری مباحثے کی پرورش کرنی چاہیے تھی، وہ ایسی جگہوں میں تبدیل ہو گئے ہیں جہاں بہت سے طلبہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی آواز دبائی جا رہی ہے۔
جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب طلبہ کسی خوف یا زیادتی کے اندیشے کے بغیر سوال اٹھانے، بحث کرنے اور پرامن طریقے سے احتجاج کرنے کے لیے آزاد ہوں۔ پولیس زیادتی کے کسی بھی الزام کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے، اور یونیورسٹیوں کو تعلیم، تنقیدی فکر اور جمہوری شرکت کے لیے مخصوص جگہیں بننا چاہیے، نہ کہ خوف کی علامت۔بجائے اس کے کے تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے نوجوانوں سے پوچھو آپ لوگ ناراض کیوں ہیں؟
2014 سے قبل سبھی اداکار اور پروڈیوسر کانگریس سرکار کے خلاف زور و شور سے بولتے تھے ٹوئٹر پر لکھتے تھے اب سارے اداکار اس خوف سے خاموش ہیں کہیں ای ڈی اور سی بی آئی اُنکے خلاف کوئی کارروائی نہ کر دے بیچارے خاموش ہیں اپنی ضمیر کی آواز بلند نہیں کر سکتے ۔