ڈیجیٹل دور میں مسلم بیٹی کا وقار . حیا، کردار اور ذمّہ دارانہ اظہار کا سفر

ڈیجیٹل دور میں مسلم بیٹی کا وقار  .    حیا، کردار اور ذمّہ دارانہ اظہار کا سفر

ڈیجیٹل دور میں مسلم بیٹی کا وقار
حیا، کردار اور ذمّہ دارانہ اظہار کا سفر

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

اسلام نے عورت کو محض ایک جسم یا نمائش کی چیز نہیں، بلکہ عزّت، وقار، حیا، کردار اور عظمت کا پیکر قرار دیا ہے۔ ایک مسلمان بیٹی صرف ایک فرد نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے خاندان کی تربیت، اپنی تہذیب کی نمائندہ اور اپنی اُمّت کے اخلاقی مستقبل کی امین ہوتی ہے۔ اس کی شخصیت، کردار، گفتگو، لباس، طرزِ زندگی اور معاشرتی رویّے میں ایک پوری تہذیب کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے عورت کو ایسا مقام عطا کیا ہے جہاں اس کی اصل قدر اس کے اخلاق، علم، تقویٰ اور کردار سے متعین ہوتی ہے، نہ کہ اس کی ظاہری نمائش یا وقتی شہرت سے۔ عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا اظہارِ رائے اور ابلاغ کا ایک مؤثر اور طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ اس کے ذریعے علم و حکمت کو فروغ دیا جا سکتا ہے، دعوتِ دین کا پیغام عام کیا جا سکتا ہے، تعلیم و تربیت میں معاونت کی جا سکتی ہے اور ہنر، صلاحیت اور مثبت افکار کو دنیا تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

لیکن جب یہی ذریعہ خود نمائی، شہرت پسندی، فحاشیت، بے حیائی اور اخلاقی حدود سے تجاوز کا وسیلہ بن جائے تو یہ نہ صرف فرد کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف چند ویڈیوز، تصاویر یا ریلز کا نہیں، بلکہ اس سوچ اور ذہنیت کا ہے جس میں انسان اپنی قدر و قیمت کو دوسروں کی توجہ، لائکس، ویوز، تبصروں اور فالوورز کی تعداد سے ناپنے لگتا ہے۔ جب عزّت کا معیار کردار کے بجائے مقبولیت، اور حیا کی جگہ نمائش لے لے، تو شخصیت کی تعمیر کے بجائے اس کی تدریجی شکست و ریخت شروع ہو جاتی ہے۔ یہی وہ فکری اور اخلاقی بحران ہے جو فرد سے بڑھ کر خاندان، معاشرے اور پوری اُمّت کے اجتماعی کردار کو متاثر کرتا ہے۔

عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا پر مختصر ویڈیوز اور ریلز کا رجحان غیر معمولی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں علم، ہنر، مثبت فکر اور تعمیری پیغام کو وسیع پیمانے پر پہنچایا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ ایک ایسا رجحان بھی پروان چڑھا ہے جس میں اظہارِ صلاحیت کے بجائے خود نمائی، شہرت پسندی اور توجہ حاصل کرنے کی خواہش نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ بہت سی مسلم بیٹیاں بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر اس دوڑ کا حصّہ بنتی جا رہی ہیں، جہاں مقصد اپنی علمی، اخلاقی یا فکری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا نہیں، بلکہ اپنی شخصیت، انداز، لباس اور ظاہری کشش کو دوسروں کی نگاہوں کا مرکز بنانا بن جاتا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور نہایت اہم سوال ہمارے سامنے آتا ہے: کیا انسان کی حقیقی قدر و منزلت اس کے چہرے، لباس اور ظاہری انداز سے متعین ہوتی ہے، یا پھر اس کے علم، کردار، اخلاق، حیا اور عملی زندگی سے؟

اسلام انسان کو ظاہری صفائی اور حسن کے ساتھ باطنی پاکیزگی، اخلاقی بلندی اور کردار کی عظمت کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ خوبصورتی اللّٰہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے اور اپنی اصل میں قابلِ احترام ہے، لیکن جب یہی نعمت شہرت، تحسین اور غیر ضروری توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے، اور شخصیت کو ایک نمائش کی شے بنا کر پیش کیا جانے لگے، تو عزّتِ نفس، وقار اور حیا کے وہ اعلیٰ اقدار بتدریج متاثر ہونے لگتے ہیں جنہیں اسلام نے ایک مسلمان عورت کا حقیقی زیور قرار دیا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کو مقصدِ حیات نہ بنایا جائے بلکہ اسے خیر، علم، دعوت، اخلاق اور مثبت کردار کے فروغ کا ذریعہ بنایا جائے، تاکہ انسان کی پہچان اس کی ظاہری نمائش سے نہیں بلکہ اس کے کردار، حیا، علم اور معاشرے کے لیے اس کے مثبت کردار سے قائم ہو۔

موجودہ دور میں عالمی میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے ایک ایسی ثقافت کو فروغ دیا ہے جس میں جسمانی نمائش کو آزادی، خود اعتمادی اور جدیدیت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جب کہ حیا، عفت اور اخلاقی حدود کی پاسداری کو بعض اوقات فرسودہ یا پسماندہ سوچ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف انسانی اقدار کو مسخ کرتا ہے بلکہ انسان کی اصل قدر و منزلت کو بھی ظاہری کشش اور وقتی مقبولیت تک محدود کر دیتا ہے۔ مسلمان عورت کا تصورِ شخصیت اس نظریے سے یکسر مختلف ہے۔ اسلام نے عورت کو پردے، حیا اور عفت کے ذریعے محدود نہیں کیا، بلکہ اسے عزّت، وقار، تحفّظ اور احترام کی مضبوط بنیادیں عطا کی ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں حیا محض لباس تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک جامع اخلاقی وصف ہے جو انسان کی نگاہ، گفتگو، طرزِ فکر، نشست و برخاست، برتاؤ اور مجموعی طرزِ زندگی میں نمایاں ہوتا ہے۔ یہی حیا انسان کے کردار کو وقار بخشتی اور معاشرے کو اخلاقی پاکیزگی عطا کرتی ہے۔ جب کوئی شخص اپنی شناخت اور مقبولیت کو دوسروں کی توجہ، تحسین اور داد و تحسین سے وابستہ کر لیتا ہے، اور خود کو محض نگاہوں کا مرکز بنانے کے لیے پیش کرتا ہے، تو رفتہ رفتہ اس کی شخصیت کا محور کردار، علم اور اخلاق کے بجائے ظاہری قبولیت اور وقتی شہرت بن جاتا ہے۔ یہی تبدیلی فرد کے اخلاقی توازن کو متاثر کرتی ہے اور بالآخر معاشرے میں ان اقدار کو کمزور کر دیتی ہے جن پر پاکیزہ، باوقار اور مہذب تہذیب کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔

وقت اللّٰہ تعالیٰ کی عطا کردہ انمول نعمتوں میں سے ایک ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جس سے انسان اپنی شخصیت کی تعمیر، علم کے حصول، کردار کی پختگی، عبادت، خدمتِ خلق اور زندگی کے اعلیٰ مقاصد کی تکمیل کرتا ہے۔ کامیاب اور باکردار افراد وقت کی قدر کو سمجھتے ہیں اور ہر لمحے کو اپنی فکری، علمی اور اخلاقی ترقی کا ذریعہ بناتے ہیں، جب کہ بے مقصد مشاغل اور غیر ضروری مصروفیات رفتہ رفتہ انسان کی صلاحیتوں کو زائل کر دیتی ہیں اور اسے اپنے حقیقی مقصدِ حیات سے غافل کر دیتی ہیں۔

سوشل میڈیا اپنی اصل میں ایک مفید ذریعۂ ابلاغ ہے، لیکن اس کا غیر متوازن اور بے مقصد استعمال وقت کے ضیاع کا ایک بڑا سبب بن سکتا ہے۔ مسلسل ریلز، مختصر ویڈیوز اور غیر ضروری مواد میں گھنٹوں مصروف رہنا نہ صرف قیمتی وقت کو ضائع کرتا ہے بلکہ انسان کی علمی اور فکری نشوونما کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مطالعے کا ذوق کمزور پڑنے لگتا ہے، یکسوئی اور توجہ منتشر ہو جاتی ہے، تخلیقی صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں اور زندگی کے تعمیری اہداف پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔ بالخصوص نوجوان نسل کے لیے یہ رجحان اس بات کا باعث بن سکتا ہے کہ وہ اپنی حقیقی ذمّہ داریوں اور مقصدِ زندگی سے بتدریج دور ہوتی چلی جائے۔

ایک مسلمان بیٹی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی قیمتی صلاحیتوں، توانائیوں اور وقت کو ایسے کاموں میں صرف کرے جو اس کی دنیا و آخرت دونوں کے لیے نفع بخش ہوں۔ علم و تعلیم کا حصول، ہنر کی ترقی، مطالعہ و تحقیق، کردار سازی، خاندان کی خدمت، معاشرے کی اصلاح اور امت کی فکری و اخلاقی تعمیر ایسے میدان ہیں جہاں اس کی صلاحیتیں حقیقی معنوں میں پروان چڑھ سکتی ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو شخصیت کو وقار عطا کرتا ہے، وقت کو بابرکت بناتا ہے اور انسان کو اپنے ربّ کی رضا اور معاشرے کی حقیقی خدمت کے قریب لے جاتا ہے۔

انسان اللّٰہ تعالیٰ کی بہترین تخلیق اور اشرف المخلوقات ہے۔ اس کی عزّت، وقار اور شخصیت کسی تجارتی شے یا نمائش کی چیز نہیں کہ اسے لوگوں کی پسند و ناپسند، لائکس، ویوز اور تبصروں کے ترازو میں تولا جائے۔ افسوس کہ سوشل میڈیا کے غیر متوازن اور بے احتیاط استعمال نے بعض افراد، خصوصاً نوجوانوں کو اس ذہنیت کی طرف دھکیل دیا ہے کہ وہ اپنی ذات، شخصیت اور نجی زندگی کو دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیں۔ یہ طرزِ عمل بتدریج انسان کی فکری، اخلاقی اور نفسیاتی شخصیت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ خود اعتمادی اللّٰہ تعالیٰ کی رضا، کردار کی مضبوطی اور حقیقی صلاحیتوں کے بجائے وقتی تعریفوں اور ظاہری پذیرائی کی محتاج بن جاتی ہے۔

انسان حقیقت کے بجائے ایک مصنوعی زندگی اختیار کرنے لگتا ہے، جہاں اصل کردار سے زیادہ تصویر، اندازِ نمائش اور ظاہری کشش کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یوں شخصیت کی گہرائی، علم کی سنجیدگی اور اخلاق کی پختگی پسِ منظر میں چلی جاتی ہے، جب کہ ظاہری نمائش ہی کامیابی کا معیار بن جاتی ہے۔ مسلمان بیٹی کی حقیقی عظمت اس بات میں نہیں کہ اسے کتنے لوگ دیکھتے ہیں یا اس کی تصاویر اور ویڈیوز کو کتنی پذیرائی حاصل ہوتی ہے، بلکہ اس کا اصل وقار اس میں ہے کہ اس کے علم، حیا، کردار، تقویٰ اور اخلاق سے کتنے دل روشن ہوتے ہیں، کتنے انسانوں کی اصلاح ہوتی ہے اور کتنے لوگوں کو خیر اور بھلائی کا راستہ ملتا ہے۔ اسلام عورت کو نمائش کا ذریعہ نہیں بلکہ عزّت، وقار، حیا اور معاشرے کی اخلاقی تعمیر کا عظیم سرمایہ قرار دیتا ہے۔

وقار انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ دولت، شہرت اور مقبولیت عارضی نعمتیں ہیں، مگر عزّتِ کردار، پاکیزگیِ سیرت اور نیک نامی وہ دولت ہے جو انسان کو زندگی میں بھی سربلند رکھتی ہے اور وفات کے بعد بھی اسے عزّت و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسان کی عزت، حیا اور وقار کی حفاظت کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ سوشل میڈیا پر کی جانے والی ہر سرگرمی محض ایک لمحاتی عمل نہیں ہوتی، بلکہ اکثر وہ مستقل ریکارڈ کا حصّہ بن جاتی ہے۔ بسا اوقات چند لمحوں کی جذباتی نمائش، وقتی شہرت یا توجہ حاصل کرنے کی خواہش مستقبل میں ندامت، بدنامی اور پشیمانی کا سبب بن جاتی ہے۔ جو چیز آج تفریح یا مقبولیت محسوس ہوتی ہے، وہ کل انسان کی عزّت، سماجی حیثیت اور اعتماد کو مجروح کر سکتی ہے۔

ایک باشعور اور دور اندیش انسان ہر قدم اٹھانے سے پہلے خود سے یہ سوال کرتا ہے: کیا میرا یہ عمل میرے وقار میں اضافہ کرے گا یا اسے مجروح کرے گا؟ کیا اس سے میرے والدین، خاندان اور معاشرے کا سر فخر سے بلند ہوگا یا شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا میں اس عمل کو اللّٰہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنے میں مطمئن ہوں گا؟ مسلمان بیٹی کا حقیقی حسن اس کی ظاہری نمائش میں نہیں، بلکہ اس کے حیا، وقار، کردار، علم اور تقویٰ میں ہے۔ یہی اوصاف اسے دنیا میں عزّت، معاشرے میں احترام اور آخرت میں اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنتے ہیں۔

مسلمان کا کردار صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے افعال، اخلاق اور طرزِ زندگی کے ذریعے اسلام اور اُمّتِ مسلمہ کی ایک اجتماعی تصویر بھی دنیا کے سامنے آتی ہے۔ بہت سے لوگ اسلام کو اس کے ماننے والوں کے کردار سے پہچانتے ہیں؛ اس لیے ایک مسلمان کا ہر عمل محض ذاتی معاملہ نہیں، بلکہ وہ اپنی تہذیب، اپنے دین اور اپنی اُمّت کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ اسی احساس کے تحت ہر مسلمان مرد و عورت کو یہ شعور ہونا چاہیے کہ اس کی گفتگو، لباس، معاملات، رویّے اور سوشل میڈیا پر موجودگی بھی اسلام کی دعوت اور اس کے اخلاقی پیغام کی عکاسی کرتی ہے۔

اگر اس کے اعمال اعلیٰ اخلاق، حیا، وقار اور ذمّہ داری کا نمونہ ہوں تو یہ اسلام کا خوبصورت تعارف بنتے ہیں، اور اگر اس میں بے احتیاطی، بے مقصد نمائش یا اخلاقی کمزوری ہو تو اس کے منفی اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری اُمّت کی اجتماعی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔ مسلمان بیٹی اگر علم، حیا، عفت، خدمتِ خلق، فکری و تخلیقی صلاحیتوں اور بلند کردار کا نمونہ بن جائے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان کی عزّت اور معاشرے کی زینت بنتی ہے، بلکہ پوری اُمّتِ مسلمہ کے لیے امید، اعتماد اور خیر کا روشن پیغام بھی ثابت ہوتی ہے۔ یہی وہ کردار ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنتا ہے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کا عملی تعارف پیش کرتا ہے۔

یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ اچھا ہے اور نہ برا؛ یہ محض ایک طاقتور ذریعۂ ابلاغ ہے۔ اس کی افادیت یا نقصان کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے کس مقصد، کس نیت اور کس انداز سے استعمال کیا جاتا ہے۔ جس طرح ایک ہی زبان سے خیر کی بات بھی کی جا سکتی ہے اور شر بھی پھیلایا جا سکتا ہے، اسی طرح سوشل میڈیا بھی علم، اصلاح اور خیر کا وسیلہ بن سکتا ہے یا بے مقصد تفریح، اخلاقی انحطاط اور وقت کے ضیاع کا سبب بھی۔ مسلم بیٹی اگر اس پلیٹ فارم کو مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کرے تو یہ اس کے لیے دعوت، خدمت اور اصلاح کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

وہ تعلیمی و تحقیقی مواد کی ترویج، دینی و اخلاقی شعور کی بیداری، مفید ہنر سکھانے، مثبت افکار و اقدار کے فروغ، خواتین کی رہنمائی، خاندان کی مضبوطی، معاشرتی مسائل کے حل اور انسانیت کی خدمت جیسے میدانوں میں قابلِ قدر کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس طرح اس کی آن لائن موجودگی محض نمائش نہیں بلکہ علم، خیر اور بھلائی کی اشاعت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اصل ضرورت سوشل میڈیا سے کنارہ کشی نہیں، بلکہ اس کے ذمّہ دارانہ، متوازن اور بامقصد استعمال کی ہے۔ جب شعور، تقویٰ، حیا، اعتدال اور اسلامی اخلاقی اصول انسان کی رہنمائی کریں تو یہی ذرائع امت کی فکری، اخلاقی اور سماجی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک مسلمان بیٹی کی اصل پہچان اس کے لائکس اور فالوورز کی تعداد نہیں، بلکہ اس کے کردار، علم، حیا اور اس خیر میں ہے جو اس کے ذریعے دوسروں تک پہنچتی ہے۔

نوجوان نسل کی اصلاح محض تنقید، ملامت یا پابندیوں سے ممکن نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے محبت، حکمت، اعتماد اور مؤثر تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کا ذمّہ دارانہ استعمال کریں تو انہیں صرف "کیا نہ کریں” یہ بتانا کافی نہیں، بلکہ "کیا کریں” اور "کیوں کریں” کا شعور بھی دینا ہوگا۔ مقصد، فکر اور مثبت متبادل سے محروم نوجوان آسانی سے وقتی رجحانات اور سطحی مقبولیت کے اثر میں آ جاتے ہیں۔ والدین کی اوّلین ذمّہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ اعتماد، محبت اور مکالمے پر مبنی مضبوط رشتہ قائم کریں، تاکہ وہ اپنی الجھنوں، سوالات اور مسائل کو بلا خوف و جھجک اپنے والدین کے سامنے رکھ سکیں۔

انہیں عزّتِ نفس، حیا، وقار اور اسلامی اخلاق کی حقیقی اہمیت سے روشناس کرائیں، ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے مثبت، بامقصد اور ذمّہ دارانہ استعمال کی تربیت دیں، اور ان کی صلاحیتوں کو علم، مطالعہ، تحقیق، ہنر، تخلیقی سرگرمیوں اور سماجی خدمت کی طرف پروان چڑھائیں۔ جب نوجوانوں کو تعمیری مصروفیات میسر آتی ہیں تو وہ بے مقصد مشغولیات سے خود بخود دور ہونے لگتے ہیں۔ اسی طرح معاشرے، تعلیمی اداروں، دینی مراکز، ذرائع ابلاغ اور سماجی قیادت کی بھی مشترکہ ذمّہ داری ہے کہ وہ ایسا ماحول تشکیل دیں جہاں نوجوانوں کو ان کے کردار، علم، صلاحیت، خدمتِ خلق اور اخلاقی عظمت کی بنیاد پر عزّت دی جائے، نہ کہ محض ظاہری نمائش، عارضی شہرت یا سوشل میڈیا کی مقبولیت کی بنیاد پر۔ جب معاشرے کے معیار بدلیں گے تو نوجوانوں کی ترجیحات بھی بدلیں گی، اور ایک ایسی نسل پروان چڑھے گی جو حیا، وقار، علم اور کردار کو اپنی اصل کامیابی سمجھے گی۔

مسلمان بیٹی کی حقیقی خوبصورتی اور اصل پہچان اس کی ظاہری نمائش، وقتی مقبولیت یا لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اس کے ایمان، علم، حیا، اخلاق، وقار اور بلند کردار میں ہے۔ ظاہری حسن وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے، جبکہ اچھا کردار وہ دولت ہے جو انسان کو دیرپا عزّت، اعتماد اور احترام عطا کرتی ہے۔ دنیا کی وقتی داد، چند لمحوں کی شہرت اور عارضی مقبولیت کبھی بھی ایک باوقار اور پاکیزہ زندگی کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ حقیقی عظمت اس بات میں ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو خیر، علم، خدمت اور مثبت اثرات کے لیے استعمال کرے، تاکہ اس کی پہچان محض ایک تصویر یا نمائش کے طور پر نہیں بلکہ ایک باکردار اور بااثر شخصیت کے طور پر ہو۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری بیٹیاں سوشل میڈیا کی دنیا میں صرف دیکھے جانے والی شخصیات نہ بنیں، بلکہ ایسی باعلم، باصلاحیت، باحیا اور باکردار خواتین بنیں جن کی موجودگی معاشرے میں عزّت، امید اور بھلائی کا پیغام عام کرے۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو اپنی ذات کی نمائش کے بجائے علم کے فروغ، اصلاحِ معاشرہ اور انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بنائیں۔ حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ لوگ ہمیں کتنی دیر تک دیکھتے ہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ لوگ ہمارے کردار، اخلاق اور عمل سے کتنی دیر تک متاثر رہتے ہیں۔ کیونکہ شہرت وقت کے ساتھ ختم ہو سکتی ہے، لیکن اچھا کردار انسان کے بعد بھی اس کی پہچان باقی رکھتا ہے۔
🗓️ (August 2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے